?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مرکزی بینک نے نہ صرف ستمبر کے لیے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ 4.2 ارب ڈالر کا مقررہ ہدف عبور کرلیا ہے بلکہ دوسرے اختتامی سہ ماہی کے اہداف بشمول بین الاقوامی ذخائر اور قومی سرمایے کا ہدف پورا کرنے کے لیے بھی اطمینان بخش پوزیشن پر ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ان خیالات کا اظہار مراکش میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ملاقاتوں میں بین الاقوامی بینکوں بشمول بارکلیز، جے پی مورگن، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور جیفریز کی طرف سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی میزبانی کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے بعد کیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے عالمی سرمایہ کاروں کو حالیہ میکرو اکنامکس پیش رفت، موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی اور پاکستانی معیشت کے آؤٹ لک کے بارے میں آگاہ کیا اور ان کے سوالات کے جوابات دیے۔
خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب نگراں حکومت آئی ایم ایف کے 3 ارب ڈالر قرض پروگرام کے تناظر میں معاشی بحالی کے لیے مشکل راستے پر گامزن ہے اور اس معاہدے کو مکمل کرنے کی کوشش میں ہے، یہ قرض جولائی میں منظور کیا گیا تھا اور اس سے ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ کم ہوگیا تھا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور بیرونی واجبات میں کمی سے بہتری ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوری سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 3.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.6 ارب ڈالر تک پہنچے۔
گورنر نے کہا کہ مالی سال 2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک کم ہوگیا جو کہ مالی سال 2022 میں 4.7 فیصد تک تھا اور پہلے کے انتظامی اقدامات جس سے گزشتہ سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، ان کو اب واپس لے لیا گیا ہے۔
گورنر جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ استحکام کے اقدامات اور شرح مبادلہ کی وجہ سے توقع ہے کہ رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک رہے گا۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ پاکستان طویل اسٹرکچر کمزوریاں دور کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور اپنے کثیرالجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کی مدد سے پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔
جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پہلا مرکزی بینک ہے جس نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی افراط زر کے پیش نطر شرح سود میں سختی کی ہے، تاہم کچھ اندرونی چیلنجز بالخصوص گزشتہ مالی سال کے آغاز میں بدترین سیلاب نے مرکزی بینک کی افراط زر کی شرح کم کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا تھا اور بینک نے پالیسی ریٹ کو 1500 بیس پوائنٹس تک بڑھا دیا تھا۔
گورنر نے کہا کہ استحکام کے اقدامات کے نتائج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں جہاں ستمبر میں افراط زر 31.4 فیصد تک آگئی ہے جو کہ مئی میں 38 فیصد تھی اور آنے والے مہنیوں میں بھی اس میں کمی کا سفر جاری رہے گا جبکہ بیرونی خسارے میں اضافہ ہوا ہے تاہم زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے ہونے والے اسٹینڈ بائے معاہدہ سے ملکی معیشت میں استحکام لانے کی پالیسی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔


مشہور خبریں۔
رواں مالی سال: حکومت نے بینکوں سے 18 کھرب کے قرضے لے لیے
?️ 5 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کا بجٹ کو سپورٹ کرنے کے لیے
مارچ
اسرائیل جنگ کے ذریعہ اپنے سکیورٹی مسائل حل نہیں کر سکتا:امریکی نائب صدر
?️ 19 جون 2026سچ خبریں:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیل
جون
سعودی عرب نے ایک سماجی خاتون کو 18 سال قید کی سزا سنائ
?️ 26 ستمبر 2021سچ خبریں: ریاض کی فوجداری عدالت نے 18 سالہ سماجی کارکن خاتون
ستمبر
قیدیوں کا ریکارڈ قائم کرنے والا انسانی حقوق کا ٹھیکیدار ملک
?️ 1 اگست 2023سچ خبریں: فرانس میں سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس
اگست
مغربی ممالک جان لیں کہ ہم جہاد اور شہادت کے علمبردار ہیں: سعودی شہزادے
?️ 19 اکتوبر 2022سچ خبریں: امریکہ کی جانب سے تیل کی پیداوار کو کم کرنے
اکتوبر
شامی دہشت گرد یوکرین کے راستے میں
?️ 6 مارچ 2022سچ خبریں: پوٹن سے لے کر روسی انٹیلی جنس سروس اور غیر سرکاری
مارچ
صیہونی تجزیہ کار: اسرائیل گزشتہ 925 روز کی جنگوں میں کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں ہوا
?️ 19 اپریل 2026 سچ خبریں: ایک صیہونی تجزیہ کار نے زور دے کر کہا
اپریل
نیتن یاہو سیاسی اور نظریاتی وجوہات کی بنا پر جنگ روکنا نہیں چاہتے
?️ 25 جون 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد
جون