امریکی قومی انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر نے استعفی کیوں دیا؟ برطانوی اخبار کا انکشاف

انٹیلیجنس

?️

سچ خبریں:برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تولسی گابارد کے استعفے کی اصل وجہ ایران سے متعلق پالیسی پر ڈونلڈ ٹرمپ سے شدید اختلافات تھے، نہ کہ صرف ذاتی وجوہات۔

برطانوی اخبار گارڈین نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی قومی انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تولسی گابارد کے استعفے کی اصل وجوہات ان کا ایران کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف تھا۔

تولسی گابارد، جو امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تھیں، نے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا استعفیٰ پیش کیا اور کہا کہ وہ اپنے شوہر کی حالیہ کینسر کی تشخیص کے بعد ان کی دیکھ بھال کے لیے عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔

تاہم گارڈین کی رپورٹ کے مطابق مختلف خبروں میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ وائٹ ہاؤس نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا، کیونکہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اپنے کابینہ ارکان سے خفیہ طور پر یہ سوال کیا تھا کہ آیا انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ گابارد ٹرمپ کے قریب آنے اور بعض بیانیوں کی حمایت کے ذریعے ان کے ساتھ وفاداری ظاہر کرتی رہیں، لیکن وہ غیر ملکی مداخلت اور حکومتیں تبدیل کرنے والی جنگوں کی مخالفت کی وجہ سے پالیسی اختلافات کا شکار رہیں۔

گارڈین کے مطابق گابارد بار بار ٹرمپ کو ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی صلاحیتوں سے متعلق انٹیلیجنس معلومات کے استعمال کے طریقے پر ناراض کرتی رہیں۔

ایران کے معاملے پر اختلافات اور دباؤ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ جون میں جب ایران کے خلاف کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ جاری تھا، ٹرمپ نے خفیہ طور پر انٹیلیجنس اندازوں پر دباؤ ڈالا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کو زیادہ خطرناک دکھایا جا سکے۔

اسی طرح جنوری میں وینزوئلا کے صدر نکولاس مادورو کے خلاف مبینہ خفیہ کارروائی کے منصوبے کے دوران گابارد کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا گیا۔

فروری تک صورتحال یہ رہی کہ گابارد کو وائٹ ہاؤس کی اہم پالیسی میٹنگز سے دور رکھا جا رہا تھا اور وہ ایران سے متعلق بریفنگز میں بھی مکمل طور پر شامل نہیں تھیں۔

مارچ میں ان کے ایک قریبی معاون نے ایران جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، جس سے انتظامیہ کے اندر اختلافات مزید واضح ہو گئے۔

ایران پر انٹیلیجنس تنازع

رپورٹ کے مطابق گابارد نے کانگریس میں گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی انٹیلیجنس اداروں کے مطابق ایران فی الحال جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔

تاہم ٹرمپ نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جس سے دونوں کے درمیان اختلاف مزید گہرا ہو گیا۔

بعد ازاں گابارد پر دباؤ بڑھا اور انہوں نے مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ ایران چند ہفتوں یا مہینوں میں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔

استعفیٰ اور اندرونی کشمکش

رپورٹ کے مطابق مسلسل اختلافات اور اعتماد میں کمی کے بعد گابارد کی حیثیت کمزور ہوتی گئی اور بالآخر انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔

انہوں نے اپنے استعفے میں کہا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہیں جو ہڈیوں کے کینسر میں مبتلا ہیں۔

گابارد، جو پہلے کانگریس کی رکن اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتی تھیں، 18 امریکی انٹیلیجنس اداروں کی نگرانی کے بعد اب انتظامیہ سے الگ ہو گئی ہیں۔

مشہور خبریں۔

ٹوئٹر نے ماہانہ فیس کے تین مختلف آپشنز پیش کردیے

?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں: مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) نے اپنی کمائی کو

ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت پر سرکاری ملازمین کو تنخواہ ملے گی یا پنشن؟ حکومت نے فیصلہ کرلیا

?️ 28 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت پر

عدم اعتمادکی باتیں کرنے والوں کو  ارکان پورے کرنا ہوں گے: وزیر داخلہ

?️ 31 جنوری 2022راولپنڈی(سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عدم اعتمادکی

بجلی کی قیمت میں پھر سے  اضافے کا امکان

?️ 28 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)ملک بھر میں  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے

کورونا ویکسین لگوانے کے لئے 15 ستمبر تک کی مہلت ہے

?️ 4 ستمبر 2021لاہور (سچ خبریں) محکمہ صحت پنجاب نے ویکسین لگوانے کے لئے  صرف

براڈشیٹ کیس نے کرپشن کے خلاف بولنے والوں کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے: فضل الرحمٰن

?️ 30 جنوری 2021براڈشیٹ کیس نے کرپشن کے خلاف بولنے والوں کا چہرہ بے نقاب

دریاؤں میں پانی کی آمد، ارسا نے صوبوں کا شیئر بڑھا دیا، کپاس کی بہتر بوائی کی امیدیں روشن

?️ 21 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ طاس معاہدے کے مطابق خریف سیزن کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے