?️
سچ خبریں: ایک سینئر اسرائیلی صحافی کے بنیامین نتانیاہو کی ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں جھوٹی روایات پر بیان نے مقبوضہ علاقوں میں غصے اور بے اعتمادی کی لہر دوڑا دی ہے اور اسرائیل کے میڈیا ماحول کو گرما دیا ہے۔
اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 12 کے سیاسی صحافی ‘یارون آوراہام’ کے صیہونی حکومت کے حکام کی طرف سے ایران کی سرزمین پر حملے کے معاملے میں خفیہ کاری اور غلط معلومات فراہم کرنے سے متعلق بیانات نے اس حکومت کے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بحث و تکرار کو جنم دے دیا ہے۔
اس چینل 12 کے سیاسی صحافی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی حکام نے ‘بہت سے معاملات میں عوام سے جھوٹ بولا ہے’، لیکن فوج کے سنسر شعبے کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے ان معاملات کو افشا کرنا ممکن نہیں ہے۔
عبرانی اخبار ‘معاریو’ نے ان بیانات کو شائع کرتے ہوئے لکھا کہ آوراہام نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ‘ایران میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں عوام کو جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ غلط اور نامکمل ہے’، بہت سے ناظرین کو چونکا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردے کے پیچھے اہم تفصیلات ہیں جنہیں فوجی سنسر شپ کی وجہ سے شائع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں شائع ہوا جب اسرائیلی عوام کا اس حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتانیاہو کے سرکاری بیانات پر اعتماد شدید حد تک کم ہو گیا ہے اور حکومت کی خفیہ کاری کی طرف کوئی بھی اشارہ سماجی حساسیت کو دوچند کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے آوراہام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر اسرائیل میں میڈیا اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعلقات اور صحافت کی آزادی کی حد پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اس صحافی نے انٹرویو کے ایک حصے میں کہا تھا: ایران کی کہانی بالکل ویسی نہیں ہے جیسی نتانیاہو اور کابینہ ہمیں بتا رہے ہیں۔ کچھ کام تھے جو ہمیں کرنے چاہیے تھے اور ہم نے نہیں کیے۔
جب اینکر نے اس سے پوچھا کہ کیا لوگ حقیقت جان کر ‘چونک جائیں گے؟’ تو اس نے جواب دیا: میرے خیال میں وہ ان تمام دعوؤں کے بارے میں جیسے ‘ہم نے انہیں گرا دیا’، ‘ہم نے انہیں قتل کر دیا’ یا ‘ہم نے انہیں تباہ کر دیا’ زیادہ شک کریں گے۔ حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ہم سے جھوٹ بولا ہے۔
ان بیانات پر صیہونی صارفین اور تجزیہ کاروں کی شدید ردعمل سامنے آئی ہے۔ بہت سے ناقدین نے کہا کہ اگر کوئی سینئر صحافی ایسی معلومات رکھتا ہے جو سرکاری روایت پر سوال اٹھاتی ہے تو اس کا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ وہ حقیقت کو افشا کرے، نہ کہ اسٹوڈیو میں مبہم اشارے کرے۔ کچھ نے لکھا: ‘اگر انہوں نے ہم سے جھوٹ بولا ہے تو تم ہمیں کیوں نہیں بتا رہے؟’ دوسرے گروپ نے آوراہام پر الزام لگایا کہ ‘ان کا 90 فیصد کام عوام تک نتانیاہو کے پیغامات پہنچانا ہے’ اور اب وہ خود کو اس ڈھانچے سے الگ نہیں کر سکتے۔
ان ردعمل کے درمیان، دوسرے صارفین نے یہ بھی لکھا: ‘پریس کو حقیقت پیش کرنی چاہیے، نہ کہ حکومت کی ترجمان ہو’ اور ‘اگر میڈیا اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا کرتا تو آج لوگ اتنے الجھن میں نہ ہوتے۔’
یہ تنازعہ جاری ہے اور اب عوامی بحث نہ صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ ایران میں کیا ہوا اور نتانیاہو کی حکومت عوام سے کیا چھپا رہی ہے، بلکہ اس نے مقبوضہ علاقوں میں اعتماد کے گہرے بحران اور سانسور اور بڑے پیمانے پر بے اعتمادی کے دور میں میڈیا کے کردار پر بھی سایہ ڈال دیا ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکی طلباء کے بارے میں عدالت کا فیصلہ
?️ 17 جون 2024سچ خبریں: کیلیفورنیا کی عدالت نے حال ہی میں فیصلہ سنایا کہ
جون
ٹرمپ نے مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنے کی حتمی تاریخ مقرر کی تھی:روئٹرز
?️ 2 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ونزوئلا کے صدر نیکولس مادورو کو
دسمبر
صیہونیوں نے غزہ کے کتنے رہائشی یونٹ مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں؟
?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ میں حماس سے وابستہ حکومت کے اطلاعاتی دفتر نے
نومبر
غزہ کو خریدنے اور اس کا مالک بننے کے لیے پر عزم ہوں!:ٹرمپ
?️ 11 فروری 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر غزہ میں
فروری
عمران خان کے ساتھ ہیں جبھی تو وہ وزیراعظم ہیں:خالد مقبول صدیقی
?️ 9 مارچ 2022کراچی (سچ خبریں) ایم کیوایم پاکستان کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات
مارچ
متحدہ عرب امارات صدمے میں؛ کیا یمنی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی؟
?️ 23 جنوری 2022سچ خبریں: گزشتہ ہفتے پیر کی صبح اماراتی عوام کو اچانک خوفناک آوازوں
جنوری
غزہ میں نسل کشی روکنے میں ناکام رہے:یورپی یونین
?️ 6 ستمبر 2025غزہ میں نسل کشی روکنے میں ناکام رہے:یورپی یونین یورپی کمیشن کی
ستمبر
ٹرمپ کا مضحکہ خیز دعویٰ: حماس نے مجھے کہا کہ وہ غیر مسلح ہو جائے گی!
?️ 15 اکتوبر 2025سچ خبریں: اپنے تازہ ترین بیانات میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا
اکتوبر