جنرل عاصم منیر اور امریکی کمانڈر مائیکل ارک کوریلا کا سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل مائیکل ارک کوریلا اور پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وڈیو ٹیلی کانفرنس پر بات کرتے ہوئے پاکستان اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مربوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

 امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل مائیکل ارک کوریلا نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے ساتھ وڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے بات چیت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فوجی سربراہان کے درمیان اس وقت جان پہچان ہوئی تھی جب جنرل مائیکل ارک کوریلا کینٹ کام کے چیف آف اسٹاف تھے۔

امریکی فوجی ادارے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’جنرل مائیکل ارک کوریلا نے جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کی کمانڈ سنبھالنے پر مبارک دی اور دونوں سربراہان نے پاکستان اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی۔‘

اس سے قبل ڈان نے پاکستان میں فوجی قیادت کی تبدیلی اور باہمی تعلقات پر اثرات کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سے مؤقف لیا تو انہوں نے 29 نومبر کو اسی طرح کا مختصر بیان جاری کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان 75 سال سے اہم تعلقات رہے ہیں اور امریکا، پاکستان اور خطے کے عوام کے لیے استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تھا کہ ’ سینیئر فوجی قیادت کی تعیناتی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،لہٰذا کسی بھی اضافی سوال کے لیے میں آپ کو پاکستانی حکومت کے ساتھ رجوع کرنے کی تجویز دیتا ہوں۔’

تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے جاری کیے گئے مختصر بیانات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے دو اہم نکات ’سیکیورٹی تعاون‘ اور اس تعاون کو جاری رکھنے کی خواہش پر مرکوز ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں واشنگٹن کی طرف سے پاکستانی فوج کے سیاست سے دور رہنے کی خواہش کا احترام کرنے اور افغانستان جیسے مسائل کا ذکر کرنے سے گریز کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے جن کو سیاسی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کی سابق ملازمہ لیزا کرٹس نے واشنگٹن میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا، پاکستان میں فوجی کمانڈ کی تبدیلی پر گہری نظر رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ فیصلہ سازی میں فوج کا بڑا اثر ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کا مستقبل اس بات پر مرکوز ہوگا کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا بلکہ اسے زیادہ اہمیت اس بات پر ہوگی کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا۔‘

مشہور خبریں۔

پوٹن کا قتل بائیڈن انتظامیہ کا موقف نہیں ہے:وائٹ ہاؤس

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:   تجربہ کار امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کو روسی صدر ولادیمیر

ایوانکا ٹرمپ 2024 کے الیکشن میں اپنے والد کی حمایت کیوں نہیں کر رہیں؟

?️ 24 نومبر 2022سچ خبریں:گارڈین میگزین نے اپنی ایک رپورٹ میں ایوانکا ٹرمپ کے 2024

تل ابیب کا فلسطینی بھوکوں کے لیے مہلک منصوبہ

?️ 11 اگست 2025سچ خبریں: گارڈین اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ

مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

?️ 23 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد

پہلا امریکی پوپ کون ہے؟

?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: بالآخر، ویٹیکن میں کارڈینلز کے دو دن کے غور و

گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کا بھارتی الزام مسترد کرتے ہیں۔ دفتر خارجہ

?️ 20 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی

ایٹمی شعبے کے فوجی نظریے میں تبدیلی کا امکان ہے: خرازی

?️ 2 نومبر 2024سچ خبریں: سینئر ایرانی سفارت کار کمال خرازی نے لبنان کے المیادین

Bali United recruit Milos Krkotic, ex-Montenegro national team players

?️ 11 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے