آئی ایم ایف، اسٹینڈ بائے معاہدے کے تحت ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل بورڈ آف ریونیو رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ریونیو اکٹھا کرنے کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ آنے والے مہینوں کے تخمینوں کا جائزہ لینے کے لیے پیر (28 اگست) کو آئی ایم ایف  کے ساتھ ورچوئل مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم ایف بی آر کی کارکردگی اور مارچ میں کیے گئے ریونیو اقدامات پر بات چیت کرے گی، جس کے بعد آخری بجٹ میں مزید ٹیکس اقدامات کیے جائیں گے۔

ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف ٹیم کو پہلے دو ماہ جولائی اور اگست کی آمدنی کی کارکردگی پر بریفنگ دیں گے۔

جولائی 2023 میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 9 ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت ملک کے معاشی استحکام کے پروگرام کی مدد کے لیے 3 ارب ڈالر کی رقم کی منظوری دی تھی۔

عہدیدار کے مطابق ریونیو کی کارکردگی پر یہ میٹنگ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا حصہ ہے۔

عہدیدار کے مطابق ایف بی آر نے جولائی 2023 کے مہینے کے لیے اپنے ریونیو کے ہدف سے 4 ارب روپے اضافی اکٹھا کیے ہیں، جبکہ اس ماہ کے لیے متوقع ہدف 434 ارب روپے تھا۔

اہلکار نے مزید کہا کہ ایف بی آر، اگست کے مہینے کے لیے بھی اپنے ہدف کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور اس ماہ کے ریونیو کی وصولی کے اعداد و شمار آنے والے دنوں میں منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔

محصولات کی وصولی میں اضافے کا بنیادی سبب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے جس کی وجہ سے ریٹیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ریونیو کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ریکارڈ مہنگائی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔

جولائی میں محصولات کی وصولی میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایف بی آر نے زیر جائزہ ماہ کے دوران ریفنڈز کی مد میں 49 ارب روپے ادا کیے، اسی طرح رواں ماہ کے دوران براہ راست ٹیکسوں میں 30 فیصد کی نمایاں نمو جاری ہے۔

حکومت نے مالی سال 2024 کے لیے 9 ہزار 415 ارب روپے کے محصولات کی وصولی کا ہدف پیش کیا ہے۔

حکومت کو 3.5 فیصد کی متوقع اقتصادی نمو، 21 فیصد کی اوسط مہنگائی اور کچھ محصولات کے اقدامات کی بنیاد پر، رواں مالی سال کے لیے 30 فیصد زیادہ آمدنی کا ہدف حاصل کرنے کی امید ہے اور محصولات میں خود مختار نمو، جی ڈی پی کی نمو اور افراط زر سے 24-2023 میں ایک ہزار 76 ارب روپے متوقع ہے۔

مالی سال 2024 کے لیے نئے ٹیکس اقدامات کا مجموعہ اب 948 ارب روپے ہے، فروری کے وسط میں منی بجٹ میں متعارف کرائے گئے 500 ارب روپے کے تمام ٹیکسوں کے علاوہ بجٹ تقریر میں اعلان کردہ محصولات کے اقدامات 223 ارب روپے رہے۔ 24 جون کو بجٹ تقریر کے اختتام پر مزید 215 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے۔

مالی سال 2023 میں ایف بی آر کے سالانہ بجٹ کی وصولی کے ہدف میں تقریباً 522 ارب روپے، یا 8.83 فیصد کمی ہوئی تھی۔

مشہور خبریں۔

چین کو محدود کرنے سے دنیا کے لوگوں کو زیادہ آزادی ملے گی: برطانیہ

?️ 4 اکتوبر 2021سچ خبریں:برطانوی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ مغرب

روس پر پابندیاں امریکہ میں معاشی جمود کا باعث بنیں گی: واشنگٹن پوسٹ

?️ 14 اپریل 2022سچ خبریں:  واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ روس کے خلاف

خیبرپختونخوا کے الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

?️ 29 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے

اسلام آباد سے فلسطینیوں کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے جمع کئے گئے

?️ 19 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصر اللہ

آئینی بینچ نے توہین عدالت کیس کی بنیاد بننے والے جسٹس منصور کے احکامات واپس لے لیے

?️ 28 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے توہین

 نیتن یاہو کا بھارت کا دورہ منسوخ:صہیونی میڈیا

?️ 26 نومبر 2025  نیتن یاہو کا بھارت کا دورہ منسوخ:صہیونی میڈیا  ایک صہیونی ذرائع

پی آئی اے کی جانب سے مالی سال 2020 کے نتائج جاری

?️ 9 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں) قومی ایئرلائن(پی آئی اے) نے مالی سال 2020 کے نتائج

امریکی پابندیوں کی پالیسی کی وجہ سے ڈالر پر اعتماد میں کمی

?️ 6 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکی اقتصادی پابندیوں کے نئے دور پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے