?️
سچ خبریں:جرمن اخبار اشٹوگارٹر ناخریشتن نے اپنی ایک رپورٹ میں اس ہفتے اسٹارٹ (START) معاہدے کے خاتمے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس پیش رفت سے بڑی جوہری طاقتوں کے ہتھیاروں پر موجود آخری باقی نگرانی بھی ختم ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں موجودہ حالات میں عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکہ اور روس کے درمیان اسلحہ کنٹرول سے متعلق آخری معاہدہ نیو اسٹارٹ آئندہ جمعرات، 5 فروری کو باضابطہ طور پر ختم ہو رہا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں سپر پاورز کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں موجود سب سے خطرناک، یعنی اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی مقدار اور معیار کو منظم کرتا تھا۔ اس معاہدے کے خاتمے کے بعد 1970 کی دہائی کے اوائل کے بعد پہلی بار امریکہ اور روس کسی معاہداتی پابندی کے بغیر دوبارہ جوہری ہتھیار تیار کر سکیں گے۔
امریکہ اور روس نے نیو اسٹارٹ معاہدے پر 2010 میں دستخط کیے تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے اسے تخفیفِ اسلحہ اور امریکہ۔روس تعلقات میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا تھا۔
اس معاہدے کے مطابق دونوں ممالک اپنے جوہری وارہیڈز کی تعداد زیادہ سے زیادہ 1550 تک محدود رکھنے کے پابند تھے، جبکہ جوہری ہتھیار لے جانے والے نظاموں (لانچ سسٹمز) کی مجموعی تعداد 800 سے زیادہ نہیں ہو سکتی تھی، جن میں سے کسی بھی وقت 700 سے زائد کو فعال طور پر تعینات نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ، اس معاہدے میں شفافیت کے اصولوں اور باہمی معائنوں پر بھی اتفاق کیا گیا تھا تاکہ اسٹریٹجک جوہری ذخائر کی تصدیق ممکن ہو سکے۔
فروری 2023 میں روس نے اس معاہدے میں اپنی شرکت کو معطل کر دیا۔ یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے کے ایک سال بعد، روسی صدر ولادیمیر پوتین نے مغربی معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کیا اور الزام عائد کیا کہ مغرب روس کے اندر اسٹریٹجک اہداف پر یوکرینی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
اسی سال جون میں، امریکہ نے بھی جوابی اقدام کے طور پر اپنے اسٹریٹجک جوہری ذخائر سے متعلق معلومات کی فراہمی اور روسی معائنوں کی اجازت روک دی۔ قابلِ اعتماد معلومات کی کمی کے باعث یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا معاہدے کی حدود اب بھی عملی طور پر برقرار رکھی جا رہی ہیں یا نہیں۔
ستمبر 2025 میں پوتین نے اعلان کیا تھا کہ اگر امریکہ بھی معاہدے کی “مرکزی مقداری حدود” کی پابندی جاری رکھے تو روس بھی ایک سال مزید ان پر عمل کرے گا، تاہم انہوں نے معائنوں کی بحالی کا کوئی اعلان نہیں کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف اس معاملے میں متضاد رہا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں انہوں نے پوتین کی تجویز کو ایک اچھا خیال قرار دیا، لیکن کسی باضابطہ دوطرفہ مذاکرات کا آغاز نہ ہو سکا۔ جنوری 2026 کے اوائل تک ٹرمپ کا اس معاہدے پر واحد تبصرہ مختصر تھا: جب یہ ختم ہو جائے گا تو بس ختم ہو جائے گا۔
ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم ICAN (نوبل امن انعام 2017 کی فاتح) نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے امریکہ اور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی نئے معاہدے کے نافذ ہونے تک نیو اسٹارٹ کی پابندی جاری رکھی جائے۔
ICAN نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک اپنے جوہری ذخائر میں اضافہ کرتے رہے تو اس کے کثیرالجہتی اسلحہ کنٹرول پر ناقابلِ پیش گوئی اثرات مرتب ہوں گے اور جوہری جنگ کے خطرات میں اضافہ ہو جائے گا۔
اگرچہ یہ ابھی یقینی نہیں کہ واقعی ایک نئی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو گی یا نہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور دیکھ بھال نہایت مہنگا عمل ہے۔ اس وقت امریکہ اور روس کے پاس اتنے جوہری ہتھیار موجود ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ معاہداتی نگرانی کے بغیر کسی بھی تنازع کی صورت میں غلط اندازوں کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جائے گا، جس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
اس بحران کا سب سے آسان حل موجودہ معاہدے کی توسیع سمجھا جاتا ہے، تاہم اس پر بھی شدید اعتراضات موجود ہیں۔ ایک مضبوط دلیل یہ دی جاتی ہے کہ 2011 کے بعد دنیا نمایاں طور پر بدل چکی ہے، خصوصاً امریکہ کے اندر قومی۔قدامت پسند حلقوں میں اس معاہدے کے خلاف سخت مزاحمت پائی جاتی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے محقق رابرٹ پیٹرز کے مطابق نیو اسٹارٹ پر کسی حتمی معاہدے کی پیروی غفلت ہو گی، کیونکہ روس ماضی میں کئی بار تخفیفِ اسلحہ کے معاہدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے اور اب اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے دراصل صرف ایک ملک، یعنی چین فائدہ اٹھائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار صدر بننے کے بعد روس اور چین کے ساتھ تین ملکی جوہری تخفیفِ اسلحہ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ چینی صدر شی جن پنگ کو بھی کسی معاہداتی حل میں شامل کیا جا سکے۔
فروری 2025 میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان تینوں ممالک کا فوج اور جوہری ہتھیاروں پر اتنا زیادہ پیسہ خرچ کرنا فضول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے جوہری ہتھیار بنانے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ سرمایہ کہیں بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ فوجی بجٹ کو نصف کرنے کی تجویز بھی دی۔
تاہم چین نے اب تک اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی معاہداتی پابندی پر بات کرنے سے پہلے امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر پہنچنا چاہتا ہے۔ اسی دوران ٹرمپ امریکی دفاعی بجٹ میں کمی کے بجائے نمایاں اضافے اور نئے جوہری تجربات پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ولادیمیر پوتین بظاہر مذاکرات کے لیے آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی تجاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں بلکہ یورپ میں موجود امریکی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں میں کمی، اور برطانیہ و فرانس کے جوہری ذخائر پر بھی پابندیوں کے خواہاں ہیں۔
یورپ میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں بڑی جوہری طاقتیں یورپی یونین سے مشاورت کے بغیر ہی کوئی معاہدہ نہ کر لیں۔ عمومی خیال یہ ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ، اسٹریٹجک ہتھیاروں پر معاہدے کے بدلے یورپ میں موجود اپنے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو سکتا ہے، جو یورپی سلامتی کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ اس کے علاوہ یورپی حکومتیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشترکہ یورپی جوہری قوت پر اندرونی بحث جاری ہے، برطانیہ اور فرانس کے جوہری ہتھیاروں پر کسی قسم کی پابندی میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔
ہیمبرگ کے انسٹی ٹیوٹ فار پیس ریسرچ اینڈ سیکیورٹی پالیسی (IFSH) سے وابستہ ماہرین ٹِم ٹِیس اور فلپ فشر کے مطابق:
یورپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتا جبکہ دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقتیں اپنے مفادات کو یورپی سلامتی پر ترجیح دے رہی ہوں۔ یورپ کو کسی نقصان دہ معاہدے سے پہلے اپنی تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔
تاہم اب تک کسی سنجیدہ یورپی سفارتی اقدام کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ نیو اسٹارٹ معاہدے کے خاتمے میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے اور امریکہ و روس ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔
اگر واشنگٹن اور ماسکو آخری لمحات میں بھی کسی سمجھوتے پر نہ پہنچ سکے تو دنیا سرد جنگ کے بعد پہلی بار ایک بے قابو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔ اس معاہدے کے بغیر دونوں بڑی جوہری طاقتوں کے اسٹریٹجک جوہری ذخائر پر کوئی بالائی حد باقی نہیں رہے گی۔
ماہرین اس صورتحال میں جدید اسلحہ جاتی ٹیکنالوجیز، رابطے کے مؤثر ذرائع کی کمی اور چین کے بطور تیسری بڑی جوہری طاقت ابھرنے کو ایک خطرناک امتزاج قرار دے رہے ہیں، جو عالمی اسٹریٹجک توازن کو مستقل طور پر غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
ولادیمیر پوتین نے تجویز دی ہے کہ میزائلوں اور وارہیڈز سے متعلق موجودہ حدود کو ایک سال کے لیے بڑھا دیا جائے تاکہ مذاکرات کے لیے وقت حاصل کیا جا سکے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس تجویز پر باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
حکومت کو 31 جنوری کی ڈیڈ لائن دی، مذاکرات کے ساتھ ترسیلاتِ زر بائیکاٹ مہم بھی جاری ہے، عمران خان
?️ 3 جنوری 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران
جنوری
پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے: شیخ رشید
?️ 4 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ
اگست
شام کے ایک گاؤں کے رہائشیوں کا امریکی فوجیوں سے مقابلہ
?️ 15 فروری 2022سچ خبریں:شام کے شہر الحسکہ کے شمالی مضافات میں دیہاتیوں نے مقامی
فروری
اقوام متحدہ کی سعودی عرب پر افریقی تارکین وطن کے خلاف جرائم پر تنقید
?️ 2 اگست 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے اپنی ایک رپورٹ
اگست
حکومت نے عثمان مرزا کیس کی پیروی خود کرنے کا فیصلہ کر لیا
?️ 12 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے عثمان مرزا کیس کی پیروی خود
جنوری
گرفتاریوں کا فیصلہ وزیر اعلیٰ بن کر نہیں پاکستانی بن کر کیا
?️ 24 مئی 2022لاہور(سچ خبریں)وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ گزشتہ دن
مئی
پشاور: سی ٹی ڈی کی کارروائی، داعش کے 2 دہشت گرد گرفتار
?️ 12 جنوری 2024پشاور: (سچ خبریں) محکمہ انسداد دہشت گردی سی ٹی ڈی (پشاور) نے
جنوری
امریکہ کیسے مانے گا کہ یوکرین جنگ ہار چکا ہے؟
?️ 26 جولائی 2023سچ خبریں: امریکہ میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن
جولائی