سعودی حکام خانۂ خدا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

سعودی حکام خانۂ خدا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

?️

سچ خبریں: یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے حج کے معاملے میں سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت خانہ خدا کو آمدنی کا ذریعہ سمجھتی ہے۔

المسیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق انصار اللہ یمن کے رہنما عبدالملک بدرالدین الحوثی نے ذی الحجہ کے مقدس مہینے کے آغاز پر یمن کے عوام اور اسلامی امت کو مبارکباد دیتے ہوئے حج کے حوالے سے سعودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔

سعودی حکومت کی حج کو تجارت بنانے کی پالیسی

الحوثی نے کہا کہ سعودی حکومت حج کے فریضہ کو ایک تجارتی موقع کے طور پر استعمال کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے حاجیوں سے وصول کیا جانے والا اضافی خرچ محض ایک غیر ضروری اور ناجائز منافع ہے، ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو بھاری مقدار میں تیل کی آمدنی ہوتی ہے پھر بھی وہ خانہ کعبہ کو ایک مالی ذریعہ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حج کے موسم میں مکہ میں غیر قانونی داخلے پر جرمانہ

یمنیوں کے لیے حج کی مشکلات

الحوثی نے نشاندہی کی کہ یمن جو حرمین شریفین کے قریب ہے، وہاں کے لوگوں کے لیے حج کے اقدامات، ترتیبات اور مالی اخراجات بہت پیچیدہ بنا دیے گئے ہیں، انہوں نے سعودی حکمرانوں کے خادم الحرمین کے لقب کے باوجود حاجیوں سے پیسے کمانے اور لوگوں سے بلیک میلنگ کے لیے حرمین شریفین کو استعمال کرنے پر تنقید کی۔

سعودی نظام کی سیاسی پالیسی اور مذہبی جبر

الحوثی نے کہا کہ سعودی نظام کی سیاسی پالیسی نے حج کے تمام شعائر کو اس سیاسی دائرے میں ڈال دیا ہے جو نہ اسلامی بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور نہ ہی امت مسلمہ کے دشمنوں کے خلاف اسلامی موقف کو مضبوط کرتا ہے، انہوں نے سعودی عرب پر مختلف ممالک کے حاجیوں کو حج کے دوران گرفتار کرنے کا الزام بھی لگایا۔

مسلمانوں کی حج کی ادائیگی میں رکاوٹیں

الحوثی نے کہا کہ مکہ کا کنٹرول کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ جیسا چاہے عمل کرے، انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کو حاجیوں پر ظلم و ستم اور محدودیتیں عائد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اس سے زیادہ تر مسلمان حج کی ادائیگی سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے عائد کردہ ظالمانہ اقدامات اور سکیورٹی خطرات "الصد عن المسجد الحرام” (مسجد الحرام کی زیارت سے روکنا) کے زمرے میں آتے ہیں،اگر حج کی شرائط پیچیدگی سے دور حالات میں تیار کی جائیں تو اس کا ہر سطح پر مسلمانوں کی حالت پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔

مغربی اثرات کی مذمت

الحوثی نے اسلامی امت کے حلقوں میں مغربی اثرات کو قابل افسوس قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری امت کی شناخت سے میل نہیں کھاتے، انہوں نے کہا کہ ہماری امت کے عظیم اصول، اقدار اور اخلاقیات مغربی نقطہ نظر کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے جو اخلاقی انحرافات اور بدعنوانیوں کو قانونی حیثیت دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں:حج کے دوران عازمین کی سہولت کیلئے ’پاک حج ایپ‘ کا افتتاح

امریکی اور اسرائیلی بربریت

الحوثی نے کہا کہ امریکہ خود کو مغربی لبرل نقطہ نظر کا سب سے بڑا نمونہ قرار دیتا ہے لیکن ہم اس ملک کی بربریت، سرکشی اور جرائم دیکھتے ہیں،اسی طرح اسرائیلی دشمن خود کو مغربی نقطہ نظر کا ماڈل قرار دیتا ہے، لیکن ہم اس کی وحشی گری، بدعنوانی اور ظلم دیکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مغربی نقطہ نظر امت مسلمہ کے لیے قابل اعتماد نہیں ہے اور اس کی قبولیت اسلامی حلقوں میں ہماری امت کو سرکشوں کے حوالے کر دیتی ہے۔

مشہور خبریں۔

برطانیہ میں غذائی تحفظ کے خطرے کی گھنٹی؛ ماہرین کی جانب سے گھروں میں ضروری اشیاء ذخیرہ کرنے کی سفارش

?️ 4 اپریل 2026سچ خبریں: برطانیہ میں ماہرین نے ایران کے خلاف جاری جارحانہ جنگ

اسرائیل کی لبنان میں نئی قسم کے کلسٹر بمبوں سے بمباری

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں:اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ حالیہ 13 ماہ کی جنگ

صہیونی فوجی وفد سقطری میں تعینات

?️ 1 ستمبر 2022باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ صیہونی حکومت نے اپنے فوجی

پاکستان: ہم علاقائی پیش رفت پر ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں

?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ملک کے وزیر اعظم

بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو 3 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

?️ 25 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو 3 روزہ سرکاری

پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف سوئٹزرلینڈ روانہ

?️ 21 جون 2026سچ خبریں:  پاکستان کے ایک سرکاری ذرائع نے الجزیرہ نیٹ ورک کو

امدادی بحری بیڑے صمود پر صیہونی حملے پر اقوام متحدہ کی تشویش،

?️ 20 مئی 2026سچ خبریں:اقوام متحدہ نے غزہ جانے والے عالمی امدادی بحری بیڑے صمود

اسرائیل نے جان بوجھ کر غزہ میں قیدیوں کے ٹھکانے کو شانہ بنایا:حماس

?️ 15 دسمبر 2024سچ خبریں:حماس کی عسکری ونگ کتائب القسام کے ترجمان ابو عبیدہ نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے