ایم کیو ایم کا سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ سے متعلق حکومتی اتحاد کے مؤقف سے اظہارِ لاتعلقی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) انتخابات کے التوا کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے آج سماعت کے دوبارہ آغاز کے پیشِ ںظر حکومت بھی اپنی حکمت عملی تیار کررہی ہے تاہم حکومتی اتحاد میں اس وقت واضح دراڑیں نظر آئیں جب متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے اسے ’دو جماعتوں کا مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔

ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یکم اپریل کو لاہور میں حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی تاہم وہ کراچی پریس کلب میں ’میٹ دی پریس پروگرام‘ میں شرکت کے لیے جلد ہی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اس اجلاس میں سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، اجلاس میں سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے دیگر نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا اور پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں تاخیر سے متعلق اِس تین رکنی بینچ کی کارروائی فوری طور پر ختم کرنے اور ازخود نوٹس کیس میں چار رکنی اکثریتی فیصلے کو قبول کرنے کا مطالبہ کیا گیا‘۔

ایم کیو ایم-پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے خلاف حکمران اتحاد کے مؤقف کی حمایت کرنے سے متعلق سوال پر ترجمان ایم کیو ایم-پاکستان نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پی ڈی ایم میں شامل 2 جماعتوں کا مسئلہ ہے، ہم اس کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں، پی ڈی ایم نے اس سلسلے میں ایم کیو ایم-پاکستان سے رابطہ نہیں کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ان فیصلوں کا حصہ نہیں ہیں جو مبینہ طور پر لاہور میں یکم اپریل کے اجلاس میں کیے گئے کیونکہ وہ اپنی مصروفیات کے سبب اجلاس کے اختتام سے پہلے ہی چلے گئے تھے۔

ایم کیو ایم-پاکستان کا تازہ ترین مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ قیاس آرائیوں جاری ہیں کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو ایم کیو ایم-پاکستان سے رابطے بحال کرنے کے لیے کراچی بھیجا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پی ٹی آئی صدر چوہدری پرویز الہٰی کے ساتھ ایم کیو ایم-پاکستان کے بعض رہنماؤں سے رابطے کی اطلاعات ہیں، تاہم ایم کیو ایم-پاکستان کی سینیئر قیادت ایسی کسی پیش رفت کے بارے میں خاموش ہے۔

پارٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’ایم کیو ایم-پاکستان وفاق میں حکمران اتحاد کا حصہ ہے لیکن یہ پی ڈی ایم کی اتحادی جماعت نہیں ہے، پی ڈی ایم کا اپنا مؤقف ہے، پیپلزپارٹی بھی پی ڈی ایم کے ہر مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی اور اسی طرح ایم کیو ایم-پاکستان بھی پی ڈی ایم کے ہر مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی‘۔

ایم کیو ایم پی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہماری پارٹی کسی بھی ریاستی ادارے بالخصوص عدالت عظمیٰ سے تصادم نہیں چاہتی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں ملوث ہونے پر ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑا، ہم اسے دہرانا نہیں چاہتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم-پاکستان میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، انہیں گزشتہ سال ایم کیو ایم کے ساتھ دستخط کیے گئے ’چارٹر آف رائٹس‘ پر عمل درآمد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، ملک میں جاری ڈیجیٹل مردم شماری میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بھی وفاقی حکومت کوئی بامعنی قدم نہیں اٹھا رہی‘۔

ترجمان ایم کیو ایم-پاکستان نے تصدیق کی کہ ’پی ٹی آئی قیادت نے ایم کیو ایم سے رابطہ کیا ہے اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم-پاکستان پہلے اپنی رابطہ کمیٹی سے مشاورت کرے گی اور پھر فیصلہ کرے گی‘۔

مشہور خبریں۔

ادارے میں ’نیوٹریلٹی‘ کے آثار نظر نہیں آرہے، اسد عمر

?️ 27 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی  کے جنرل سیکریٹری اسد عمر

عراق کے مستقبل کے وزیر اعظم کو درپیش چیلنجز

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: عراق کے مستقبل کے وزیر اعظم کو یقیناً اپنے کیرئیر

الیکشن کمیشن نے ابتدائی حلقہ بندیوں پر ’فافن‘ کا تجزیہ غلط فہمی پر مبنی قرار دے دیا

?️ 3 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے ابتدائی حلقہ بندیوں میں مختلف

ٹرمپ کی حمایت کے بعد ماگا کے حامی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مارجوری ٹیلر گرین

نفتالی بینیٹ نےاسرائیل حکومت کو دہشت گرد قرار دیا

?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں:الاقصیٰ طوفان آپریشن کی ناکامی کی وجہ سے پیدا ہونے والے

ٹرمپ اور روس کے درمیان تعلقات میں ہلیری کلنٹن شامل

?️ 21 مئی 2022سچ خبریں: 2016 کے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کی مہم

اسرائیلی حکومت شام کے 440 مربع کلومیٹر علاقے پر قابض 

?️ 18 دسمبر 2024سچ خبریں: لبنان کے المیادین نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ

مونس الہٰی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ کالعدم قرار دینے کےخلاف اپیل، ایف آئی اے سے ریکارڈ طلب

?️ 15 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر اور سابق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے