شام میں ازبک جنگجوؤں اور الجولانی حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

الجولانی

?️

سچ خبریں:شام میں ازبک جنگجوؤں اور الجولانی حکومت کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔ ایک نئے بیان کے بعد غیر ملکی جنگجوؤں اور عبوری حکومت کے درمیان اختلافات اور سکیورٹی کشمکش دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔

ازبک جنگجوؤں کے ایک گروہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے بعد شام میں غیر ملکی جنگجوؤں کے مسئلے نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے، جس میں انہوں نے الجولانی حکومت پر دباؤ ڈالنے، گرفتاریوں اور ملک بدری کی دھمکیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

بیان میں ازبک جنگجوؤں کے اس موقف کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ شامی فوج میں شمولیت سے انکار کر رہے ہیں، جبکہ پہلے سے شامل بعض افراد کو بھی وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو شام میں الجولانی کی قیادت میں قائم عسکری ڈھانچے اور غیر ملکی جنگجوؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ کشیدگی ادلب صوبے میں جاری مسلسل سکیورٹی کشمکش کے ساتھ سامنے آئی ہے، جہاں حالیہ دنوں میں عبوری حکومت کی جانب سے غیر ملکی جنگجوؤں کی گرفتاریوں اور سخت سکیورٹی اقدامات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

چھ مئی کو عبوری حکومت کے داخلی سکیورٹی اداروں نے ادلب کے نواح میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا، جس کا ہدف مختلف غیر ملکی شہریت رکھنے والے مطلوب افراد تھے۔

اس کارروائی کے دوران متعدد غیر ملکی جنگجوؤں کو گرفتار کر کے سکیورٹی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ان سے سخت سکیورٹی حالات میں تفتیش کی گئی۔ اسی دوران کفریا، فوعہ اور کفر جلیس جیسے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کی گئی اور عارضی کرفیو بھی نافذ کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار ابراہیم العلی کے مطابق ازبک جنگجوؤں نے براہ راست دمشق حکومت پر ناانصافی کے الزامات عائد کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ الجولانی حکومت ان پر دہشت گردی اور جرائم جیسے الزامات لگا کر دباؤ ڈال رہی ہے۔

العلی کے مطابق یہ صورتحال اس معاہدے کے ٹوٹنے کی علامت ہے جس کے تحت غیر ملکی جنگجو شامی دھڑوں کے ساتھ متحد ہوئے تھے۔ ان کے مطابق یہ عناصر پہلے تک موجودہ حکومت کے عسکری ڈھانچے کا حصہ تھے۔

انہوں نے ایک روسی چینل آر ٹی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ غیر ملکی جنگجوؤں نے اپنی حالیہ بیان بازی میں شامی عوام کے جذبات، خصوصاً الجولانی حکومت کے حامیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔

بیان میں خود کو مہاجرین قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ برسوں کی جنگ کے بعد خود کو استعمال کیے جانے اور بعد ازاں نظر انداز کیے جانے کا شکار سمجھتے ہیں۔

ازبک جنگجوؤں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ان افراد کو جو اس کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں، داعشی یا جرائم پیشہ قرار دے کر نشانہ بناتی ہے اور بعض کو ملک بدری یا بغیر کسی جرم کے گرفتاری کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

سیاسی مبصر نے مزید نشاندہی کی کہ بیان میں ترکی سے آنے والے بعض جنگجوؤں کی ملک بدری کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جنہیں داعش سے وابستگی کے الزام میں واپس بھیجا گیا تھا، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ شام میں عوامی حمایت کے لیے آئے تھے۔

مشہور خبریں۔

یمن پر حملوں سے انصاراللہ کا آپریٹنگ کمزور نہیں ہوا

?️ 20 جنوری 2024سچ خبریں:بلومبرگ نیوز نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ

حماس کا خاتمہ ناممکن: صیہونی جنرل

?️ 17 اگست 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل آئزک برک نے کہا

ایم کیو ایم سندھ حکومت پر پھٹ پڑی

?️ 12 جولائی 2022کراچی:(سچ خبریں) صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بارشوں سے تباہی کے بعد ایم کیو ایم سندھ حکومت پر پھٹ

صہیونی امریکی فاؤنڈیشن کی ویزمین انسٹیٹیوٹ کو ۲۶ ملین ڈالر کی مالی امداد

?️ 17 ستمبر 2025صہیونی امریکی فاؤنڈیشن کی ویزمین انسٹیٹیوٹ کو ۲۶ ملین ڈالر کی مالی

ملک بھر کے کمرشل فیڈرز شام 7 سے 10 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

?️ 16 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)ملک میں جاری توانائی کے بدترین بحران پر قابو پانے

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ سے افغان خواتین کی توقعات

?️ 22 جولائی 2022سچ خبریں:افغان انسانی حقوق کے کارکنوں کو توقع ہے کہ طالبان حکومت

پی آئی اے کا اسلام آباد سے برطانیہ کے لئے چارٹرڈ فلائٹس کا شیڈول جاری

?️ 20 ستمبر 2021کراچی(سچ خبریں) قومی ایئرلائن(پی آئی اے) نے اسلام آباد سے برطانیہ کے

چین: ہم پاکستان کی خودمختاری کے دفاع میں حمایت جاری رکھیں گے

?️ 18 مئی 2025سچ خبریں: چینی وزیر خارجہ نے اسلام آباد اور نئی دہلی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے