?️
سچ خبریں: برطانیہ میں ایران کے سفیر سید علی موسوی نے برطانوی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر کو ایک احتجاجی خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے بارے میں یک طرفہ مؤقف درست نہیں، اور اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی موجودہ صورتحال کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار سلامتی غیر علاقائی فوجی اتحادوں، سیاسی دباؤ اور بحران کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
سفیر ایران نے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی حالیہ پارلیمانی تقریر کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کو امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جارحانہ کارروائیوں کے وسیع تناظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
برطانوی وزیر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جہاز رانی کے لیے نئے قواعد نافذ کر کے آزاد گزرگاہ کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے اور آبنائے ہرمز کو بغیر ایرانی اجازت کے کھلا ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک کثیر القومی مشن سمندری تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی سفیر نے کہا کہ اس طرح کے بیانات بحران کی اصل وجوہات کو نظرانداز کرتے ہیں اور غلط فہمی کو جنم دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو تنقید کا نشانہ بنانا اور امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کو نظرانداز کرنا حقائق کی توڑ مروڑ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف غیر قانونی فوجی اقدامات، جن میں ایرانی سرزمین، بنیادی ڈھانچے اور حکام پر حملے شامل ہیں، نے خطے کے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور خلیج فارس میں خطرناک سکیورٹی صورتحال پیدا کی ہے۔
سفیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی ان جارحانہ اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے اور اس کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملے واضح طور پر بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کے تحت طاقت کے استعمال کی ممانعت۔
سید علی موسوی نے کہا کہ ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا ساحلی ملک ہونے کے ناطے اس خطے میں اپنے جائز سلامتی مفادات رکھتا ہے، جنہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اقدامات کو دفاعِ مشروع کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے، جو بیرونی خطرات کے مقابلے میں قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
سفیر نے خطے میں بیرونی فوجی موجودگی اور اتحادوں کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں پائیدار سمندری سلامتی صرف علاقائی ممالک کے تعاون، خودمختاری کے احترام اور بیرونی مداخلت سے گریز کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کی قیادت میں کسی بھی فوجی مشن یا سکیورٹی انتظام کو ایران سمیت ساحلی ممالک کی رضامندی کے بغیر مسلط کرنا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔
موسوی نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کو مزید عسکری بنا سکتے ہیں، کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سمندری آزادی اور جہاز رانی کو سیاسی دباؤ یا کشیدگی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
آخر میں ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران ہمیشہ سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے خطے کے استحکام اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کا خواہاں رہا ہے، اور توقع رکھتا ہے کہ برطانوی حکام اپنے بیانات میں توازن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔


مشہور خبریں۔
سیکڑوں کیسز دوبارہ کھلنے کے بعد افرادی قوت ناکافی، نیب نے دیگر اداروں کے افسران کی خدمات طلب کرلیں
?️ 24 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے نتیجے میں
ستمبر
جنوبی لبنان پر صیہونی حکومت کے مسلسل حملوں کے مقاصد کیا ہیں؟
?️ 2 فروری 2026سچ خبریں: صہیونی ریاست کی فوج نے حال ہی میں ایک بیان
فروری
لبنان میں صیہونیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری
?️ 5 جون 2026سچ خبریں:صیہونی حکومت نے جنوبی لبنان میں فضائی اور ڈرون حملوں کا
جون
ہم حالت جنگ میں ہیں؛ کابل کے ساتھ مذاکرات فضول ہیں: پاکستانی وزیر دفاع
?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ
نومبر
صدر مملکت نے عوام سے خاندانی منصوبہ بندی پر عمل کرنے کی اپیل کر دی
?️ 14 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام سے خاندانی
ستمبر
بلوچستان میں فوج نے کلیئرنس آپریشن شروع کر دئے
?️ 5 فروری 2022راولپنڈی (سچ خبریں)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر
فروری
ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان میں ریلیف اقدامات کیلئے 30 لاکھ ڈالر کی منظوری
?️ 1 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں تباہ کن
ستمبر
ہم جو بھی کرتے ہیں حکومت سے پوچھ کے کرتے ہیں:آرمی چیف
?️ 26 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 20
اپریل