جنگ کے بعد صہیونیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ

ایرانی حملے کے بعد صہیونیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ

?️

سچ خبریں:13 جون 2025 کو ایران پر صہیونی حملے کے بعد اسرائیل شدید نفسیاتی، سماجی اور اقتصادی بحران کا شکار ہو چکا ہے، جہاں ہزاروں صہیونی باشندے واپس ہجرت کرتے ہوئے یورپ فرار کر چکے ہیں، جسے ماہرین اسرائیل کے لیے خطرناک ترین چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

13 جون 2025 کو جب اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحیت کا آغاز کیا، تب سے ایک نیا اور خطرناک بحران خود اسرائیلی سماج کے اندر جنم لے چکا ہے جو واپس ہجرت ہے ۔
عبرانی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، ایران کے شدید اور بے مثال جوابی میزائل حملوں کے بعد صہیونی معاشرے میں ایک نفسیاتی وبا پھیل چکی ہے۔ ہزاروں اسرائیلی باشندے ذہنی، روحی اور مالی دباؤ کے باعث فرار پر آمادہ ہو چکے ہیں، اور ملک میں رہنے کو ناقابل برداشت قرار دے رہے ہیں۔
صہیونی شہروں پر میزائل حملے، نفسیاتی تباہی
ایرانی میزائلوں نے تل ابیب، حیفا، کریات شمونا اور سدیروت جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا، جس سے نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوا، بلکہ خوف و وحشت کی لہر پورے اسرائیل میں دوڑ گئی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی صہیونی عوام میں نفسیاتی بحران کے بڑھتے خطرے پر انتباہ جاری کیا۔
50 ہزار افراد کا فرار سب سے بڑی جنگی فرار کی لہر
یسرائیل ہیوم نے رپورٹ دی کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی 50 ہزار سے زائد صہیونی باشندے اسرائیل سے فرار ہو چکے ہیں۔ یہ 2006 کی لبنان جنگ کے بعد اب تک کی سب سے بڑی مهاجرتِ معکوس تصور کی جا رہی ہے۔
یونان، اٹلی اور قبرص میں پناہ
جروزالم پوسٹ کے مطابق، امیر صہیونی خاندانوں نے یونان اور اٹلی میں پناہ لی، جبکہ قبرص نے 3 دن میں 3 ہزار نئے صہیونی پناہ گزینوں کو قبول کیا۔
قبرص کی حکومت نے خوراک و سروسز پر پڑنے والے دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ،۔ کئی اسرائیلیوں نے تو قبرص میں ویزا مسائل کے باعث گرفتاری کو بھی ایران کے میزائلوں سے بہتر سمجھا۔
زمینی فرار کی مشکلات، ٹکٹ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
یدیعوت احرونٹ نے انکشاف کیا کہ فلائٹ سسٹم کے معطل ہونے کے باعث زمینی فرار کا راستہ مشکل ہو چکا ہے، اور ٹکٹ کی قیمتیں 10 گنا تک بڑھ چکی ہیں۔
ایک بڑا تنازعہ مصری سرحد کے کھلنے پر بھی پیدا ہوا، جو صہیونیوں کو فرار کی اجازت دے رہی ہے، جبکہ غزہ کے فلسطینی باشندوں پر وہی سرحد بند ہے۔
نسلی امتیاز: عربوں کا پناہ گاہ میں داخلہ ممنوع
صہیونی عربوں (عرب 1948) کو میزائل حملوں کے دوران کئی علاقوں میں پناہ گاہوں میں داخلے سے روکا گیا۔ ہاآرتص کے مطابق، یہ نسلی امتیاز شدید سماجی کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔
دماغوں کا فرار (Brain Drain) ایک بڑھتا ہوا چیلنج
صہیونی تجزیہ کاروں کے مطابق، 2023 سے اسرائیل میں دماغوں کی فرار کی ایک خطرناک لہر جاری ہے۔
2023 میں تقریباً 55 ہزار افراد نے اسرائیل چھوڑا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 82 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
Ci Marketing کے ایک مطالعے کے مطابق، جو لوگ اسرائیل میں موجود ہیں، ان میں سے بھی 40 فیصد ملک چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ 10 برس قبل شروع ہوا، لیکن اب اس میں تیزی آ چکی ہے۔ صرف غزہ بحران نہیں، بلکہ سماجی، نسلی اور سیاسی تقسیم بھی اسرائیلی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

سر کریک سے جیوانی تک اپنی بحری حدود کے ہر اِنچ کا دفاع کرنا جانتے ہیں، نیول چیف

?️ 26 اکتوبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید

بائیڈن کا مشرق وسطیٰ کا دورہ فلسطینیوں کے خون کی پامالی ہے: پاکستانی عہدیدار

?️ 15 جولائی 2022سچ خبریں:   علامہ سید ساجد علی نقوی نے جو بائیڈن کے دورہ

الیکشن کمیشن کا اپریل 2023 میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ

?️ 1 دسمبر 2022پنجاب:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی

اسرائیل کے جدید لیزر ڈیفنس کے بارے میں خفیہ معلومات ہیکرز کے ہتھے چڑھ گئی / جو دفاع نہیں آیا وہ لیک ہو گیا

?️ 28 اکتوبر 2025سچ خبریں: ہیکنگ گروپ "الجبات الاسناد السیبرانیہ” (سائبر سپورٹ فرنٹ) نے دوسرے

پاکستان میں پہلی بار پٹرول پر سیلز ٹیکس 17فیصد کی بجائے صفر کردیا ہے

?️ 16 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب

میکرون کی حکومت خطرہ میں

?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: ایمانویل میکرون، صدر فرانس، کے پاس اب مانوورنگ کی زیادہ

غزہ کی پٹی شدید بمباری کی زد میں 

?️ 27 جولائی 2024سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے رکن فتحی

فلسطین کے بارے میں پاکستان کا مؤقف

?️ 7 جنوری 2024سچ خبریں: پاکستان کی سینیٹ کے دفاعی کمیشن کے چیئرمین نے یہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے