یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی

یمن

?️

سچ خبریں:اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے چھ سال قبل امریکہ کی مدد اور حمایت سے یمن پر حملہ کیا ، تاہم ان میں سے ہر ایک کے مقاصد اور ارادے اس حد تک مختلف ہیں کہ ریاض اور ابوظہبی میں کئی مسائل پر بنیادی اختلافات ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سیاسی اور اقتصادی فریم ورک کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں مقابلہ کر رہے ہیں ، تاہم 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور اختلافات شدت اختیار کر گئے کیونکہ سعودی عرب مغربی ایشیا میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے اس نے اس سال فروری میں اعلان کیا کہ 2024 تک وہ ان بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تجارت بند کر دے گا جن کا صدر دفتر اس ملک میں نہیں ہے۔

یادر ہے کہ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے لیے تمام پروازیں بھی معطل کر دی ہیں اور دونوں ممالک کئی مہینوں سے اوپیک پلس تیل کی پیداوار کے معاہدے میں توسیع کو لے کر اختلافات کا شکار ہیں،درایں اثنا سعودی عرب نے دیگر خلیجی ریاستوں سے اپنے درآمدی قوانین میں بھی تبدیلی کی ہے جسے برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر متحدہ عرب امارات کی پوزیشن کے لیے براہ راست چیلنج قرار دیا ہے،واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کی تاریخ سرحدی تنازعات کی طرف جاتی ہے۔

جب سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز آل سعود نے اس ملک کی سرحدیں کھینچنا شروع کیں اور سرحدوں کو متحدہ عرب امارات ، قطر اور سلطنت عمان تک بڑھا دیا، یہ دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کا نقطہ آغاز تھا،اس تنازعے کا بنیادی مسئلہ ایک علاقہ تھا جسے البریمی کہا جاتا ہے، اس تنازعہ کو فریقین کے درمیان علاقے کو تقسیم کرکے حل کیا گیا اور بالآخر چھ دیہات متحدہ عرب امارات اور تین دیہات عمان کو ملے۔

قابل ذکر ہے کہ یمن پر حملے کے آغاز میں متحدہ عرب امارات سعودی عرب کے اہم اتحادیوں میں سے ایک تھا ، تاہم جب اس نے سعودیوں سے علیحدگی اختیار کی تو اس نے اپنی توجہ جنوبی یمن کے وسائل اور سقطری کے اسٹریٹجک جزیرے کی طرف مبذول کی۔

 

مشہور خبریں۔

امریکہ کا لبنانی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر پابندی کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ 

?️ 21 اپریل 2026 سچ خبریں:عبرانی اخبار معاریو کی رپورٹ کے مطابق، ریاست ہائے متحدہ

نواز شریف کا وطن واپسی کا فیصلہ کسی ڈیل کا حصہ نہیں ہے، نگران وزیراعظم

?️ 13 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اس تاثر کو

فرانس میں کشیدگی میں شدت/وزارت داخلہ کا مزید 13000 پولیس فورس کو میدان میں آنے کا حکم

?️ 29 مارچ 2023سچ خبریں:فرانس کی وزارت داخلہ نے پنشن قانون میں ترمیم کے منصوبے

امریکا کے تائیوان کے ساتھ روابط، چین نے شدید دھمکی دے دی

?️ 15 اپریل 2021بیجنگ (سچ خبریں) تائیوان کے ساتھ امریکا کے بڑھتے ہوئے روابط اور

برطانیہ میں مہنگائی کی حیران کن شرح

?️ 22 جون 2023سچ خبریں:برطانوی ادراۂ شماریات کا کہنا ہے کہ اس ملک میں کرائے

غزہ میں 15 سال کے محاصرے کے بعد تباہ کن صورتحال:اقوام متحدہ

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں غزہ کی پٹی کی

امریکہ نیٹو کو استعمال کر رہا ہے:چین

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:چین کا کہنا ہے امریکہ اس ملک کو چیلنج کرنے اور

پنجاب میں مزدوروں کی اجرت معین کر دی گئی

?️ 2 مئی 2021لاہور(سچ خبریں) مزدوروں کو ریلیف کی فراہمی سے متعلق وزیراعلیٰ آفس میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے