وزیر اعظم سے ملاقات کافی اچھی رہے اس کے نتائج اچھے ہوں گے:جہانگیر ترین

جہانگیر ترین

?️

لاہور(سچ خبریں) لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے کہا کہ ہم عدالت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں عدالت شفاف طریقے سے کارروائی کرے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے علی ظفر کو کیس کی ذمہ داری سونپی ہے، ان سے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی، یہ کریمنل کیس نہیں ہے، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا اس میں کوئی کردار نہیں، یہ کاروباری معاملات کا کیس ہے، اس میں پبلک فنڈ یا خفیہ فنڈ کا کوئی معاملہ نہیں۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ایک سال سے میرے خلاف تفتیش ہورہی ہے، 78 پیشیاں بھگت چکے ہیں جبکہ ہم کیس ختم کرنے کی بات نہیں کر رہے اور نہ بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی بات کا جواب نہیں دوں گا، ان کو ایسا کہنا زیب نہیں دیتا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا’۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ جہانگیر ترین کے شریک ملزمان کے بیان ریکارڈ ہونا باقی ہیں، بینک سے بھی ابھی کچھ ریکارڈ آنا باقی ہے، جیسے ہی ریکارڈ مکمل ہوگا تفتیش مکمل کر لیں گے۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ابوبکر خدابخش کو بھی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے، وہ شاید ابھی کیس سمجھ رہے ہیں لیکن انہوں نے جہانگیر ترین کو طلب نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ابوبکر خدابخش جیسے ہی جہانگیر ترین اور علی ترین کو طلب کریں یہ دونوں پیش ہوں گے، ہم کیس کو لٹکانا نہیں چاہتے جلدی اپنا کیس مکمل کرنا چاہتے ہیں۔جج حامد حسین نے ریمارکس دیے کہ ساری ذمہ داری ایف آئی اے کے تفتیشی افسر پر ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ عدالت نے جہانگیر ترین کے کیس میں انکوائری رپورٹ منگوائی تھی وہ فائل کدھر ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے جہانگیر ترین کیس کی انکوائری رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

عدالت نے ایف آئی اے پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر ایف آئی اے ہر صورت انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کرے، اگر آئندہ سماعت پر بھی انکوائری رپورٹ پیش نہ کی گئی تو ایف آئی اے کے خلاف کارروائی ہوگی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے جلد از جلد تفتیش مکمل کرے۔سیشن کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کر دی۔

دوسری جانب بینکنگ جرائم کورٹ میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ایف آئی اے نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا، تحقیقات میں اب ابوبکر خدا بخش شامل ہوئے ہیں، جہانگیر ترین ابوبکر خدا بخش کے پاس پیش ہو کر اپنی گزارشات بیان کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کا مقدمہ بڑے عجیب نوعیت کا ہے، ایف آئی اے کے کیس میں بے پناہ نقص ہیں، ایف آئی اے نے اس عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا تھا، میرے خیال سے یہ کسی بھی عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ہے، یہ کیس تو قابل اخراج ہے اس کیس میں کچھ نہیں ہے۔

بعد ازاں عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کر دی۔جج نے وکلا کو ہدایت کی کہ 19 مئی کو شاید تاریخ نہ ملے، فریقین کے وکلا تیاری کے ساتھ پیش ہوں۔

مشہور خبریں۔

حماس: عالمی برادری مسجد اقصیٰ پر واضح جارحیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھائے

?️ 12 اپریل 2026 سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کا کہنا ہے کہ ایک

ایران اسرائیل جنگ کا خاتمہ کس نے کیا؟بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی زبانی

?️ 25 جون 2025 سچ خبریں:بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی جنگ بندی

کیا ٹرمپ امریکی صدر بننے کے لائق ہیں؟

?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں: 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار اس

آرمی چیف کی کمانڈر یو ایس سینٹرل کمانڈ جنرل مائیکل ایرک سے ملاقات

?️ 19 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور

یہ قوم اور فوج ہمیشہ سے ایک تھی اور ایک رہے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

?️ 25 مئی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد

سول سروس کی تجدید نو حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم

?️ 18 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سول

امریکہ کی پوزیشن کو کمزور کرنے میں شہید سلیمانی کا کردار

?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں: شہید سلیمانی کا مکتب ان کی شہادت کے ساتھ نہیں

ہمیں تعلیم کے شعبے میں عالمی امداد کی ضرورت ہے: طالبان

?️ 4 مئی 2022سچ خبریں:طالبان کے وزیر تعلیم نے خطے کے ممالک اور عالمی برادری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے