7 اکتوبر کے بعد اسرائیل میں ایران کا اثر و رسوخ سامنے آیا:عبری میڈیا

اسرائیل

?️

7 اکتوبر کے بعد اسرائیل میں ایران کا اثر و رسوخ سامنے آیا:عبری میڈیا
 عبرانی خبررساں ویب سائٹ واللا کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل میں ایران کے جاسوسی نیٹ ورک کی تلاش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تک 30 مختلف کیسز میں 46 اسرائیلیوں کو ایران کے لیے جاسوسی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی خفیہ اثر و رسوخ اب اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
واللا کے حوالہ سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس حلقوں نے اطلاع دی ہے کہ آن لائن ذرائع سے معلومات جمع کرنے اور حراست کے لیے افراد بھرتی کرنے کی کوششیں روزانہ کی بنیاد پر دسوں مرتبہ کی جا رہی ہیں۔ دریافت شدہ مقدمات کے تجزیاتی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ اداروں کو ایرانی کارروائیوں کا سراغ لگانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
واللا نے نشاندہی کی کہ ایرانی اثر و رسوخ اب کسی مخصوص ذات، مذہب یا جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں رہا  ملزمان کی شناخت مختلف پس منظر سے کی گئی ہے:چند گرفتار شدگان سابقہ سوویت جمہوریہ سے تعلق رکھتے ہیں،بعض عرب اسرائیل کے شہری ہیں،کچھ حریدی (ارتھوڈوکس)،کچھ اسرائیلی فوج کے اہلکار، اورحتیٰ کہ بعض امریکی شہریت والے افراد بھی شامل ہیں۔گرفتار شدگان کی عمر 13 سے 72 سال کے درمیان بتائی گئی ہے، یعنی نفوذ کا دائرہ عمرانی حد بندی سے بالاتر ہے۔
واللا کے مطابق ایرانی خفیہ حلقے بھرتی کے لیے جدید تکنیک استعمال کر رہے ہیں اور سکیورٹی جائزوں کا کہنا ہے کہ "خفیہ جنگ عروج پر ہے آن لائن بھرتی کے روزانہ درجنوں اقدامات جاری ہیں جن کا مقصد اسرائیل میں زیادہ وسیع آپریشنل نیٹ ورک تشکیل دینا ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس اور شین بت کی مشترکہ کوششوں سے ایک مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ عوام کو ایرانیوں کے ساتھ تعاون کے نتائج اور اسرائیل کی سکیورٹی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
ایک باخبر سکیورٹی ماخذ نے بتایا: "یہ 30 معاملات ایسی بھرتیوں کے کیسز ہیں جنہیں بے اثر کر دیا گیا  ان میں سے تین کیسز حال ہی میں میڈیا میں آئے۔ خفیہ جنگ اپنے عروج پر ہے اور روزانہ عشرہا آن لائن کوششیں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: "ایران کی مدد کرنے والے اسرائیلی افراد کو ان مشنز کے سنگین نتائج کا ادراک ہونا چاہیے۔ سڑکوں یا عوامی مقامات کی ویڈیوگرافی ایران کو ہدفی آپریشنز کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے۔”
اس ماخذ کے مطابق، "ایک ایرانی آپریٹر کسی بھی شہری کو بھرتی کر سکتا ہے — نابالغ جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، انتہا پسند ارتھوڈوکس افراد، ریزرو فوجی، یا بالغ شہری  بھرتی کا عمل تیزی سے ہوتا ہے اور ظاہری طور پر معمولی کام بھی جلد خطرناک سرگرمیوں یا حتیٰ کہ قتلِ عام کی سازشوں تک پہنچ سکتا ہے

مشہور خبریں۔

مہران اور کامرہ بیس حملوں میں اربوں کے طیارے تباہ ہوئے، کیا 9 مئی کا جرم زیادہ سنگین ہے؟ سپریم کورٹ

?️ 30 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت

امریکہ دنیا کا سب سے بڑا قذاق ہے:لبنانی مفتی

?️ 17 جنوری 2021سچ خبریں:ایک لبنانی مفتی نے واشنگٹن کی جانب سے آستان قدس رضوی

فلسطینی نوجوانوں نے تل آویو کے ساتھ تنازع کے اصولوں کو کیسے تبدیل کیا؟

?️ 12 اپریل 2022سچ خبریں:  جیسے جیسے صیہونی حکومت اپنی جارحیت کو جاری رکھے ہوئے

امریکہ نے اسرائیل میں فوج بھیجنے سے کیا انکار

?️ 10 اکتوبر 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے کوآرڈینیٹر

وائٹ ہاؤس کے سابق ڈاکٹر کا بائیڈن کے بارے میں چونکا دینے والا بیان

?️ 28 فروری 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے سابق ڈاکٹر نے امریکی صدر کی جسمانی حالت

آٹا، چینی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، مہنگائی سے ستائے عوام بلبلا اٹھے

?️ 27 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) بجلی کے مہنگے بلوں کی بھاری ادائیگی کے

آئزن کوٹ کا نیتن یاہو پر شدید حملہ

?️ 13 جون 2026سچ خبریں: سابق اسرائیلی فوجی سربراہ اور یش عتید پارٹی کے رہنما گادی

صیہونیوں کا مسجد الاقصی پر وحشیانہ حملہ/ مزاحمتی تحریک کا جواب

?️ 5 اپریل 2023سچ خبریں:صیہونی فوجیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر وحشیانہ حملہ کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے