ایران نے کتنے امریکی فوجی اڈوں کو نقصان پہنچایا ہے؟ بی بی سی کی رپورٹ

ایران نے جنگ

?️

سچ خبریں:برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں امریکہ کے 20 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

 برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانچ پڑتال رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حملے پہلے کے مقابلے میں زیادہ دقیق اور مؤثر ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں فضائی دفاعی نظاموں، نگرانی کے طیاروں اور فوجی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

بی بی سی نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کو وسیع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کی دقت اور مؤثریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے حقائق کی جانچ کے شعبے نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سیارچہ تصاویر اور دستیاب ویڈیوز کے تجزیے کی بنیاد پر ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں امریکہ کے 20 فوجی اڈوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جتنا سرکاری طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے فروری کے آخر سے اب تک مغربی ایشیا کے آٹھ ممالک، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، اردن، بحرین اور عمان شامل ہیں، میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں جدید فضائی دفاعی نظاموں، ایندھن فراہم کرنے والے فوجی طیاروں اور ریڈار نظاموں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے اہم نقصانات میں متحدہ عرب امارات اور اردن میں نصب تین جدید میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔ ان میں سے ہر نظام کی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی گئی ہے جبکہ ان کا متبادل فراہم کرنا نہایت دشوار اور وقت طلب عمل سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے سلطان بن عبدالعزیز فضائی اڈے پر نگرانی اور ایندھن رسانی کے لیے استعمال ہونے والے متعدد طیاروں کو نقصان پہنچا، جن میں ایک فضائی نگرانی کا طیارہ بھی شامل ہے جس کی متبادل لاگت تقریباً 700 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

کویت میں بھی ’’علی السالم‘‘ اور ’’عریفجان‘‘ فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جہاں ایندھن کے ذخیرہ گاہوں، طیاروں کے شیڈز اور مواصلاتی آلات سمیت مختلف بنیادی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران اپنی عسکری حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے کے وسیع حملوں کے بجائے زیادہ دقیق اور مخصوص اہداف پر مبنی حملوں کو ترجیح دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول اس تبدیلی کے باعث حملوں کی مؤثریت میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب بعض امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مراحل میں امریکی فوج اپنے حساس ساز و سامان کی منتقلی اور حفاظت کے معاملے میں مطلوبہ سطح کی احتیاط اختیار نہیں کر سکی، جس کے نتیجے میں بعض تنصیبات اور آلات کو نقصان پہنچا۔

مشہور خبریں۔

اگر ہم خود آئینی مقدمے کا فیصلہ کردیتے ہیں تو ہمیں کون روکنے والا ہے، جسٹس منصور

?️ 11 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور

خیبر پختونخوا سیکورٹی بحران کا موثر اداکار

?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں: گزشتہ چند دنوں کے دوران 20 پاکستانی سکیورٹی فورسز کی

یو اے ای اور سعودی عرب کو اسلحے کی برآمد کی امریکی پابندی ختم

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:بائیڈن حکومت نے اقتصادی بحران اور چین کے ساتھ مسابقت کی

پنجاب کابینہ کے تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت اور عوامی سہولت کے بڑے فیصلے

?️ 15 دسمبر 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب کابینہ نے شفافیت، تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت، انفراسٹرکچر، نوجوانوں

لندن سے واپسی پر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کچھ اہم اعلانات متوقع ہیں:مریم اورنگزیب

?️ 15 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ لندن سے

نیتن یاہو کی تل ابیب اور حیفا میں بھی نیتن یاہو کی خیر نہیں

?️ 10 دسمبر 2023سچ خبریں: صیہونی قیدیوں کی رہائی کے خلاف احتجاج کرنے والے آباد

عارضی جنگ بندی سے جیت کس کی ہوئی؟ حماس کی یا صیہونی حکومت کی؟

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں: اس میں کوئی شک نہیں کہ 4 روزہ عارضی جنگ

کشمیریوں کی قتل گاہ

?️ 22 جولائی 2023سچ خبریں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے