?️
سچ خبریں: موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات اور وسطی ایشیا میں آبی وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک ایک پرانے سوویت دور کے پانی کی تقسیم کے نظام سے نکل کر تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے ماڈلز کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی، افغانستان میں قوش تپہ نہر جیسے نئے چیلنجز کے ساتھ مل کر، دنیا کے ایک انتہائی حساس آبی خطے میں ایک نیا ہائیڈرو پولیٹیکل نظام تشکیل دے سکتی ہے۔
ہائیڈرو پولیٹکس اس بات کا مطالعہ ہے کہ آبی وسائل کس طرح ممالک کے درمیان تعلقات، تعاون، مقابلے اور سیاسی تناؤ کو متاثر کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سوویت دور میں قائم دریاؤں کی پانی کی تقسیم کا نظام اب موجودہ ضروریات کو پورا نہیں کر رہا، جس کی وجہ سے وسطی ایشیائی ممالک کو روایتی مذاکرات سے آگے بڑھ کر آبی ڈھانچے کی مشترکہ ملکیت جیسے نئے ماڈلز اپنانے پڑ رہے ہیں۔
اگرچہ خطے کے ممالک باہمی تعاون بڑھا رہے ہیں، لیکن جنوبی سرحدوں پر ایک نیا مسئلہ ابھر رہا ہے جو پورے آبی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
پرانے نظام کی کمزوریاں
وسطی ایشیا میں پانی کا انتظام بظاہر بین ریاستی اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جن میں بین ریاستی آبی ہم آہنگی کمیشن اور ارال سمندر کو بچانے کا بین الاقوامی فنڈ شامل ہیں۔
نظری طور پر یہ نظام فعال دکھائی دیتا ہے۔ سال میں دو بار ممالک کے نمائندے بہار اور خزاں کے سیزن سے قبل مل کر دریائے سیردریا اور آمو دریا سے پانی کی تقسیم کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2025 کے آخر میں عشق آباد میں ہونے والے اجلاس میں 2026 کے لیے آمو دریا سے تقریباً 55.4 ارب مکعب میٹر پانی کی تقسیم پر اتفاق کیا گیا۔
یہ نظام بظاہر ممالک کے درمیان بڑے تنازعات کو روکنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کی بنیاد 1992 کے الماتی معاہدے پر ہے جو سوویت دور کے مرکزی منصوبہ بندی والے نظام کو ہی جاری رکھتا ہے، حالانکہ اب خطے میں آزاد اور متضاد مفادات رکھنے والے ممالک موجود ہیں۔
آبی تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس نظام کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں نفاذ کا کوئی مؤثر طریقہ موجود نہیں۔ اگر کوئی ملک خشک سالی میں طے شدہ کوٹہ سے زیادہ پانی استعمال کرے تو اس پر کوئی قانونی یا معاشی سزا نہیں ہوتی۔
اختلافات اکثر ہنگامی مذاکرات یا بعض اوقات سربراہانِ حکومت کی براہِ راست مداخلت سے حل کیے جاتے ہیں۔ یہ نظام سیاسی نیک نیتی اور ذاتی تعلقات پر انحصار کرتا ہے، جو موسمیاتی دباؤ کے دور میں مزید کمزور ہو گیا ہے۔
اب وسطی ایشیا کے ممالک روایتی کوٹے کے نظام کے بجائے مشترکہ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے ماڈلز کی طرف جا رہے ہیں۔
سیردریا بیسن میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بالائی اور زیریں ممالک کو مختلف موسموں میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کرغزستان اور تاجکستان کو سردیوں میں بجلی اور گرمی کے لیے پانی چھوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ قازقستان اور ازبکستان کو گرمیوں میں زراعت کے لیے یہی پانی درکار ہوتا ہے۔
سردیوں میں پانی چھوڑا جاتا ہے جب ضرورت کم ہوتی ہے، اور گرمیوں میں قلت پیدا ہو جاتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے طور پر کرغزستان میں کامباراٹا-1 ہائیڈرو پاور منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس کی لاگت تقریباً 4.2 ارب ڈالر ہے۔
اس منصوبے کی خاص بات اس کی مشترکہ ملکیت ہے: کرغزستان 34 فیصد، جبکہ قازقستان اور ازبکستان ہر ایک 33 فیصد کے مالک ہوں گے۔
اس طرح قازقستان اور ازبکستان اربوں ڈالر سرمایہ لگا کر فیصلہ سازی میں شریک ہو جائیں گے، جس سے پانی کے ذخیرے اور اس کے موسمی استعمال کو بہتر طور پر منظم کیا جا سکے گا۔
افغانستان کا قوش تپہ نہر منصوبہ
دوسری جانب آمو دریا کے علاقے میں ایک بڑا چیلنج سامنے آ رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت شمالی علاقے میں 285 کلومیٹر طویل اور تقریباً 100 میٹر چوڑی قوش تپہ نہر بنا رہی ہے، جو آمو دریا کے 25 سے 30 فیصد پانی کو موڑ سکتی ہے۔
افغانستان چونکہ عالمی مالیاتی اداروں سے الگ ہے، اس لیے یہ منصوبہ زیادہ تر اندرونی وسائل سے بنایا جا رہا ہے، اور اس میں کنکریٹ کی کمی کے باعث پانی کے ضیاع کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اگرچہ سب سے زیادہ اثر ازبکستان اور ترکمانستان پر پڑے گا، لیکن چونکہ پورا آبی نظام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔
ازبکستان میں پانی کی کمی سیردریا پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے قازقستان کو بھی 30 سے 40 فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جو زراعت اور ارال سمندر کی بحالی کو شدید متاثر کرے گا۔
نئے نظام کی تلاش
افغانستان چونکہ موجودہ علاقائی آبی نظام کا حصہ نہیں، اس لیے اس کے لیے قوانین محدود ہیں۔ اس نے بین الاقوامی آبی کنونشنز پر دستخط بھی نہیں کیے۔
ازبکستان نے اس صورتحال کے پیش نظر افغانستان کو تکنیکی مدد کی پیشکش کی ہے تاکہ نہر کی تعمیر میں بہتری لا کر پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔
قازقستان نے اقوام متحدہ کے تحت ایک بین الاقوامی آبی ادارہ بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ اس حساس مسئلے کو غیر جانبدار پلیٹ فارم پر حل کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں پانی کا مسئلہ صرف قدرتی وسائل کا نہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور سیاسی استحکام کا بنیادی مسئلہ بن جائے گا۔


مشہور خبریں۔
مغربی کنارے میں 7000 سے زائد نئے صہیونی ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کی منظوری
?️ 16 فروری 2023سچ خبریں:عبرانی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کی کابینہ
فروری
اندرون ملک بغیر کورونا ویکسی نیشن کے ہوائی سفر کرنے پر پابندی عائد ہو گئی
?️ 31 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں) کورونا ویکسی نیشن کے بغیر اندرون ملک ہوائی سفر
جولائی
وزیراعظم سعودی عرب کے دورے پرآج روانہ ہوں گے
?️ 23 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم آج 23 سے 25 اکتوبر تک سعودی عرب
اکتوبر
سیٹی بج چکی ، گیم شروع ،بکنے اور بکالنے والوں کے درمیان مقابلہ ہے، شیخ رشید
?️ 19 اکتوبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا
اکتوبر
یمن کی سرزمین پر امریکہ اور انگلستان کی جارحیت
?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: امریکہ اور انگلینڈ نے ایک بار پھر صیہونی حکومت کی
اکتوبر
عطوان: امام خامنہ ای کے وعدے سچے وعدے ہیں
?️ 29 جون 2025سچ خبریں: ممتاز فلسطینی تجزیہ نگار نے کہا کہ امام خامنہ ای
جون
ڈیرہ اسمٰعیل خان: پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ، کانسٹیبل زخمی
?️ 5 مارچ 2023خیبر پختونخوا: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان کے
مارچ
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کیا چل رہا ہے؟؛ حافظ نعیم الرحمٰن کی زبانی
?️ 23 جون 2024سچ خبریں: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے
جون