?️
لاہور: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جاوید چوہدری کے کالم میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کی طرف سے اعترافات نے موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیا، ہم پہلے ہی دن سے کہہ رہے تھے کہ اس حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور اب سابق آرمی چیف کی باتیں سامنے آنے کے بعد اس حکومت کی رہی سہی کسر بھی ختم ہو گئی ہے۔
فواد چوہدری نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سینئر صحافی جاوید چوہدری نے ایک کالم لکھا ہے کہ جس میں انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے حوالے سے تین چار اہم باتیں لکھی ہیں لیکن اس کالم میں جنرل باجوہ نے جو چار اعترافات کیے ہیں وہ بہت اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی اہم بات جو اس کالم میں جنرل باجوہ نے کہی وہ یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا، یہی بات پی ٹی آئی پہلے سے کہہ رہی تھی۔
تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ حکومت کی تبدیلی باہر کی حکومتوں کو خوش کرنے کے لیے کی گئی کیونکہ بڑے ملک ناراض ہو گئے تھے اور اگر ہم نہ بدلتے تو پاکستان کا نقصان ہو جاتا، ہم سعودی، ترکی، امریکا اور متحدہ عرب امارات سمیت تمام ممالک سے قریبی تعلقات کے حامی ہیں، ہم چین کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامی ہیں لیکن یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہمارا دوست ملک ہو یا دوست ملک نہ ہو، وہ ہمیں بتائے کہ پاکستان کے اندر حکومت کس کی ہو گی، پاکستان کے اندر حکومت کا فیصلہ پاکستان کے لوگوں نے کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف کا یہ اعتراف پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے اور یہ کہنا کہ باہر کی حکومتیں خوش نہیں تھیں اس لیے ہم نے عمران خان کو تبدیل کردیا، یہ بات ناقابل قبول ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس معاملے کو کیسے آگے لے کر جائیں گے، یہ کہنا کہ پرانی حکومت خوش نہیں تھی تو ہم نے سوچا کہ اس کو تبدیل کردیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جاوید چوہدری صاحب نے جنرل باجوہ کے حوالے سے تیسری اہم بات لکھی ہے کہ ڈیل یہ ہورہی ہے کہ نواز شریف کے مقدمے ختم ہو جائیں اور نیب سے شوکت ترین کا مقدمہ بھی آرمی چیف نے ختم کروایا، یہی بات عمران خان کہہ رہے تھے کہ نیب اور عدلیہ پر اثرورسوخ استعمال کیا جا رہا تھا اور فیصلے ہو رہے تھے کہ کس نے کیا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف جرم بہت اہمیت کا حامل ہے اور اگر جنرل باجوہ یہ کہہ رہے ہیں کہ شوکت ترین کا مقدمہ انہوں نے ختم کروایا تو یہ پاکستان کے عدالتی نظام میں سنگین مداخلت اور بہت بڑا اعتراف ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ معیشت ٹھیک نہیں چل رہی تھی تو اس وجہ سے ہمیں مداخلت کرنی پڑ رہی تھی اور رضا باقر نے ان سے کہا کہ معاملات بہت خراب ہو گئے ہیں تو آپ آ کر دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بتائیے کہ کونسے ملک کا آرمی چیف اسٹیٹ بینک کے گورنر اور وزیر خزانہ کی سوچ کو ڈیل کرتا یا اسے دیکھتا ہے، آپ معیشت کے ماہر نہیں ہیں اور اس کے بعد پچھلے نو مہینے میں جو معیشت کا حال ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جاوید چوہدری کے کالم میں باجوہ صاحب کی طرف سے جو اعترافات ہوئے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس نے موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیا، ہم پہلے ہی دن سے کہہ رہے تھے کہ اس حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن اب سابق آرمی چیف کی طرف سے یہ باتیں سامنے آئی ہیں اس سے اس حکومت کی رہی سہی کسر بھی ختم ہو گئی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہم اسی لیے یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے بحران کا حل صرف اور صرف نئے انتخابات میں ہے اور ہم جتنی جلدی نئے انتخابات کی طرف جائیں گے، اتنی ہی جلدی پاکستان کو انتخابات سے نکال پائیں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے اندر اب کافی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور اب کیپٹن صفدر نے جو باتیں کہی ہیں، ان میں وزن ہے اور ہم سیاسی جماعتوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ پاکستان میں آگے کس طرح سے قانون کی حکمرانی کی بات کریں گی۔
معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے گزشتہ روز مقامی روزنامہ میں ’عمران خان کی جنرل باجوہ سے دو ملاقاتیں‘ کے عنوان سے کالم تحریر کیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم کی سابق آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ چند اہم انکشافات اور دعوے بھی کیے گئے۔
انہوں نے لکھا کہ عمران خان کی جنرل باجوہ سے پہلی ملاقات 22 اگست کو ہوئی جو بری طرح ناکام ہوئی اور دوسری ملاقات ستمبر میں ہوئی اور صدر مملکت کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود یہ ملاقات بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔
انہوں نے کالم میں دعویٰ کیا کہ جنرل باجوہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے عمران خان کو اسمبلی سے مستعفی ہونے سے روکا تھا اور ان سے کہا تھا کہ ’آپ اسمبلی میں رہیں، آپ کو دوسرا موقع مل جائے گا‘ لیکن عمران خان نے میرا میسج پڑھ کر جواب نہیں دیا اور یوں ان سے رابطہ ختم ہو گیا۔
کالم کے مطابق جنرل باجوہ نے کہا کہ ہم نے عمران خان کی حکومت نہیں گرائی بلکہ ہمارا جرم صرف یہ تھا کہ ہم نے ان کی حخومت بچائی کیوں نہیں، میں اگر اپنا فائدہ دیکھتا تو یہ میرے لیئے سب سے سوٹ ایبل تھا لیکن میں نے ملک کے لیے اپنے امیج کی قربانی دی اور مشکل لیکن درست فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عمران خان کو شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانے سے بھی روکا لیکن وہ نہیں مانے اور الٹا ہم سے کہہ دیا کہ ان کے خلاف کیسز ختم کروائیں اور یوں جنرل فیض حمید نے شوکت ترین کے نیب سے کیسز ختم کرائے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی پراسیکیوٹر کے دفتر نے نیتن یاہو کے مقدمے کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کرنے کی مخالفت کی ہے
?️ 27 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر
جون
یوکرین جنگ عالمی جنگ ہے/ جلدی ختم نہیں ہونے والی:پوپ
?️ 19 دسمبر 2022سچ خبریں:عالمی کیتھولک رہنما پوپ فرانسس نے ہسپانوی اخبار اے بی سی
دسمبر
صیہونیوں کے ہاتھوں حماس کے مزید 3 لیڈر گرفتار
?️ 12 اپریل 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت نے فلسطین کے قومی انتخابات میں اسلامی مزاحمتی تحریک
اپریل
کیا حماس کو اس کے کمانڈروں کو مار کر ختم کیا جا سکتا ہے؛ صہیونی مورخ کا اعتراف
?️ 1 فروری 2025سچ خبریں:ایک سرکردہ صہیونی مورخ اور متنازعہ قلمکار میخائیل بن آری نے
فروری
امریکہ دنیا کا سب سے بڑا جاسوس ہے: بیجنگ
?️ 13 فروری 2023سچ خبریں:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے امریکہ کو
فروری
بجلی صارفین کو مزید ریلیف دینے کیلئے حکومت نے نیپرا سے رجوع کرلیا
?️ 28 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے بجلی صارفین کو مزید ریلیف
مارچ
خطہ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کس کے ساتھ ہے؟ جماعت اسلامی کا بیان
?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے اسرائیل
اکتوبر
قیدیوں کی رہائی آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں ممکن
?️ 15 نومبر 2023سچ خبریں:اس صہیونی اہلکار نے، جس کا مقام اور نام ظاہر نہیں
نومبر