افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری، صوبہ ہلمند کے متعدد اضلاع پر قبضہ کرلیا

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری، صوبہ ہلمند کے متعدد اضلاع پر قبضہ کرلیا

?️

کابل (سچ خبریں)  طالبان کی جانب سے افغانستان میں آئے دن متعدد علاقوں پر قبضے کیئے جارہے ہیں اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان نے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت کے 10 میں سے 9 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق افغان حکومتی فورسز نے امریکا کی حمایت سے شہر لشکر گاہ کے دفاع کے لیے فضائی بمباری شروع کردی۔

ہلمند کے لیے افغان فورسز کے کمانڈر جنرل سمیع سعادت نے صحافیوں کے ساتھ شیئر کیے گئے آڈیو پیغام میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ طالبان کے زیر قبضہ علاقے فوری خالی کر دیں لیکن انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی جاری جھڑپوں کے باعث شہری ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔

سمیع سعادت نے اپنے پیغام میں شہریوں سے کہا کہ براہ مہربانی اپنے گھروں اور اطراف کا علاقہ خالی کر دیں اور اپنے اہلخانہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کر لیں، ہم طالبان کو زندہ نہیں چھوڑیں گے، مجھے معلوم ہے کہ یہ مشکل ہے لیکن آپ کے مستقبل کے لیے ہم ایسا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو چند روز کے لیے بے گھر ہونا پڑا تو اس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں، براہ مہربانی جلد از جلد علاقہ خالی کر دیں، لشکر گاہ ان تین صوبائی دارالحکومتوں میں سے ایک ہے جن کا طالبان نے محاصرہ کیا ہوا ہے اور ان کی سرکاری فورسز کے ساتھ لڑائی میں شدت آئی ہے۔

اگر طالبان نے لشکر گاہ پر قبضہ مکمل کر لیا تو یہ ان کی بڑی جیت ہوگی اور یہ کئی سالوں میں پہلا صوبائی دارالحکومت ہوگا جس پر طالبان نے قبضہ حاصل کیا ہو۔

مقامی افراد کا کہنا تھا کہ لڑائی نے انہیں گھروں میں محصور کر دیا ہے اور وہ اشیائے ضروریہ کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں جا پارہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے جنگجو سڑکوں پر کھلے عام گھوم رہے ہیں اور کم از کم لشکرگاہ کا ایک ضلع ان کے کنٹرول میں ہے۔

طالبان کے خلاف افغان فورسز کی مدد کے لیے کابل سے ایلیٹ کمانڈو یونٹس کو بھی روانہ کیا گیا جبکہ مقامی پولیس اور آرمی ہیڈکوارٹرز سمیت اہم سرکاری عمارات کا کنٹرول اب بھی حکومت کے پاس ہے۔

ہلمند کی صوبائی کونسل کے نائب چیئرمین ماجد اخوند نے تصدیق کی کہ لشکر گاہ کے 9 اضلاع کا کنٹرول طالبان کے پاس ہے جبکہ شہر کے ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشن پر بھی ان کا قبضہ ہے جو آف ایئر ہوگئے ہیں۔

حالیہ کچھ ماہ میں طالبان نے ملک بھر کے درجنوں اضلاع پر قبضہ کیا ہے جن میں سے بیشتر دور دراز اور دیہی اضلاع ہیں جہاں آبادی نسبتاً کم ہے۔

افغان فورسز نے ان لڑائیوں میں اکثر ہتھیار ڈال دیے یا لڑائی چھوڑ دی جس کی بڑی وجہ نفری اور ہتھیاروں کی کمی ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران طالبان نے ایران، پاکستان اور تاجکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

اب طالبان کا رخ صوبائی دارالحکومتوں کی طرف ہے کیونکہ امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا 95 فیصد مکمل ہوگیا ہے اور غیر ملکی افواج کے آخری فوجی کے 31 اگست تک افغانستان سے نکل جانے کا امکان ہے۔

دیگر دو صوبائی دارالحکومت جن کا طالبان نے گھیراؤ کر رکھا ہے وہ ہلمند کا پڑوسی صوبہ قندھار اور مغربی صوبہ ہرات ہے۔

ہرات کے نام سے ہی صوبائی دارالحکومت میں افغان فورسز نے منگل کو طالبان کو شہر کے کنارے تک پیچھے دھکیل دیا اور شہری ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے مشن نے بہت زیادہ آبادی والی شہری علاقوں میں لڑائی جلد ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

مشہور خبریں۔

سائنوفارم ختم ہونے کی جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں: فیصل سلطان

?️ 19 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے

غزہ میں انسانی امداد کے ٹرکوں کی آمد میں کمی

?️ 9 دسمبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے نے جمعہ کے روز

سعودی عرب میں ایک بار پھر بن سلمان کے مخالفین کی شامت

?️ 19 اپریل 2021سچ خبریں:سعودی عہدیداروں نے اتوار کی شب اعلان کیا کہ انہوں نے

قابضین کے لیے سیاہ دن انتظار کر رہے ہیں: فلسطینی استقامت

?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:فلسطینی استقامتی گروپوں کے مشترکہ چیمبر نے صیہونی غاصبوں اور پناہ

امریکی چودھراہٹ کے سامنے جھکنے والے نہیں:ایران

?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں:ایران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امریکی

پنجاب بھر میں سکول 12 جنوری سے کھلیں گے

?️ 9 جنوری 2026لاہور (سچ خبریں) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے صوبے

غزہ میں امریکی منصوبے کی تفصیلات

?️ 9 جون 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی ایک رپورٹ میں غزہ

ایران نے مخلتف قسم کے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے والا دفاعی نظام تیار کرلیا

?️ 20 اپریل 2021تہران (سچ خبریں)  ایران نے مخلتف قسم کے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے