جنوبی افریقہ میں نایاب معدنیات پر امریکہ کی نظر

جنوبی افریقہ

?️

سچ خبریں:امریکہ نے چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے جنوبی افریقہ میں نایاب معدنیات کے منصوبے میں سرمایہ کاری شروع کر دی، جس سے عالمی جیو اکنامک مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

امریکہ نے جنوبی افریقہ میں چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششوں کے تحت نایاب معدنیات کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی ہے اور سابقہ کشیدگی پر مبنی پالیسی کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، حالیہ سیاسی تناؤ کے باوجود امریکی حکومت نے جنوبی افریقہ میں نایاب معدنیات کے ایک بڑے منصوبے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن چین کے ساتھ جیو اکنامک مقابلے کو ترجیح دے رہا ہے، چاہے سفارتی اختلافات موجود ہی کیوں نہ ہوں۔

یہ منصوبہ فالابوروا کے علاقے میں واقع ہے، جہاں صنعتی معدنی فضلے کے دو بڑے ڈھیروں سے نایاب عناصر نکالنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ عناصر الیکٹرانکس، روبوٹکس، دفاعی نظام، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں۔

اس منصوبے میں تقریباً 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے کی جا رہی ہے، جو چین پر انحصار کم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ چین کئی برسوں سے نایاب معدنیات کی عالمی پیداوار اور پراسیسنگ پر غلبہ رکھتا ہے۔

حالیہ برسوں میں نایاب معدنیات واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان مسابقت کا اہم میدان بن چکے ہیں، کیونکہ یہ دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی اور صاف توانائی کی منتقلی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کے بعد چین نے بعض اہم دھاتوں کی برآمدات پر پابندیاں عائد کیں، جس کے نتیجے میں یہ مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے گزشتہ فروری میں سیاسی اختلافات، خصوصاً عالمی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمے کے تناظر میں جنوبی افریقہ کے لیے مالی امداد معطل کر دی تھی، تاہم اس منصوبے میں سرمایہ کاری جاری رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کے اسٹریٹجک اور صنعتی مفادات کا حصہ ہے۔

اس منصوبے میں شامل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جارج بینٹ کے مطابق، پیداوار کا بڑا حصہ امریکی منڈیوں، خصوصاً دفاعی ضروریات کے لیے مختص کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ نایاب عناصر جیسے نیوڈیمیم، پراسیوڈیمیم، ڈیسپروزیم اور ٹربیئم کی پیداوار پر مشتمل ہے، جو اعلیٰ کارکردگی کے مقناطیس بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ مقناطیس ونڈ ٹربائنز، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید اسلحہ نظام میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت پیداوار کا آغاز 2028 میں متوقع ہے۔

یہ صورتحال افریقہ میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین نے معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ذریعے اس خطے میں اپنی مضبوط موجودگی قائم کی ہے۔

مشہور خبریں۔

ہفتہ افغانستان سے سویلین انخلاء آپریشن کا آخری دن ہے: برطانیہ

?️ 29 اگست 2021سچ خبریں:برطانوی فوج ایسےوقت میں افغانستان سے عام شہریوں کے انخلاء کے

موجودہ حکومت نے چین کو حددرجہ ناراض اور بدگمان کردیا ہے

?️ 14 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سینئیر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے

سعودی عرب کو افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایک نئی مشکل کا سامنا

?️ 21 اگست 2021سچ خبریں:ایک امریکی میگزین نے لکھا ہے کہ جب سے طالبان نے

صدارتی انتخاب: آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع

?️ 2 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) صدارتی انتخاب کے لیے پیپلزپارٹی کی جانب سے

صیہونی پارلیمنٹ میں فلسطینی اسرا کے لیے سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری، عالمی تشویش میں اضافہ

?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں:صہیونی پارلیمنٹ میں فلسطینی اسرا کے لیے سزائے موت کے قانون

امریکہ ریاض کے فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتا: سعودی ماہرین

?️ 19 مارچ 2023سچ خبریں:ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد

نیتن یاہو کی عدالتی بغاوت کی نئی چال

?️ 16 اگست 2023سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں سیاسی تعطل، معاشی بحران اور بڑے پیمانے

پی ٹی آئی ریڈ زون میں داخل ہو کر احتجاج کی کوشش نہ کرے: رانا ثناءاللہ

?️ 3 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے خبردار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے