ایشیائی، اسلامی ترقیاتی بینک کا فلڈ پروٹیکشن پروجیکٹ کیلئے 66.5 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) نے پاکستان کو 195 ارب روپے کے فلڈ پروٹیکشن سیکٹر پروجیکٹ۔III (ایف پی ایس پی) کی مالی معاونت کے لیے تقریباً 66 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس فنڈ سے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف لچک پیدا کی جاسکے گی اور اسٹرکچرل و نان اسٹرکچرل دونوں طریقے سے سیلاب کے حوالے سے جامع انتظامات کیے جاسکیں۔

سرکاری ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) نے متعلقہ وزارتوں اور حکام کو بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک نے بالترتیب 40 کروڑ ڈالر اور 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رقم کے ساتھ ایف پی ایس پی کی فنانسنگ پر اتفاق کیا ہے جبکہ چین کی جانب سے 10 کروڑ ڈالر گرانٹ کی بھی توقع ہے

ای اے ڈی کی تصدیق کی بنیاد پر قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے حال ہی میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں باضابطہ قرض کے معاہدوں اور منصوبے کے لیے 194.63 ارب روپے کی کل لاگت کے ساتھ ایف پی ایس پی-III پروجیکٹ کی دستاویزات کو منظور کیا کیا ہے۔

وزارت آبی وسائل کی طرف سے تیار کردہ اور ملک بھر میں اس پر عمل درآمد کے منصوبے کو وفاقی و صوبائی اور ڈونر فنانسنگ کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔ 20 فیصد حکومتی ایکویٹی وفاق اور صوبوں کی طرف سے 10 فیصد (19.5 ارب روپے ہر ایک کے ساتھ شیئر کی جائے گی جبکہ باقی 80 فیصد (تقریباً 156 ارب روپے) قرض دہندگان کی فنانسنگ پر مشتمل ہو گی۔

منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی سہ ماہی اجلاسوں کے ذریعے وزیر برائے منصوبہ بندی کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی، اور اس میں آبی وسائل، منصوبہ بندی، ہوا بازی، صوبائی چیف سیکریٹریز، آبپاشی کے سیکریٹریز، واپڈا اور وفاقی فلڈ کمیشن کے چیئرمین، ممبر واٹر پلاننگ کمیشن اور ممبران شامل ہیں۔

اسی طرح وزارت آبی وسائل اور وزارت منصوبہ بندی کی مانیٹرنگ ٹیمیں عمل درآمد کے مرحلے کے دوران مخصوص مداخلت کی نگرانی کریں گی اور اپنے نتائج کی رپورٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کو دیں گی، الگ الگ دستاویزات بشمول ماحولیاتی اثرات، امکانات، انجینئرنگ ڈیزائن اور ہر مداخلت کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ کی صوبائی اور علاقائی سطح کے حوالے سے رپورٹ بھی متعلقہ ایجنسیوں جمع کروائیں گی۔

آبی وسائل کے وزیر نے پہلے ہی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کو خطوط لکھے ہیں کہ وہ ہر صوبے میں واقع تمام انفرادی ذیلی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے مالیاتی مرحلے کے مطابق اپنے فنڈز کے حصص بروقت دستیاب کرائیں۔

اس منصوبے سے اضافی اور نئی مداخلتوں کے ذریعے سیلاب سے بچاؤ کی موجودہ معمولی سہولیات کو بڑھانا ہے اور نکاسی آب کے نیٹ ورک میں نالوں اور آبی گزرگاہوں کی بحالی اور از سر نو تعمیر کے ذریعے بہتری لانا ہے، خاص طور پر صوبہ سندھ میں جہاں 2022 کے سیلاب نے تباہی مچائی تھی، اس کے علاوہ ملک میں سیلاب ٹیلی میٹری نیٹ ورک کی تنصیب کرنا ہے تاکہ تمام دریا، نالے اور ندی نالوں کی ابتدائی، ثانوی سطح پر سیلاب کی درست پیش گوئی اور انتباہ جاری کیا جاسکے۔

مزید بتایا کہ اس میں سیلاب کی نگرانی کے لیے اسٹیشنری اور موبائل موسمی ریڈارز کی تنصیب بھی شامل ہے، جس میں کوئٹہ، کراچی، حیدر آباد، پشاور، گلگت، ملتان اور مظفرآباد میں علاقائی سیلاب سے قبل الرٹ کرنے کے مراکز کا قیام بھی شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

مغربی کنارے میں صہیونی حملے میں ایک شہید اور چھ زخمی

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:  شہاب نیوز ویب سائٹ کے مطابق جب صیہونیوں کی فلسطینی نوجوانوں

بجلی کی پیداوار کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا

?️ 7 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ  ملک

ایران کا امریکی سمندری ڈکیتی پر گوٹریس کو خط 

?️ 22 اپریل 2026 سچ خبریں:اقوام متحدہ میں ایران کی نمائندگی نے سیکرٹری جنرل اقوام

اشنا شاہ بھی بنیادی سہولیات فراہم نہ ہونے سے پریشان

?️ 14 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اشنا شاہ بھی عام

اس سال یوم قدس پچھلے سالوں سے مختلف کیوں تھا؟

?️ 17 اپریل 2023سچ خبریں:واضح رہے کہ کئی وجوہات کی بنا پر اس سال عالمی

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد اتفاق رائے سے آئینی ترمیم کی جائے گی، عرفان صدیقی

?️ 12 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان

سعودی وزیر کا امریکہ کے بارے میں اظہار خیال

?️ 20 مارچ 2021سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ کے مشیر عادل جبیر کا کہنا ہے کہ

اسرائیل خوف کی جنگ میں غرق

?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں:یدیعوت احرانوت نے لکھا ہے کہ اسرائیل کو اس نوعیت کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے