?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت داخلہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس کی بندش کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایکس کی بندش کا فیصلہ قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزارت داخلہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس کی بندش کے خلاف درخواست پر رپورٹ جمع کرادی۔
وزارت داخلہ نے استدعا کی ہے کہ درخواست گزار کا کوئی بنیادی حق سلب نہیں ہوا، درخواست کو ابتدائی مرحلے میں ہی خارج کیا جائے۔
مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایکس کی بندش کے خلاف درخواست قانون و حقائق کے منافی ہے، قابل سماعت ہی نہیں، ایکس پاکستان میں رجسٹرڈ ہے، نہ ہی پاکستانی قوانین کی پاسداری کے معاہدے کا شراکت دار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایکس کی جانب سے پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متعلق حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہیں کی گئی، حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہ ہونے پر ایکس پر پابندی لگانا ضروری تھا۔
وزارت داخلہ نے رپورٹ میں کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے ایکس سے چیف جسٹس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس پر پابندی کی درخواست کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکس حکام نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی درخواست کو نظر انداز کیا، جواب تک نہ دیا، ایکس حکام کا عدم تعاون ایکس کے خلاف ریگولیٹری اقدامات بشمول عارضی بندش کا جواز ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کے پاس ایکس کی عارضی بندش کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی درخواست پر وزارت داخلہ نے 17 فروری 2024 کو ایکس کی بندش کے احکامات جاری کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایکس کی بندش کا فیصلہ قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا، شدت پسندانہ نظریات اور جھوٹی معلومات کی ترسیل کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ نے رپورٹ میں کہا کہ چند شر پسند عناصر کی جانب سے امن و امان کو نقصان پہنچانے، عدم استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایکس کو بطور آلہ استعمال کیا جا رہا ہے، ایکس کی بندش کا مقصد آزادی اظہار رائے یا معلومات تک رسائی پر قدغن لگانا نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایکس پر بندش کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا قانون کے مطابق ذمہ دارانہ استعمال ہے، وزارت داخلہ پاکستان کے شہریوں کی محافظ اور قومی استحکام کی ذمہ دار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستانی قانون کی پاسداری کے معاہدے پر دستخط کے بعد پابندی کو ختم کردیا گیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکس کی بندش آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف وزری نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا ہیگ کی عدالت نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرے گی؟
?️ 21 مئی 2024سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اعلان کیا
مئی
تل ابیب کا جوا اور وقت ختم ہوا
?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں:غزہ جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی
دسمبر
یورپی یونین امریکہ کے جواب کی منتظر
?️ 19 اگست 2022سچ خبریں: امریکی ویب سائٹ ڈپلومیٹک نے جمعرات 18 اگست کو
اگست
بلوچستان: حادثے میں چھ کوئلہ کان کنوں کی ہلاکت کی تصدیق
?️ 12 مارچ 2021بلوچستان(سچ خبریں) بلوچستان میں جمعرات کو کوئلے کی کان میں پیش آنے
مارچ
امریکہ پاکستانی فضائیہ کو F-16 طیارے فروخت کرنے کو تیار
?️ 20 اکتوبر 2022سچ خبریں:پاکستان کو F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر بھارت کی تشویش
اکتوبر
صیہونیت کی عالمی مذمت
?️ 15 اکتوبر 2023سچ خبریں:آج بروز اتوار غزہ کے باشندوں پر صیہونی حکومت کے حملوں
اکتوبر
جنگ بندی کے بغیر اسرائیلی قیدی غزہ سے زندہ واپس نہیں آئیں گے: حمدان
?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: فلسطینی تحریک حماس کے سینیئر رہنما اسامہ حمدان نے صہیونی
ستمبر
یوکرین جنگ کس نے شروع کی؟
?️ 6 اکتوبر 2023سچ خبریں: روس کے صدر نے والدائی بین الاقوامی کانفرنس میں اعلان
اکتوبر