اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی اسٹریٹجک برتری

اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی اسٹریٹجک برتری

?️

سچ خبریں: اسرائیل کا شمالی محاذ میں داخل ہونا اور حزب اللہ کے ساتھ براہ راست تصادم ایک اسٹریٹجک غلطی ہوگی جس کے تل ابیب کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

پچھلے ہفتوں میں شمالی اسرائیل میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور صہیونی حکومت اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اسرائیل کے لیے شمالی محاذ ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ غزہ کے پناہ گزینوں کو لبنان کی سرحد کی طرف بھیج کر تناؤ کو مرکزی علاقے سے دور کر سکتا ہے لیکن حزب اللہ جو اس ملک کی جنوبی سرحدوں کی سکیورٹی کا کنٹرول رکھتی ہے، نتانیاہو کے اس مقصد کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کیا کر سکتی ہے؟ سابق صیہونی وزیر کا اعتراف

مزید برآں، 7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی عوام اب پہلے کی طرح اسرائیلی فوج کی برتری پر یقین نہیں رکھتی، غزہ سے باہر جنگ کے پھیلاؤ کے نتیجے میں صورت حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی اور خطہ مکمل جنگی حالت میں پڑ جائے گا،حزب اللہ کے ساتھ تصادم اب ماضی کی لڑائیوں سے بالکل مختلف ہوگا، حزب اللہ کی فوجی اور سیاسی صورتحال ایسی ہے کہ یہاں تک کہ کچھ اسرائیلی ماہرین بھی مانتے ہیں کہ حزب اللہ کے ساتھ براہ راست تصادم کا اسرائیل کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے غیر متوقع نقصانات ہوں گے۔

دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کا ارتقاء

حزب اللہ کی وجودی فلسفہ صہیونی حکومت کی مخالفت ہے، حزب اللہ نے اپنے وجود کو اسرائیل کی مخالفت میں تشکیل دیا ہے لہذا اس گروپ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کسی بھی حالت میں اسرائیل کے مفادات کے لیے ایک خطرہ ہے، 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں تل ابیب اور حزب اللہ کے درمیان کئی لڑائیاں ہوئیں، 2000 میں حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کو لبنان سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور 2006 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ حزب اللہ کی برتری کے ساتھ ختم ہوئی۔

مزید پڑھیں: لبنان کی حزب اللہ کا نیا شاہکار

2006 سے اب تک حزب اللہ نے ایک مشکل لیکن تیز رفتار عمل کو پورا کیا ہے اور اب فوجی ہتھیاروں کی مقدار کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا غیر سرکاری گروپ ہے، حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں زیر زمین سرنگوں کا ایک جال بچھایا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل، خاص طور پر حماس کے ساتھ اس طرح کی جنگی حکمت عملی کے تجربے میں ناکامی کے بعد، مشکلات میں گھر جائے گا۔

فوجی صلاحیتوں کی ترقی

حزب اللہ نے شام کی جنگ کے تجربے اور اس ملک میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑائی کے بعد، اپنی لاجسٹک صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور جدید فوجی آلات کے استعمال کا طریقہ سیکھ لیا ہے، 2006 میں حزب اللہ کی میزائل صلاحیتیں محدود تھیں لیکن اب اس گروپ نے اپنی میزائل طاقت کو بڑھاتے ہوئے دور تک مار کرنے والے تقریباً 200000 میزائل جمع کیے ہیں جو اسرائیل کے اہم فوجی مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

سیاسی وزن اور حمایت

حزب اللہ نے اپنے آخری براہ راست تصادم سے لے کر اب تک سیاسی طور پر بھی مثبت تبدیلیاں کی ہیں اور اب لبنان کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، حزب اللہ لبنان کی کابینہ میں ایک فعال سیاسی جماعت کے طور پر شامل ہے، حزب اللہ کی موجودہ سیاسی حیثیت اسے لبنان کے اندر اور باہر سے وسیع فوجی اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے، حزب اللہ کے میڈیا کے استعمال اور نرم طاقت میں اس کے اضافے نے اسرائیل کے لیے اس کے ساتھ جنگ میں کامیابی حاصل کرنے میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

نتیجہ

اسرائیل کا شمالی محاذ میں داخل ہونا اور حزب اللہ کے ساتھ براہ راست تصادم ایک اسٹریٹجک غلطی ہوگی جس کے تل ابیب کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، حزب اللہ کے ساتھ براہ راست تصادم صہیونی حکومت کی معلوماتی اور فوجی نقائص کو مزید ظاہر کرے گا، حزب اللہ کی پچھلی دو دہائیوں میں فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے پیش نظر، اس تصادم کا نتیجہ ایک دلدل ہوگا جس سے نکلنا نیتن یاہو کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔

مشہور خبریں۔

صہیونی فوج کا اپنی نئی ہلاکتوں کا اعتراف

?️ 18 جون 2024سچ خبریں: صہیونی فوج نے اعتراف کیا کہ غزہ کی پٹی میں

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 198 افراد جاں بحق

?️ 15 اگست 2025پشاور (سچ خبریں) شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں نے خیبرپختونخوا

دھمکی آمیز مشروط مذاکرات نہیں ہوں گے،سیاسی طریقہ اپنائیں، وفاقی وزراء

?️ 3 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کہا

افریقہ میں اسرائیل کی اہمیت تل ابیب کے تصور سے کہیں کم : عطوان

?️ 19 فروری 2023سچ خبریں:گزشتہ روز ذرائع ابلاغ کے ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ

باجوڑ اور مہمند کے عمائدین کا دہشتگردی کیخلاف مکمل تعاون کا اعلان، فوجی آپریشن کی مخالفت

?️ 5 اگست 2025باجوڑ: (سچ خبریں) باجوڑ اور مہمند کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے

غزہ آپریشن میں صیہونی فوجیوں کا بہت زیادہ نقصان

?️ 30 جون 2024سچ خبریں: الاقصیٰ شہداء بٹالینز نے اعلان کیا کہ فلسطینی جنگجوؤں نے

ایران سے مزید پاکستانی طلبہ دوسرے روز بھی وطن واپس پہنچے، تعداد 155 ہوگئی

?️ 2 مارچ 2026گوادر (سچ خبریں) ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ

امریکی کانگریس کے سامنے نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے

?️ 25 جولائی 2024سچ خبریں: فلسطینی حامیوں کی بڑی تعداد نے اس ملک کی کانگریس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے