?️
ریاض(سچ خبریں) دُنیا بھر کو کورونا وائرس کی وبا کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے حج صرف مملکت میں مقیم افراد تک محدود کر دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے حج کی سعادت حاصل کرنے کے منتظر لاکھوں پاکستانی عازمین کی اُمیدوں پر بھی اوس پڑ گئی تھی۔ اس بار یہ سُننے میں آ رہا تھا کہ سعودی عرب سے باہر مقیم افراد کو بھی حج کے لیے سعودی مملکت آنے کی اجازت دی جائے گی۔
تاہم ان کی تعداد محدود ہو گی۔ مگر یہ خبر درست ثابت نہیں ہوئی ہے۔حرمین شریفین کی جانب سے جاری ٹویٹر بیان میں کہا گیا ہے ” دُنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورت حال اور وائرس کی نئی اقسام سامنے آنے کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس بار 1442ھ کا حج صرف سعودی مملکت میں مقیم مقامی افراد اور غیر ملکیوں تک محدود ہو گا، جن کی گنتی 60 ہزار سے زائد نہیں ہو گی۔
سعودی وزارت حج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس سال کے لیے حج پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے تحت گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی حج صرف سعودی عرب میں مقیم افراد ہی کر سکیں گے جن میں مقامی اور تارکین وطن شامل ہیں۔ اس طرح پاکستان کے ان لاکھوں افراد کو اس بار بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس بار حج بیت اللہ کی اُمید لگائے بیٹھے تھے۔
انہیں اُمید تھی کہ اس بار وہ بھی حج کی سعادت حاصل کرنے والے خوش نصیبوں میں شامل ہوں گے۔ سعودی وزارت حج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس بار صرف 60 ہزار افراد کو حج کی اجازت ہو گی، یہ وہ افراد ہوں گے جو سعودی مملکت میں ہی مقیم ہیں جن میں مقامی اور غیر ملکی شامل ہیں۔ مملکت سے باہر کسی بھی شخص کو حج کے لیے سعودیہ آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی وزارت اطلاعات و نشریات ماجد القصبی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دُنیا بھر میں کورونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آنے، اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور کئی ممالک میں سست رفتار ویکسی نیشن عمل کی وجہ سے فی الحال حج کی پالیسی اور طریقہ کار واضح نہیں ہو سکا ہے۔
تاہم اب جبکہ حج کی آمد میں وقت کم رہ گیا ہے، اس لیے اگلے چند روز میں وزیر صحت اور وزیر حج و عمرہ کی جانب سے حج کے طریقہ کار کا اعلان کر دیا جائے گا۔ جس سے گومگو کی کیفیت بھی ختم ہو جائے گی۔ دونوں وزارتوں کورونا وائرس کے باعث درپیش صورت حال کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ حج کی ادائیگی اس طرح سے ہوپائے کہ سعودی مملکت اور دیگر مسلم ممالک میں وائرس کا پھیلاؤ ممکن نہ ہو، ا س لیے بہت زیادہ سوچ بچار کی جا رہی ہے۔


مشہور خبریں۔
بحیرہ احمر میں یمنیوں کی کاروائیاں کب تک جاری رہیں گی؟
?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن
جنوری
حکومتی بچت سے حاصل رقم موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف
?️ 14 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت حکومتی بچت
مارچ
بھارتی فوجیوں نے بارہمولہ میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا
?️ 13 مئی 2023سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر
مئی
تائی پے اور واشنگٹن کی ملی بھگت پر چین کا فوجی جواب
?️ 15 اگست 2022سچ خبریں: چین کی وزارت دفاع نے امریکی کانگریس کے نمائندوں
اگست
ایران نے ہم سے فوجی مدد نہیں مانگی: پاکستانی وزیر دفاع
?️ 16 جون 2025سچ خبریں: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیلی ریژیم کے خلاف
جون
یک قطبی ترتیب کا زوال؛ دنیا کے نئے قوانین کون قائم کرے گا؟
?️ 29 اپریل 2023سچ خبریں:امریکہ اور مغرب اب صرف قانون ساز نہیں رہے ہیں۔ بلکہ،
اپریل
بھارت کے پاکستان کے 6 مقامات پر میزائلوں سے حملے، 8 شہری شہید، 35 زخمی
?️ 6 مئی 2025راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت
مئی
صیہونیوں کے درمیان شدید بے اعتمادی
?️ 25 جون 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کی ریخمین یونیورسٹی سے منسلک ہرزلیہ سینٹر کے
جون