اپیل میں کیس دوبارہ سنا جاتا ہے، سوال یہ ہے نظرثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے، چیف جسٹس

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے ایک مکمل انصاف کا ٹیسٹ ہے، اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹس ایکٹ سے متعلق کیسز کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع ملتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نظرثانی کا دائرہ کار محدود رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت سپریم کورٹ براہ راست مقدمہ سنتی ہے، آرٹیکل 184/3 میں نظرثانی کا دائرہ کار اسی وجہ سے وسیع کیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظرثانی کا دائرہ وسیع ہونے سے فریقین عدالت کو پوری طرح قائل کر سکیں گے، دائرہ کار محدود ہونے پر کئی متاثرہ افراد نظرثانی دائر ہی نہیں کرتے تھے، قانون میں وسیع دائرہ کار کے ساتھ لارجر بینچ کی سماعت بھی اسی نظریے سے شامل کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لارجر بینچ کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے فیصلہ کرنے والے ججز اس میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ اگر تین رکنی بینچ کسی کیس کا فیصلہ کرے گا تو اس پر نظرثانی میں ان کے ساتھ مزید دو ججز کیس سنیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کے دونوں نکات نوٹ کر لیے اب آگے بڑھیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میں 10 منٹس دلائل دینا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ہم مہمان کے طور پر بلاتے ہیں، ہم ابھی آپ کا کیس نہیں سن رہے، پہلے اٹارنی جنرل دلائل دے رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کا 184 (3) پر نقطہ نظر دوبارہ منظور الہٰی کیس والا ہو گیا تو اس سے آج کے قانون پر فرق نہیں پڑتا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کا پوائنٹ نوٹ کر لیا ہے آگے چلیں۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کے 2002 کیوریٹو ریویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ انصاف دینا کسی فیصلے کے حتمی ہونے سے کم اہم نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مکمل انصاف ہی خدائی منشا ہے۔

اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نظر ثانی تو نظر ثانی ہی رہتی ہے، اسے اپیل کا درجہ تو پھر بھی حاصل نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مسابقتی ایکٹ، الیکشن کمیشن فیصلوں کے خلاف اپیل موجود ہے، سنگین غداری کیس میں بھی اپیل کا حق دیا گیا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ان تمام قوانین میں فیصلے کے خلاف اپیل کا ذکر ہے، یہاں اس قانون میں آپ نظر ثانی کو اپیل بنانے کی بات کر رہے ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے ایک مکمل انصاف کا ٹیسٹ ہے اور بھارتی قانون میں بھی یہی ہے کہ اپیل میں کیس کو دوبارہ سنا جاتا ہے، ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ہم 184 (3) کے خلاف کسی بھی ریمیڈی کو ویلکم کریں گے اگر اس کو احتیاط کے ساتھ کیا جائے، سوال یہ ہے نظر ثانی کس بنیاد پر ہونی چاہیے۔

عدالت نے سماعت پیر کے روز ایک بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ 7 جون کو سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرِثانی درخواست اور ریویو آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

بھارتی سفارتی عملے کا افغانستان سے نکلنے کا اعلان

?️ 17 اگست 2021سچ خبریں:بھارتی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے

یورپی اور کینیڈا امریکہ کو قابل اعتماد اتحادی نہیں سمجھتے: پولیٹیکو

?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں:امریکی جریدے پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک اور

سینیٹ انتخابات کی 48 نشستوں پر 170 امیدوار آزمائیں گے اپنی قسمت

?️ 16 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) 2021 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کے امیدواروں

امریکہ کی فوجی مہم جوئی کے نتائج کے بارے میں ایران کی واضح وارننگ

?️ 6 فروری 2024سچ خبریں:شام اور عراق کے خلاف حالیہ امریکی جارحیت کے حوالے سے

حکومت کا ایران و عراق جانے والے زائرین کیلئے پروازوں میں اضافے کا فیصلہ

?️ 4 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے ایران و عراق جانے والے زائرین

ایران کے بارے میں امریکہ اور صیہونی ریاست میں اختلاف: ایک امریکی عہدیدار

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں:ایک امریکی عہدیدار نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف

کالاس یورپ کے لیے شرمندگی اور دنیا کے لیے باعثِ مذاق 

?️ 5 جون 2026سچ خبریں: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یورپی یونین کی اعلیٰ

لائبرمین کا جنگ بندی پر ردعمل: یہ ایک تلخ اور تکلیف دہ انجام ہے۔

?️ 24 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی ریاست کے سابق وزیر جنگ اور "اسرائیل بیتینو” پارٹی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے