?️
سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آئیں گے
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ شمالی غزہ کے واقعات کو نسل کشی کے طور پر ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے اور فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: طوفان الاقصی کا صیہونی سعودی دوستی پر کیا اثر پڑا؟
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے غزہ پر حملے انسانی المیے کا باعث بنے ہیں، دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے اور فلسطین کو جلد از جلد اقوام متحدہ کا رکن بنانا چاہیے۔
بن فرحان نے مزید کہا کہ جب تک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فلسطینیوں کے حقوق کو حل کیے بغیر خطے میں امن اور استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام بین الاقوامی قوانین کے اصولوں سے جڑا ہے، نہ کہ اسرائیل کی منظوری سے۔
لبنان کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے روابط ختم نہیں کیے، مگر مسائل کا حل لبنانیوں کے ہاتھ میں ہےنہ کہ سعودی یا غیر ملکی طاقتوں کے۔
بن فرحان نے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں فائر بندی مذاکرات اسرائیل کی نئی شرائط کی وجہ سے بار بار ناکام ہوئے ہیں، جب تک غزہ کے تنازع کو حل نہیں کیا جاتا، خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں رہے گا۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے سعودی عرب کو بتایا ہے کہ خطے میں بڑھتا ہوا تناؤ اس کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے ایرانی ہم منصبوں کو خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کی اہمیت بھی بتائی ہے۔
بن فرحان نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات صحیح سمت میں ہیں، مگر خطے کی پیچیدہ صورتحال کے باعث چیلنجز موجود ہیں، سعودی عرب نے ایران کے ساتھ کوئی فوجی مشق نہیں کی۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ تمام فریق اس بات کا فیصلہ کریں کہ کشیدگی سب کے لیے خطرناک ہے۔ اسرائیل کو کشیدگی میں کمی لانی چاہیے اور عالمی برادری کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کیا ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے والے ہیں؟
بن فرحان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ پیچیدہ معاملہ ہے اور سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے دوطرفہ معاہدے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے متعلق نہیں ہیں۔


مشہور خبریں۔
غزہ کی جنگ سلووینیا کی صدر کو کیا یاد دلا ر رہی ہے؟
?️ 3 مارچ 2024سچ خبریں: سلووینیا کی صدر نے اعلان کیا کہ انسانی امداد کے
مارچ
ایران امریکہ کا ازلی دشمن: امریکی جنرل
?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںامریکی مسلح افواج کے سربراہ نے ایران اور دیگر تین ممالک
اپریل
مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس ،جسٹس منصور علی شاہ نے درخواستوں کے دائرہ کار پر اہم فیصلہ جاری کر دیا
?️ 6 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس میں درخواستوں کے
مئی
فلسطین عالمی اتحاد کا مرکز ہے:پاکستانی جماعتیں اور اہم شخصیات
?️ 9 اپریل 2023سچ خبریں:پاکستان کے مختلف شہروں میں فلسطین اسلامی اتحاد کا محور کے
اپریل
نوشکی: کالعدم بی ایل اے کا ایف سی کے قافلے پر خودکش حملہ،3 جوانوں سمیت 5 افراد شہید
?️ 16 مارچ 2025نوشکی: (سچ خبریں) نوشکی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے پر
مارچ
برکس ممالک غلہ کی مارکیٹ میں نئی حکمرانی کی طرف گامزن
?️ 7 اپریل 2025 سچ خبریں:روسی حکومت نے برکس غلہ ایکسچینج کے قیام کے موضوع
اپریل
ڈپریشن کا علاج کروانے میں کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے: یشما گل
?️ 19 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں) اداکارہ یشما گل کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کا
جولائی
صیہونی جارحیت کے بارے میں چین اور یورپی یونین کا کیا کہنا ہے؟
?️ 14 اکتوبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور صیہونی حکومت
اکتوبر