ارکان قومی اسمبلی کی ترقیاتی اسکیموں کا بجٹ 87 ارب روپے تک بڑھانے کا فیصلہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ورچوئل اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں پر صوابدیدی اخراجات کو 87 ارب روپے تک بڑھانے کے لیے 17 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی گئی ہے۔

 ویڈیو لنک کے ذریعے لندن سے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ گندم کے کاشتکاروں کو بیج فراہم کرنے کے لیے 3 ارب 20 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی اور مزید 5 ارب روپے کے فنڈز کی سمری ساتویں ہاؤسنگ اور مردم شماری تک مؤخر کردی گئی۔

ترقیاتی سکیموں کے فنڈز میں 87 ارب روپے کا اضافہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے تعلق رکھنے والے تمام 174 اراکین قومی اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے لیے 50 کروڑ روپے مالیت کی چھوٹی اسکیمیں شروع کرنے کی سہولت ملے گی جن میں سیوریج لائنوں، گیس، پانی اور بجلی کے کنکشن اور سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال شامل ہیں۔

سیکریٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو مطلع کرتے ہوئے لکھا کہ ’رواں مالی سال 23-2022 کے دوران 70 ارب روپے ’پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کا پروگرام‘ کے حوالے سے مختص کیے گئے ہیں، وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے وعدہ کیا تھا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی چاہے تو 17 ارب روپے کے اضافی فنڈز کا بندوبست کیا جا سکتا ہے‘۔

احمد نواز سکھیرا نے کہا کہ اس کے بعد اسٹیئرنگ کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی و ترقی و خصوصی اقدامات کو ہدایت کی کہ وہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ سے 17 ارب روپے کابینہ ڈویژن کے لیے مختص کرے تاکہ محروم علاقوں کے لیے اسکیموں کی مالی اعانت کی جاسکے۔

ذرائع کے مطابق وزارت منصوبہ بندی نے اس مقصد کے لیے آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور صوبوں کے لیے بجٹ میں مختص فنڈز سے 17 ارب روپے اکھٹے کیے ہیں۔

وزارت خزانہ کے ایک اعلان نے اس بات کی تصدیق کی کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے موجودہ مالی سال 23-2022 کے دوران 17 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کے طور پر اضافی فنڈز کی منظوری دی تاکہ محروم علاقوں کے لیے انفرااسٹرکچر اور سماجی ترقی کی اسکیموں کی مالی اعانت کی جاسکے۔

اضافی فنڈز کی منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کم از کم 145 ارب روپے کے بجائے 50 ارب سے بھی کم جاری کیے ہیں، ترقیاتی اسکیموں کے لیے تقسیم کے طریقہ کار کے مطابق جولائی تا ستمبر کی مدت میں سالانہ ترقیاتی بجٹ کا 20 فیصد جاری ہونا ضروری ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت منصوبہ بندی نے ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار مختلف منصوبوں، وزارتوں، ڈویژنوں، ایجنسیوں اور علاقوں کے لیے فنڈز کے اجرا کے حوالے سے تفصیلات کو پبلک کرنے کا سلسلہ روک دیا ہے، اس سے قبل وزارت منصوبہ بندی شفافیت کی خاطر ترقیاتی فنڈز کے لیے ہفتہ وار تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر ڈال رہی تھی۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ مزید فنڈز مقررہ وقت میں دیگر اراکین پارلیمنٹ کو فراہم کر دیے جائیں گے تاہم یہ منظور شدہ فنڈز قومی اسمبلی کے حلقوں میں ان اراکین قومی اسمبلی کی تجاویز کے مطابق خرچ کیے جائیں گے جنہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ووٹ دیا تھا۔

پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام کے تحت ترقیاتی اسکیموں کو اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے پھر وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کے ذریعے منظوری دی جاتی ہے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے کے بعد پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام کے لیے سیاسی تحفظات پر اسی طرح فنڈز کی تقسیم شروع کی تھی اور گزشتہ برس اپنے بجٹ میں 64 ارب روپے مختص کیے تھے۔

حالیہ سیلاب کی وجہ سے زرعی شعبے کو ہونے والے بھاری نقصان کے پیش نظر اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی مدد کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کو 3 ارب 20 کروڑ روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی تاکہ اسے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں گندم کے بیج کی خریداری اور تقسیم کے لیے این ڈی ایم اے کو منتقل کیا جا سکے، 3 ارب 40 کروڑ روپے کے اضافی فنڈز بعد میں وزارت خوراک کو فراہم کیے جائیں گے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، سید نوید قمر، خرم دستگیر خان، شاہد خاقان عباسی، وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق مسعود ملک اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ نے شرکت کی۔

مشہور خبریں۔

سربراہ حبیب بینک کو نومنتخب وزیراعظم کی فنانس ٹیم میں اہم عہدہ ملنے کا امکان

?️ 6 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کے سب سے بڑے بینک حبیب بینک

ٹرمپ کے نائب صدر اور قطری وزیر خارجہ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات

?️ 9 مئی 2026 سچ خبریں:امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعہ کو

اقوام متحدہ میں اصلاحات کے بارے میں بھارت کا کیا کہنا ہے؟

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: ہندوستان کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں

تُم جیتو یا ہارو، ہمیں تُم سے پیار ہے: مہوش حیات

?️ 12 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان فلم و ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ و

وزیرستان میں نئی پولیو کیسز کی وجہ ویکسینیشن کی کمی قرار

?️ 2 مئی 2022(سچ خبریں)ایک ہفتے کے وقفے سے پولیو کے دو کیسز سامنے آنے

توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہونے کا امکان

?️ 19 دسمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل

گڑ کھانے کے ہماری صحت پر ہوتے ہیں بے شمار اچھے اثرات

?️ 5 فروری 2021آج دینا کا ہر پانچواں شخص شوگر کا مریض ہے کیا آپ

پیرس میں فرانسیسی عوام کا صہیونں کے خلالف مظاہرہ

?️ 20 اپریل 2026 سچ خبریں:ان مظاہروں میں احتجاج کرنے والوں نے صیونیستی حکومت کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے