عراق کے سیاسی حلقوں کا ٹرمپ کو انتباہ، داخلی امور میں مداخلت ناقابلِ قبول

ٹرمپ

?️

عراق کے سیاسی حلقوں کا ٹرمپ کو انتباہ، داخلی امور میں مداخلت ناقابلِ قبول

 عراقی سیاسی حلقوں نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عراق کے داخلی امور میں مداخلت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے پسپائی اختیار کی گئی تو یہ مستقبل میں مزید مداخلتوں، خصوصاً عراقی کابینہ کی تشکیل، کا راستہ ہموار کر دے گا۔

خبر رساں ادارے المعلومہ کے مطابق، عراق کی سابق پارلیمنٹ کے رکن محمد البیاتی نے ٹرمپ کی ان کوششوں پر تنقید کی جن کے ذریعے وہ عراق پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اپنے صدر کے ذریعے، آئندہ وزیر اعظم کے انتخاب میں مداخلت کر کے عراق کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

محمد البیاتی نے زور دیا کہ عراقی سیاسی جماعتوں کو امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح کی رعایتیں امریکہ کو عراق کے معاملات میں مزید مداخلت کا موقع فراہم کریں گی۔ ان کے مطابق، اگر آج یہ دباؤ قبول کر لیا گیا تو کل کابینہ کے وزرا کے انتخاب تک میں واشنگٹن مداخلت کرے گا تاکہ اپنے مفادات کو پورا کر سکے۔

دوسری جانب، عراقی پارلیمنٹ کے موجودہ رکن حسین العطوانی نے کہا کہ کوآرڈی نیشن فریم ورک نوری المالکی کی وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی پر قائم ہے، جو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں قومی اتحاد کی واضح علامت ہے۔

العطوانی کے مطابق، نوری المالکی کی نامزدگی پر اصرار اور بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عراقی سیاسی قوتیں داخلی فیصلوں میں خودمختاری پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی شخصیات کا بیرونی طاقتوں کے سہارے المالکی کی نامزدگی روکنے کی کوشش کرنا اکثریتی اتحاد کے آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی تشکیل ایک خالصتاً قومی معاملہ ہے، جسے بیرونی ایجنڈوں کی بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا۔ شیعہ سیاسی قوتوں کے خلاف بیرونی طاقتوں سے مدد لینا ایک خطرناک رجحان ہے جو قومی فیصلوں کو کمزور اور سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نوری المالکی کی ممکنہ واپسی کے خلاف خبردار کیا اور دھمکی دی کہ اگر وہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو امریکہ عراق کی امداد بند کر دے گا۔

ٹرمپ نے اس موقف کی وجہ نوری المالکی کے سابقہ دورِ حکومت کے تجربات کو قرار دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

ٹیکس کم سے کم اور سہولتیں زیادہ سے زیادہ کی پالیسی پر عمل کیا جائے

?️ 22 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیر صدارت ریسورس موبلائزیشن

نیتن یاہو کے گھر پر ڈرون حملہ؛ خود کہاں تھے؟

?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: دفتر وزیر اعظم صیہونی ریاست نے آج صبح ہونے والے

فلسطینیوں کے خلاف نہ رکنے والی صیہونی جارحیت، عالمی برادری خاموش تماشائی

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے

جنوبی یمن میں صیہونی جاسوسی کے ساز وسامان کی تعیناتی

?️ 24 ستمبر 2021سچ خبریں:متحدہ عرب امارات سے وابستہ ملیشیا کے تعاون سے اسرائیلی جاسوسی

مقبوضہ فلسطین میں خوفناک دھماکہ؛1 صیہونی ہلاک

?️ 15 فروری 2022سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین کے عسکلان علاقے میں ایک کار دھماکہ ہوا جس

غربت کے خاتمے کا بہترین طریقہ ایک فلاحی ریاست کا قیام ہے، وزیر اعظم

?️ 24 فروری 2021کولمبو {سچ خبریں} دو روزہ دورہ پر سری لنکا گئے وزیراعظم عمران

سکھر حیدرآباد موٹر وے منصوبہ کی منظوری دیدی گئی

?️ 18 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اب پشاور سے کراچی تک بذریعہ روڈ نان

ترکی کے بلدیاتی انتخابات میں اردگان کو بھاری شکست کیسے ہوئی؟

?️ 2 اپریل 2024سچ خبریں: بلدیاتی انتخابات میں اردگان کے اتحادی ایسے حالات میں ہار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے