عام انتخابات کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کیلئے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمیشن کی یقین دہانی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے آزادانہ اور منصفانہ الیکشنز کرانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق میں مناسب ترامیم کرے گا۔

میڈیا رپورٹس  ضابطہ اخلاق پر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا کہ عام انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

اجلاس کے شرکا کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کروائی کہ انتخابات ہر صورت میں جنوری کے آخری ہفتے میں منعقد ہوں گے، جیسا کہ پہلے اعلان کیا گیا تھا۔

اجلاس کے بعد ایک مختصر بیان جاری کیا گیا کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق کے مسودے پر مشاورتی اجلاس الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 233 کے تحت منعقد ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے مشترکہ تجاویز پر غور کیا اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ مناسب تجاویز کو حتمی ضابطہ اخلاق میں شامل کیا جائے گا۔

بعد ازاں، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیئر بخاری نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کی مدد کرے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ عام انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور شفاف طریقے کے ساتھ مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ انہوں نے بھی مجوزہ ضابطہ اخلاق پر اپنی تجاویز الیکشن کمیشن کو دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری تجاویز نوٹ کی ہیں، ہم نے تمام سیاسی جماعتوں اور بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے سامنے لیول پلیئنگ فیلڈ کا معاملہ بھی رکھا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو حل کی یقین دہانی کرائی۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما میاں افتخار حسین اور محمد زاہد خان نے مطالبہ کیا کہ انتخابات کی تاریخ دی جائے کیونکہ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے اب بھی شکوک و شبہات موجود ہیں۔

اے این پی نے زور دیا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا، الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ وقت پر انتخابات کرائیں گے، ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ الیکشن کمیشن جلد از جلد حلقہ بندیوں کو حتمی شکل دے اور انتخابات دسمبر میں کرائے جائیں۔

تحریک لبیک پاکستان کے رہنما ضیا الرحمٰن بابر نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وزرا، سینیٹرز اور چیئرمین سینیٹ انتخابات پر اثر انداز نہ ہوں۔

بعدازاں، پی ٹی آئی نے بیرسٹر علی ظفر، بابر اعوان اور علی گوہر پر مشتمل اپنی 3 رکنی ٹیم کی جانب سے الیکشن کمیشن کو پیش کردہ 25 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز بھی جاری کیا۔

پی ٹی آئی نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈز میں نشاندہی کی کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر عام انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے۔

مشہور خبریں۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کو کم کر کے 2.6 فیصد کر دیا

?️ 19 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مالی سال 25-2024 کے

وزیر اعظم نے سینیٹر ایوب آفریدی کی بطور مشیر تقرری کی منظوری دے دی

?️ 23 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹر ایوب آفریدی کو

کوئی ہے جو تیل کو بچائے؟ ٹرمپ کی بے بسی

?️ 4 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے

ہندوستانی تجزیہ کار: ٹرمپ کی خیال پردازی نے سرکاری بیانیوں اور میدانی حقائق کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا

?️ 18 اپریل 2026 سچ خبریں: ایک ہندوستانی تجزیہ کار اور یونیورسٹی کے پروفیسر نے

مقبوضہ کشمیر بھارت کا جدید دور کا نوآبادیاتی منصوبہ ہے، پاکستان

?️ 4 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اقوام

پی پی 289 ضمنی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل

?️ 12 دسمبر 2025ڈیرہ غازی خان (سچ خبریں) پی پی 289 ضمنی انتخاب کے لیے

متحدہ عرب امارات نے پاکستان پر پابندی عائد کر دی

?️ 10 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کورونا

واٹس ایپ نے صارفین کو جعلی خبروں سے متعلق خبردار کردیا

?️ 29 دسمبر 2021سان فرانسسکو ( سچ خبریں) پیغام رسانی کی سب سے مقبول ایپلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے