کیا امریکہ خطہ میں اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کر سکتا ہے؟

امریکی

?️

سچ خبریں: عراق کی النجباء تحریک کے ترجمان نے شام اور عراق پر حالیہ امریکی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی علاقے اور دنیا میں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔

جمعے کی شام امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے شام اور عراق میں جوابی حملے کیے ہیں اور ان ممالک کے 85 مقامات کو نشانہ بنایا ہے لیکن مقامی خبری ذرائع نے بتایا کہ زیادہ تر ہدف والے علاقے خالی تھے۔

یہ بھی پڑھیں: علاقائی مساوات کو بدلنے کے لیے امریکی گولڈ وار

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق حالیہ امریکی حملے گزشتہ چند مہینوں میں امریکہ کی فوجی اور سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی کوشش تھے،اس حوالے سے عراق کی النجباء تحریک کے ترجمان حسین الموسوی ایک انٹرویو میں کہا:

حال ہی میں عراق اور شام سمیت خطے کے مقامات پر امریکی فوجی حملے دیکھنے کو ملے امریکی آپریشن اور اس کی کامیابی کی شرح کے بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟

بلاشبہ یہ حملے امریکہ کے غرور اور تمام انسانی اقدار کی بے توقیری کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں، واشنگٹن پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ امریکہ کو انسانی حقوق اور اقوام کی مرضی کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خطے کے حالات پر اس کا کنٹرول ہے لہٰذا، خطے میں متعدد مقامات پر حالیہ امریکی حملے اس وقار کو بحال کرنے کی ایک کوشش تھی جو واشنگٹن نے اس عرصے کے دوران مزاحمتی حملوں کی وجہ سے کھو دیا تھا تاکہ وہ اس طرح سے علاقہ میں مزاحمت سے نمٹنے میں اپنی نااہلی کا جواز پیش کر سکے۔

اس حملے کے لیے امریکیوں کی محتاط منصوبہ بندی اور تیاری کے باوجود وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام رہے اور اس حملے کا نشانہ بننے والے عام شہری تھے۔

عراقی النجباء موومنٹ کے سرکاری میڈیا ترجمان کی حیثیت سے امریکیوں کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟

یقیناً ہمارا پیغام بطور مزاحمت یہ ہے کہ ہم اس عظیم راہ میں شہید ہونے والے شہداء کے خون کے ساتھ وفادار رہیں گے اور ہمارا آپریشن اس دن تک جاری رہے گا جب تک امریکی ہمارے خطے میں موجود رہیں گے ، ہم غزہ میں ہمارے بھائیوں کی مدد کریں گے۔

2001 کے بعد سے خطے میں امریکیوں کی پے درپے ناکامیاں دیکھنے کو ملی ہیں اور بین الاقوامی ماہرین کے مطابق امریکہ کی طاقت میں کمی آ رہی ہے نیز امریکہ کا خطے میں اب کوئی فیصلہ کن کردار نہیں رہا، اس بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟

ہر وہ شخص جو گزشتہ برسوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سیاسی، عسکری اور اقتصادی سوچ کی پیروی کرتا ہے وہ مختلف سطحوں پر اس کے عظیم نقصانات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔

اس کے نتیجے میں آج امریکہ خطے اور دنیا میں اپنے منصوبے تیار کرنے میں ناکام رہا ہے نیز دنیا میں امریکہ کی حمایت میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے، اس لیے آج ہمیں احساس ہے کہ امریکہ علاقائی مسائل کو سنبھالنے میں اپنی مرکزیت کھو چکا ہے۔

امریکی آج بدترین صورتحال سے دوچار ہیں اور اسی لیے جب وہ مغربی ایشیائی خطے اور ہمارے خطے میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک بڑی مزاحمت اور ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امریکیوں کی موجودگی سے خطے کی قوموں کی بیزاری اور امریکی غاصبوں کو نکال باہر کرنے کی عراقی پارلیمنٹ کی قرارداد کے باوجود وہ اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کے لیے اس قبضے کا کیا کارنامہ ہے؟

مزید پڑھیں: امریکہ شام اور عراق میں داعش پر کیوں اعتماد کر رہا ہے؟

امریکی بین الاقوامی قراردادوں اور یقیناً عراق اور عراقی پارلیمنٹ سمیت علاقائی حکومتوں کے فیصلوں پر کان نہیں دھرتے اور وہ اپنے حاصل کردہ فوائد کو کھونا نہیں چاہتے۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی ساکھ کھو رہے ہیں اور بہت زیادہ مادی اور انسانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

فلسطین دنیا میں افکار عمومی کا پہلا مسئلہ

?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں:آزاد قوموں اور بیدار ضمیروں کے درمیان فلسطین کے مظلوم عوام

پی ایم ڈی اے کے بارے میں فواد چوہدری کا اہم بیان سامنے آگیا

?️ 9 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے

یوکرین کا روس پر ایک سال کے اندر سب سے بڑا ڈرون حملہ

?️ 27 جون 2026سچ خبریں:روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین نے ایک سال میں سب

کورونا  سے متعلق  ڈاکٹر فیصل سلطان کا اہم بیان

?️ 26 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے

مغربی ایشیا میں کشیدگی کا فوجی حل نہیں ہے: اسپین

?️ 9 جون 2026سچ خبریں: اسپین کے وزیر خارجہ خوزے مانوئل الباریس نے آج پیر کو

کیا سعودی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے گی؟

?️ 2 اکتوبر 2021سچ خبریں: 2014 سے 2018 تک خلیج فارس کے چھوٹے ممالک میں

یمنی کیا کرنے والے ہیں؟یمنی وزیر دفاع کی زبانی

?️ 13 جنوری 2024سچ خبریں: یمن کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ جب تک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے