کیا اسرائیل میں ایران جیسے بڑے ملک پر وسیع حملہ کرنے کی طاقت ہے؟روسی تجزیہ کاروں کی رائے

کیا اسرائیل میں ایران جیسے بڑے ملک پر وسیع حملہ کرنے کی طاقت ہے؟روسی تجزیہ کاروں کی رائے

?️

سچ خبریں:روسی تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ صہیونی حکومت کے پاس ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی طاقت نہیں ہے اور حالیہ حملہ بھی صرف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

روسی ماہرین نے الجزیرہ کے ساتھ گفتگو میں صہیونی حکومت کے ایران پر حملے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اسٹریٹیجک امور کے روسی تجزیہ کار رولانڈ بیجاموف نے کہا کہ تل ابیب کے ایران پر حملے کی نوعیت ظاہر کرتی ہے کہ صہیونی حکومت نے ایران کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا تھا اسی لیے عملی طور پر حملہ انتہائی کمزور ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف اسرائیل کا حملہ کیسا تھا؟ صیہونی میڈیا کی زبانی

ایران کی تیاری اور اسرائیلی حملے کی ناکامی
بیجاموف نے مزید وضاحت کی کہ ایران کے پاس اسرائیل کے حملے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کافی سازوسامان اور وسائل موجود تھے اور وہ اس حملے کے لیے پہلے سے تیار تھا، اس حملے سے ایران کو بڑے پیمانے پر کوئی نقصان نہیں پہنچا جو اسرائیل کی کمزوری کی علامت ہے۔

غزہ اور لبنان میں اسرائیلی ناکامیوں کی نشاندہی
بیجاموف نے کہا کہ اسرائیل کے حالیہ رویے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پاس ایران جیسے خطے کے کسی بڑے ملک پر تباہ کن حملے کرنے کی طاقت نہیں ہے۔

مزید برآں، اسرائیل کو غزہ میں اپنی کارروائیوں میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ اس علاقے میں حالات کو قابو میں نہیں لا سکا۔

تل ابیب کی جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی ناکام رہی، جس میں اسرائیلی فوجیوں کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر آندرے انتیکوف نے بھی زور دیا کہ اسرائیل کا حالیہ حملہ اس پیمانے کا نہیں تھا کہ تل ابیب اس کی بنیاد پر ایران کے ساتھ تنازعے کے نئے اصول بنا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور خطے میں اس کے اتحادیوں نے اس صورتحال میں اسٹریٹیجک صبر کا مظاہرہ کیا، حالانکہ ان کے پاس اسرائیل پر مسلسل حملے کرنے کی بہت سی وجوہات موجود تھیں۔

مزید پڑھیں: ایران کے فضائی دفاع کی کامیاب کارکردگی اور ہوشیاری؛عربی میڈیا کی رپورٹ

انتیکوف نے کہا کہ حالیہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل زیادہ تر میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا تھا اور عملی طور پر اس کا کوئی اسٹریٹیجک اثر نہیں تھا۔

مشہور خبریں۔

سینئر ججز کا چیف جسٹس کو خط، 26ویں ترمیم کا کیس اسی ہفتے فل کورٹ میں لگانے کا مطالبہ

?️ 5 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز جسٹس منصور

اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا تاثر زمین بوس ہوچکا۔ خواجہ آصف

?️ 22 جون 2025سیالکوٹ (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل کے

صدر مملکت نے پاکستان لینڈپورٹ اتھارٹی بل 2025 کی منظوری دیدی

?️ 30 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان لینڈ

عراقی رہبر علی سیستانی کی توہین کی مذمت میں عراقیوں کا مظاہرہ

?️ 31 مارچ 2022سچ خبریں:   آج بغداد کے تحریر اسکوائر پر عراق کے شیعہ مقتدر 

نیو یارک بروکر کا حق؛ کیا سعودی ایف 35 کی خریداری کا معاملہ متحدہ عرب امارات کی تقدیر کی پیروی کرے گا؟

?️ 21 نومبر 2025سچ خبریں: سعودی عرب امریکہ سے ایف-35 خریدنے کا خواہاں ہے جب

ایران میں صدارتی انتخابات کی تازہ ترین صورتحال

?️ 29 جون 2024سچ خبریں: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آج ایک مضمون ایران میں صدارتی

یمن کے بارے میں متحدہ عرب امارات کا تازہ ترین موقف

?️ 12 اپریل 2023سچ خبریں:متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ یہ ملک یمن کے

نیتن یاہو اقتدار کے لالچی کیوں ہیں؟

?️ 6 فروری 2024سچ خبریں: Yair Lapid نے معاریو اخبار کے ساتھ اپنی گفتگو میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے