انسانی حقوق کے بارے میں برطانیہ کے دوہرے معیار کا پردہ فاش ہوگیا

انسانی حقوق کے بارے میں برطانیہ کے دوہرے معیار کا پردہ فاش ہوگیا

?️

لندن (سچ خبریں)  انسانی حقوق کے بارے میں برطانیہ کے دوہرے معیار کا پردہ فاش ہوگیا ہے اور برطانیہ کی منافقت کے بارے میں اہم انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق برطانیہ کی حکومت نے انسانی حقوق کی شدید پامالیاں کرنے والے ممالک کو بھاری مقدار میں اسلحہ فروخت کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی کچھ اطلاعات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ لندن کی حکومت نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران دہرا معیار اپناتے ہوئے برطانوی حکومت کے انسانی حقوق کی فہرست میں شامل 30 ممالک میں سے 21 ممالک کو اسلحہ فروخت کیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی سپوٹنک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برطانوی اسلحہ کی تجارت کے خلاف مہم کے ذریعہ پیش کردہ رپورٹ سے غیر ملکی ممالک کے ساتھ اس کے باہمی رابطے میں اس ملک کے دوہرے معیار کی تصدیق ہوتی ہے۔

جیسا کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2011 سے 2020 کے درمیان، برطانیہ نے انسانی حقوق کی پامالیوں اور حتی کہ اسلحے کی پابندی یا دیگر پابندیوں کے الزامات عائد کرنے والے ممالک کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ اسلحہ اور فوجی سازوسامان فروخت کیا۔

رپورٹ کے مطابق ان میں مصر، سعودی عرب اور لیبیا شامل ہیں، جن کے نام نومبر 2020 میں برطانوی دفتر خارجہ کے ذریعہ پیش کردہ ان 30 ممالک میں شامل تھے جو انسانی حقوق کی پامالیاں کرتے ہیں، جبکہ توقع کی جارہی تھی کہ ان ممالک پر لندن حکومت کی جانب سے پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ جب تجارت اور جغرافیائی سیاسی مفادات کی بات آتی ہے تو برطانوی حکومت اپنے ہی حقوق انسانی کے دعووں کو نظرانداز کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ 30 میں سے 21 ممالک جنہیں لندن کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے ممالک سمجھا جاتا ہے انہیں برطانوی ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان تک رسائی حاصل ہے، جبکہ یمن کی جنگ میں ان میں سے بہت سے ہتھیار استعمال ہوچکے ہیں، اور فوجی جارحیت میں ملوث سعودی طیاروں کی نصف سے زیادہ تعداد برطانوی لائسنس کے تحت ہے۔

دریں اثنا امریکہ میں انسانی حقوق کے ایک گروپ کی ایک اور رپورٹ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دوتہائی ممالک جنہیں انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے ممالک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، گذشتہ ایک دہائی کے دوران، انہیں بھاری تعداد میں برطانوی فوجی ہتھیار دیئے جاتے رہے ہین۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی شرائط کیا ہیں ؟

?️ 26 نومبر 2024سچ خبریں: Axios نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ اسرائیل

بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں ”بھارتی یوم جمہوریہ“ سے قبل تلاشی کی کارروئیوں ، چھاپوں کاسلسلہ تیز کردیا

?️ 13 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

ایران پاکستان تعلقات کو گہرا کرنے میں امیر عبداللہیان کا کردار نمایاں رہا

?️ 23 مئی 2024سچ خبریں: ایران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو نے مہر خبررساں

عمران خان، بشریٰ بی بی کیخلاف القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی

?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم و بانی تحریک انصاف (پی ٹی

شہزاد اکبر نے وزیر اعظم کو نا مکمل تفصیلات دی تھیں

?️ 25 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے

اسرائیل نے شمال میں اپنے بے گھر لوگوں کی تعداد کو کیسے دوگنا کیا ؟

?️ 19 ستمبر 2024سچ خبریں:گذشتہ سال 8 اکتوبر سے جب حزب اللہ نے صہیونی دشمن

آڈیو لیکس معاملہ: ایف آئی اے نے شوکت ترین کےخلاف مقدمہ درج کرلیا

?️ 13 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف آئی اے  کے سائبر کرائم ونگ نے

X (Twitter) بھی صیہونی جرائم میں شریک

?️ 12 اکتوبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے خلاف قابضین کے بڑھتے جرائم کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے