?️
لاہور: (سچ خبریں) مسلم لیگ(ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ معیشت مستحکم ہوگی تو پاکستان ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار ہو گا، آج وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے کہ اس ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام آئے اور اگر ہمیں معاشی ترقی کرنی ہے تو سیاسی استحکام لانا پڑے گا۔
لاہور میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آج 12 اکتوبر ہے اور آج کے دن میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو دوسری مرتبہ مارشل لا کے ذریعے ختم کیا گیا تھا، یہ وہ دور تھا جب 28مئی 1998 کو پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا اور جب 20 فروری 1999 کو بھارتی وزیر اعظم واجپائی واہگہ کے ذریعے پاکستان آئے تھے اور مینار پاکستان پر جا کر کہا تھا کہ پاکستان بنتے وقت ہمارے دلوں پر بہت گھاؤ لگے تھے لیکن آج ہم پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ یہ وہ دور تھا کہ جب واجپائی نے نواز شریف کو کہا تھاکہ میری خواہش ہے کہ ایک سال کے اندر اندر کشمیر کا مسئلہ منصفانہ بنیادوں پر حل ہو جائے اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح آج کے دن 12 اکتوبر 1999 کو حکومت کو ختم کیا گیا اور کشمیر کے لاہور کے اعلامیے کو اس آمر کی حکومت دور میں ’سیل آؤٹ آف کشمیر‘ کا نام دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کا تیسرا دور آیا تو آپ سب گواہ ہیں کہ 20، 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی لیکن نواز شریف نے اس مسئلے کو حل کیا، لاہور میٹرو کو لے لیں جہاں یہ منصوبہ نواز شریف کے دور 30ارب روپے میں مکمل ہوا جس میں آج لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں، کسی سے نواز شریف کے دور میں اورنج لائن لائن کا منصوبہ مکمل ہوا حالانکہ نے پی ٹی آئی نے اس منصوبے کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دے کر طرح طرح کے الزامات لگائے جس سے یہ منصوبہ تین سال تاخیر کا شکار ہوا۔
مسلم لیگ(ن) کے صدر نے کہا کہ جب 2018 میں نواز شریف کا سفر ختم کیا گیا تو کس طرح پاکستان میں اندھرے اور تباہی ہوئی، مہنگائی کر کے معاش کا قتل عام کیا گیا، پھر میں نے مخلوط حکومت میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالا اور نواز شریف کی قیادت میں ہم نے ریاست کو بچایا اور سیاست کی پرواہ نہیں کی، اگر خوانخواستہ ریاست نہ بچتی تو سیاست تو ویسے ہی دفن ہو جانی تھی، ریاست بچ گئی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مجھ سمیت مخلوط حکومت کے تمام زعما کو اس بات کا اطمینان ہے کہ ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے سیاست قربان کی، ہم بھی چاہتے تو پچھلی حکومت کی طرح ریاست کو برباد ہونے دیتے اور سیاست کو بچا لیتے لیکن ہم نے کہا کہ ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہیں البتہ پاکستان کے نام پر کوئی آنچ نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا اور ہم جو بھی خدمت کر سکتے تھے وہ ہم نے کی، پھر مہنگائی تھی جو ہمارے دور سے پہلے تیزی سے بڑھ رہی تھی، وہ ہمیں ورثے میں ملی، ہم نے رمضان میں 70ارب روہے کی سبسڈی دے کر سستا آٹا پورے پنجاب میں مہیا کیا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ تاجر کی دکان چلے گی تو پاکستان چلے گا، خریدوفروخت ہو گی تو پاکستان خوشحال ہو گا، معیشت مستحکم ہوگی تو پاکستان تری اور خوشحالی سے ہمکنار ہو گا، آج وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے کہ اس ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام آئے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں معاشی ترقی کرنی ہے تو سیاسی استحکام لانا پڑے گا، اگر غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرنا ہے تو پیار محبت کو آگے پروان چڑھانا ہو گا، اگر ہمیں پاکستان اس کے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے اور پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کی پذیرائی کرنی ہے تو ہمیں اس ملک میں تقسیم کو ختم کرنا ہو گا اور یہی وہ مقصد ہے کہ جس کے لیے نواز شریف 21 تاریخ کو پاکستان تشریف لا رہے ہیں۔
انہوں نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ واقعی نواز شریف کے چاہنے والے ہیں تو ایک نظر دوڑا لیں کہ نواز شریف کے ادوار میں کیا پاکستان میں ترقی اور خوشحالی ہوتی یا گالی گلوچ ہوتی تھی یا ملک کے اندر زہر گھولا جاتا تھا یا معاشرے کو تقسیم کیا جاتا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں، اگر آپ پاکستان کے اندر خوشحالی، معاشی انصاف، ملک کی غربت اور بیروزگار کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں تو نواز شریف کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر وہیں سے شروع کرے گا جہاں اسے 2018 میں سازش کے ذریعے ختم کیا گیا تھا، اس سفر کو تباہ کردیا گیا اور 21 اکتوبر کو آپ نواز شریف کا استقبال کریں۔


مشہور خبریں۔
بائیڈن بن سلمان سے دوبارہ ملاقات کے خواہاں، وجہ؟
?️ 22 اگست 2023سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن آئندہ ماہ نئی دہلی میں ہونے والے
اگست
بائیڈن کا غزہ میں تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کا اعلان
?️ 3 جون 2024سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں
جون
اسرائیلی وفد کو افریقی یونین کے اجلاس میں شرکت سے روکا گیا
?️ 15 فروری 2024سچ خبریں:ذرائع ابلاغ کے مطابق افریقی یونین نے ایتھوپیا کے شہر ادیسابا
فروری
حکومت 2 ہفتوں میں عالمی خیراتی تنظیموں سے متعلق فیصلہ کرے گی
?️ 1 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت اگلے دو ہفتوں میں درجن سے
ستمبر
پاکستان کا رمضان کے دوران غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ
?️ 7 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی بربریت کی مذمت
مارچ
صیہونی حکومت زیادہ دیر نہیں رہے گی:لبنانی عہدیدار
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:لبنان کی پارلیمنٹ میں مزاحمتی تحریک کے حامی دھڑے کے سربراہ
ستمبر
نسل کشی پر دنیا کا ردعمل، لیکن ہونےکے بعد!
?️ 13 دسمبر 2024سچ خبریں: ارمینیا کے وزیر خارجہ ارارات مرزویان نے جمعرات کو ایروان
دسمبر
چالیس سال افغان بھائیوں کی خدمت کا اچھا صلہ نہیں ملا۔ سرفراز بگٹی
?️ 27 مارچ 2026کوئٹہ (سچ خبریں) وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ افغانستان
مارچ