?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز اور چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے درمیان ہونے والی ملاقات کو کچھ لوگ عدلیہ کے اندر بظاہر تقسیم سے جوڑ رہے ہیں جبکہ دیگر اسے معمول کی ملاقات سمجھتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے جمعہ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا دورہ کیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق ججز نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقاتیں ڈھائی گھنٹے تک جاری رہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر آفیشل نے بتایا کہ یہ جج صاحبان چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ہائی کورٹ کی نوتعمیر شدہ عمارت میں مدعو کرنے کے لیے سپریم کورٹ گئے تھے، یہ عمارت کل 22 مئی کو آپریشنل ہو جائے گی۔
تاہم اندرونی ذرائع اس پیش رفت کو صرف معمول کی دعوت نہیں سمجھتے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پہلے ہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو دعوت نامہ دیا تھا، جنہوں نے رواں ماہ کے آخری ہفتے کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 9 مئی کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کے حکم پر رینجرز کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی احاطہ عدالت سے گرفتاری کو قانون کے مطابق قرار دے دیا تھا۔
10 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت ایک تنازع کھڑا ہو گیا تھا جب اس کے سینئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی نے مبینہ بیٹی چھپانے کے کیس میں ایک نامکمل حکم جاری کیا تھا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پہلے ہی بینچ تحلیل کر دیا تھا۔
مبصرین اسے سپریم کورٹ کی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر ایک تقسیم کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی غیر حاضری کے بارے میں ججز کے وفد سے پوچھا، انہیں بتایا گیا کہ جسٹس عامر فاروق شہر سے باہر ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے پہلے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور پھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ججز نے پی ٹی آئی سے متعلق کیسز پر اعلیٰ عدلیہ کے ردعمل اور ریاستی اداروں اور حکمران اتحاد کے ردعمل پر غور کیا۔


مشہور خبریں۔
تل ابیب کی اچیلز ہیل بے نقاب
?️ 17 جنوری 2024سچ خبریں: معاریو اخبار نے بین گوریون یونیورسٹی اور گیفات حبیبہ انسٹی ٹیوٹ
جنوری
غزہ کے باشندوں کا جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر ردعمل؛ خوش لیکن ناقابل اعتماد
?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں: غزہ کی سڑکوں پر سب کی نظریں جنگ بندی کے
اکتوبر
اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدہ، دونوں فریقین کیا حاصل کریں گے؟
?️ 21 ستمبر 2025اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدہ، دونوں فریقین کیا حاصل
ستمبر
2006 کی 33 روزہ جنگ اور طوفان الاقصی میں کیا فرق ہے؟
?️ 16 اکتوبر 2023سچ خبریں: جب 33 روزہ جنگ حزب اللہ کے لیے فاتحانہ طور
اکتوبر
امریکہ نے کئی ممالک پر شام کی مدد نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے:بشار الاسد
?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:شام کے صدر بشار اسد نے دمشق کا سفر کرنے والے
فروری
ایران کے ساتھ جنگ نے صہیونی معاشرے میں خلیج کو بڑھا دیا ہے؛ صہیونی میڈیا کا اعتراف
?️ 20 اپریل 2026سچ خبریں:صہیونی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ نے اسرائیلی
اپریل
سوڈان میں ختم نہ ہونے والی خانہ جنگی
?️ 18 ستمبر 2023سچ خبریں: سوڈانی ذرائع نے خرطوم میں محمد حمدان دقلو جسے حمدتی
ستمبر
طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت کی متضاد خبریں
?️ 27 فروری 2026سچ خبریں: غیر مصدقہ اور غیر سرکاری اطلاعات سے پتہ چلتا ہے
فروری