?️
سچ خبریں: برطانوی ایوانِ زیريں کے ارکان کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر ہونے والی بحث میں امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی ایران کے خلاف جنگ پر واضح تنقید اور اس کے نتائج کے بارے میں انتباہ نے اس پارلیمان کو واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسیوں کے خلاف غیرمعمولی احتجاج کا مرکز بنا دیا۔
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے حوالے سے لندن کے تازہ مؤقف پر تقریر کے بعد، ارکانِ پارلیمان نے واضح اور غیرمعمولی موقف اختیار کرتے ہوئے امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس جنگ کے جاری رہنے کے خطے اور حتیٰ کہ برطانیہ کے اندرونی حالات پر پڑنے والے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔
لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ایڈ ڈیوی نے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی صدر کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "یہ باتیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ یہ صدر کتنا بے باک، غیر اخلاقی اور بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کام کر رہا ہے۔”
انہوں نے آبنائے ہرمز کو گھیرنے کے امریکی منصوبے کو ایک ایسا اقدام قرار دیا جو "صرف بحران کو بڑھانے اور نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بنے گا” اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پالیسیوں کے مقابلے میں آزاد مؤقف اختیار کرے۔
لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیریمی کوربن نے بھی سخت تر لہجے میں لندن کی امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ فوجی تعاون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اس تعاون نے جنگ کے تسلسل کو ہوا دی ہے”۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ "جب تک جنگ مکمل طور پر بند نہ ہو جائے، امریکہ اور اسرائیل کو فوجی تعاون اور ہتھیاروں کی ترسیل معطل کر دی جائے”۔
اسی طرح ایک اور تجربہ کار رکنِ پارلیمان جان میکڈونل نے لبنان پر صیہونی حکومت کے مسلسل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ "بنجمن نیتن یاہو قابو سے باہر ہو گیا ہے” اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے تل ابیب کے خلاف یورپی پابندیاں عائد کرنے کا معاملہ ایجنڈے میں رکھے۔
لیبر پارٹی کی ایک اور رکن یاسمین قریشی نے بھی امریکہ اور صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ "غیرقانونی، غیر اخلاقی اور خطرناک” ہے اور یہ اس وقت شروع ہوئی جب "ایران کے جوہری پروگرام پر ایک معاہدہ تشکیل پانے کے قریب تھا”۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس عمل کا تسلسل نہ صرف خطے بلکہ برطانیہ کے عوام کی معیشت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
بحث کے ایک اور حصے میں، بعض ارکان نے ایران کے خلاف امریکی صدر کی بیان بازی پر تنقید کرتے ہوئے ان بیانات کو "شہریوں کی جانوں سے بےاعتنائی” کی علامت قرار دیا۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے اس موضوع پر ردعمل دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس قسم کی دھمکیاں "مکمل طور پر غلط” ہیں اور شہریوں کے خلاف نہیں اٹھائی جانی چاہئیں۔
متعدد ارکان نے لبنان اور فلسطینی علاقوں میں صیہونی حکومت کے حملوں کے تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے ان اقدامات کے فوری خاتمے اور ان کے مرتکبین کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔ کچھ نے شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور بے دخلی کے وسیع پیمانے پر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے بحران پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی برادری کی فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
ان مواقف کے ساتھ ساتھ، جنگ کے معاشی نتائج کا معاملہ بھی ایوانِ زیريں کی بحث کے اہم محوروں میں سے ایک بن گیا۔ ارکان نے خبردار کیا کہ ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھرانوں اور کاروباروں پر شدید بوجھ ڈالا ہے اور اس صورتحال کے جاری رہنے سے معیشت کا بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے بھی اپنی تقریر میں تسلیم کیا کہ اس جنگ کے معاشی نتائج خود جنگ سے بھی زیادہ دور رس اور دیرپا ہوں گے، اور زور دے کر کہا کہ حکومت کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشاورت کر رہی ہے۔
تاہم، اجلاس کا مجموعی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کے سرکاری موقف کے برعکس، برطانوی پارلیمان کے ارکان کا ایک قابلِ ذکر حصہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تنقیدی رویہ رکھتا ہے اور خطے اور یورپ پر اس جنگ کے جاری رہنے کے اثرات کے بارے میں شدید تشویش میں مبتلا ہے۔


مشہور خبریں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی جیل میں طبیعت خراب؛ اسپتال منتقل
?️ 30 جولائی 2024سچ خبریں: ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر یاسمین
جولائی
ایران کے جوابی ردعمل کے انتظارمیں تل ابیب اسٹاک ایکسچینج کا زوال
?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: امریکی خبر رساں ایجنسی بلومبرگ نے اطلاع دی ہے کہ شیکل
اگست
تحریک تحفظ آئین کا اہم سربراہی اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا
?️ 23 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کے تناظر
اپریل
وفاقی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد تکنیکی بنیاد پر ناکام بنانے کے لکے حکمت عملی تیار کر لی
?️ 10 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم میں
مارچ
پاکستان عنقریب افغان لیڈرشپ کے اہم لوگوں کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے رہا ہے
?️ 16 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان عنقریب افغان لیڈرشپ کے اہم لوگوں کو اسلام
جولائی
پیوٹن کے سفر کا پیغام؛ یک قطبی دنیا کے خاتمے کا اعلان
?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:روسی عرب ثقافتی مرکز کے سربراہ مسلم شیعتو نے اس بات
جولائی
نیتن یاہو اور اس کے بیٹے کے درمیان شدید مارپیٹ؛باپ کا گلا گھوٹنے کی کوشش
?️ 23 جنوری 2025سچ خبریں:کویتی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن
جنوری
افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان کے حالات تبدیل ہونے کے بارے میں اہم بیان جاری کردیا
?️ 2 اگست 2021کابل (سچ خبریں) افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان کے حالات تبدیل
اگست