?️
سچ خبریں:پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ امریکا اور پاکستان باہمی تعلقات پر چھائی ہوئی بداعتمادی کو دور کرنے کے لیے مثبت بات چیت میں مصروف ہیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دو روز قبل امریکی انڈر سکریٹری دفاع برائے پالیسی کولِن کاہل نے اسینیٹ پینل کو بتایا کہ پاکستان، افغان سرزمین کو نہ صرف اپنے بلکہ دیگر ممالک کے خلاف بھی بیرونی حملوں کے لیے محفوظ ٹھکانے کے طور نہیں دیکھنا چاہتا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیں اپنی فضائی حدود تک رسائی کی اجازت دی ہوئی ہے اور ہم یہ اجازت جاری رہنے کے لیے ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔
وائس آف امریکا (وی او اے) ریڈیو کو انٹرویو میں معید یوسف نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ امریکا اور پاکستان تصادم کے راستے پر ہیں اور یہاں سے ان کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
امریکی نائب سکریٹری خارجہ وینڈی شرمین کے حالیہ دورہ اسلام آباد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ بداعتمادی ہے جس پر دونوں فریقین کو قابو پانا ہے اور ہم ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ (وینڈی شرمین) پاکستان آئیں۔
قومی سلامتی کے مشیر نے بتایا کہ دونوں ممالک مربوط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور کوئی بڑا بحران نہیں ہے،انہوں نے چند سابق امریکی عہدیداران کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ کابل میں طالبان کی فتح نے ایک بار پھر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خدا کے فضل سے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہمیشہ محفوظ رہے ہیں اور ہمیشہ محفوظ رہیں گے جبکہ اگر کوئی اس پر نیند اڑانا چاہتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے،تاہم متعدد سابق امریکی عہدیداران نے ’وی او اے‘ کو بتایا تھا کہ افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کے انخلا نے پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات کا سیاسی حساب کتاب تبدیل کر دیا ہے اور واشنگٹن کا انسداد دہشت گردی سرگرمیوں کے لیے اسلام آباد پر انحصار کم ہو گیا ہے۔
یادرہے کہ سابق امریکی سکریٹری دفاع اور سی آئی اے سربراہ لیون پنیٹا کا تاہم کہنا تھا کہ امریکا کے پاکستان کے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں،سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں بطور سی آئی آئے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کا اس وقت کہنا تھا کہ ہم ان کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کریں گےخاص طور پر ایسے وقت میں جب القاعدہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہے۔
تاہم انہوں نے پاکستان پر بھارت کے خلاف استعمال کرنےکے لیے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا اس نے پاکستان کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے بہت قریب کردیا جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان میں کردار ادا کیا۔


مشہور خبریں۔
دارفور اور فاشر سوڈان کے لیے اہم کیوں ہیں؟
?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: سوڈان کے مغربی علاقے دارفور اور اس کا اہم شہر
نومبر
قومی، صوبائی اسمبلیوں میں اضافی نشستوں پر منتخب 77 ارکان کی رکینت معطل
?️ 13 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے
مئی
سعودی عرب میں گرفتاریاں اور پھانسیاں قانونی اصلاحات کی خلاف ورزی:مغربی میڈیا
?️ 2 مئی 2022سچ خبریں:سعودی عرب نے اپنے عدالتی قانون میں ایک ترمیم کا اعلان
مئی
ہمیں بد اور بدتر میں سے انتخاب کرنا تھا: اسرائیلی تجزیہ کار
?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: اسرائیل کے چینل 12 ٹیلی ویژن کے صحافی اور تجزیہ
جنوری
سیاسی جماعتوں کو انکم ٹیکس سے چھوٹ ملی
?️ 13 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ
جون
جو لوگ سیلاب پر سیاست کررہے ہیں ان سے عوام بخوبی آگاہ ہیں۔وزیر اعظم
?️ 13 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ
ستمبر
ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی دستاویز میں دنیا کا نقشہ
?️ 7 دسمبر 2025 ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی دستاویز میں دنیا کا نقشہ ڈونلڈ
دسمبر
ایران تسلیم نہیں ہوگا؛ جنگ کا رخ ٹرمپ اور نیتن یاھو کے خلاف جا رہا ہے
?️ 2 اپریل 2026سچ خبریں: امریکہ اور صہیونی رجیم کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت
اپریل