?️
سچ خبریں:صیہونی اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ اور مغربی پٹی میں امدادی سرگرمیوں کو محدود کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں ٹن غذائی و طبی امداد سرحدوں پر پھنسی ہوئی ہے اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
صیہونی اخبار ہارٹیز نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امدادی سامان کی رسائی میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور قابض حکام نے ایک سخت گیر رویہ اختیار کیا ہوا ہے جس کے باعث غزہ اور کرانہ باختری میں انسانی امداد کی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:صیہونی حکام کی غزہ جانے والے امدادی ٹرکوں کی لوٹ مار کی اجازت؛صیہونی اخبار کا انکشاف
عربی 21 کے مطابق، اگرچہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ انسانی امداد کی فراہمی میں آسانی ہوگی، تاہم صیہونی حکومت اب بھی امداد کی مناسب مقدار کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی، جس کے نتیجے میں انسانی بحران اپنی شدت کے ساتھ برقرار ہے۔
ہارٹیز نے رپورٹ دی کہ اسرائیل نے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے غزہ اور مغربی پٹی میں سرگرم کئی بین الاقوامی و مقامی امدادی تنظیموں کو اپنے کام بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے جن میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہیں جنہیں پہلے سے تل ابیب کی جانب سے باضابطہ منظوری حاصل تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سخت گیر طریقہ کار کے تحت ان امدادی تنظیموں کو نہ صرف اپنے تمام ملازمین کی تفصیلی معلومات جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے بلکہ ان ملازمین کے خاندانوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنا ضروری کر دیا گیا ہے،اس کے بغیر نہ تو وہ امدادی سامان داخل کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے کارکن مقبوضہ فلسطین کا ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
صیہونی اخبار کا کہنا ہے کہ جن تنظیموں کو خود امدادی سامان غزہ لے جانے کی اجازت نہ ملی، وہ اقوام متحدہ یا دیگر مجاز اداروں کے ذریعے سامان داخل کرنے کی درخواست کر رہی تھیں، لیکن اسرائیل نے اس طریقے کی بھی راہ روک دی۔
اس پالیسی کے نتیجے میں ہزاروں ٹن امدادی سامان — جن میں خیمے، پناہ گاہوں کی تعمیر کا سامان، پینے کے پانی کی فراہمی کے آلات، سردی کے ملبوسات، ذاتی حفظانِ صحت کا سامان اور بڑی مقدار میں خوراک شامل ہے — غزہ کی سرحد کے باہر پھنس کر رہ گیا ہے۔
مزید پڑھیں:غزہ میں بھیجی جانے والی امداد کی چوری
ہارٹیز نے بشری الخالدی، پالیسی ڈائریکٹر آکسفام برائے فلسطینی علاقوں، کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں دراصل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد غزہ کو غیر قابلِ رہائش بنانا اور اجتماعی سزا کے طور پر بحران کو گہرا کرنا ہے۔


مشہور خبریں۔
پنجاب حکومت کے سہولت بازار پراجیکٹ سے روزگار کے مواقع پیدا
?️ 18 جنوری 2026لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت کے سہولت بازار منصوبے سے روزگار کے
جنوری
صیہونی اور مغربی حکومتوں نے کیا غزہ میں اسرائیل کی شکست کا اقرار
?️ 5 جون 2024سچ خبریں: امام خامنہ ای نے امام خمینی کی 35ویں برسی کے موقع
جون
شام میں داعش کے دوبارہ سر اٹھانے عراق کا اظہار تشویش
?️ 25 جنوری 2025سچ خبریں:عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے شام میں داعش کے
جنوری
ایہود باراک: اسرائیل کی حکمت عملی ناکام ہو گئی
?️ 21 اپریل 2026سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نے حالیہ جنگ میں
اپریل
غزہ میں نسل کشی اور ویسٹ بینک میں استعمار
?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: یورپی پارلیمنٹ کے بائیں بازو کے رہنما نے غزہ میں جنگی
نومبر
سیلاب متاثرین کو فوری امدادی رقم ادا کی جائے۔ علی امین گنڈاپور
?️ 19 اگست 2025صوابی (سچ خبریں) وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے سیلاب متاثرین کو
اگست
پاک سعودیہ تعلقات کو سرمایہ کاری، کاروبار کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائینگے۔ وزیراعظم
?️ 8 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی
اکتوبر
دمشق اور تل ابیب کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر دستخط کی تاریخ کا اعلان
?️ 25 اگست 2025سچ خبریں: صہیونیستی حکومت شام کے ساتھ ایک سیکورٹی معاہدے پر پہنچنے
اگست