?️
سچ خبریں: ایک صہیونی تجزیہ نگار نے نیتن یاہو کی کابینہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کو اب بھی جنگ میں برتری حاصل ہے۔
شہاب خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صہیونی تجزیہ کار آوی یسخاروف نے کہا کہ ہمارے پاس ایک ایسا وزیراعظم ہے جو ڈرامائی فیصلہ کرنے سے ڈرتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس طرح آپ جنگ کو سنبھالنا چاہتے ہیں؟ نہ حکومت ہے، نہ کابینہ ہے اور نہ وزیراعظم نے ابھی تک فیصلہ کیا ہے کہ کیا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حماس اسرائیل کے مقابلے بہت طاقتور ہے، روس کا فلسطینی مزاحمت کے بارے میں اہم انکشاف
اس صہیونی تجزیہ کار نے زور دے کر کہا کہ فتوحات کی کہانیاں نہ سنائیں، حماس نے ہمیں بہت بڑا دھچکا پہنچایا اور اب بھی جنگ میں اسے برتری حاصل ہے۔
اس سے قبل صیہونی حکومت کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف موشے یعلون نے ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں زمینی کاروائیوں کی مخالفت کرتے ہوئے تاکید کی کہ ہمیں زیادہ قیمت ادا کرنے سے پہلے موجودہ صورتحال کو روکنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی چیز مجھے 2014 کے جرف الصلب آپریشن کے بارے میں شرمندہ کر رہی ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم اس آپریشن میں شامل ہوئے، یالون نے مزید کہا کہ حماس کو تباہ کرنے کا کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔
حال ہی میں صیہونی میڈیا نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے مزید امریکی فوجیوں کی آمد تک غزہ پر زمینی حملے کو ملتوی کرنے کی درخواست پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
اسی دوران الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر حماس ہماری قیدیوں کو رہا کرتی ہے اور غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیتی ہے تو غزہ میں زمینی کاروائی نہیں کی جائے گی۔
ABC آسٹریلوی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حماس ہمارے 212 قیدیوں کو رہا کر دے اور غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے تو جنگ ختم ہو جائے گی۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو ہمیں کام تمام کرنے کے لیے غزہ جانا پڑے گا۔
صیہونی فوجی عہدیدار نے امکانات کے باوجود زمینی حملے کو ملتوی کرنے کی وجہ بیان نہیں کی اور صرف حماس کے خلاف اپنے دعوؤں کو دہرایا۔
انہوں نے آسٹریلوی چینل کے اینکر کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا اس حکومت کی ترجیح اپنے قیدیوں کی رہائی ہے یا حماس کو تباہ کرنا۔
صیہونیوں کا یہ نیا موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی حریت پسندوں سے ٹکرانے کا خوف زمینی حملے کے لیے ان کی کاروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ گزشتہ روز صیہونی افواج کی غزہ میں گھسنے کی کوشش کو مجاہدین کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: حماس کے غیر مرئی کمانڈر محمد ضیف یا اسرائیل کے لیے موت کا فرشتہ؟
دوسری جانب یدیوت احرونٹ نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو، فوج کی کمان اور ان کے اور وزیر جنگ گیلنٹ کے درمیان عدم اعتماد کا بحران مشترکہ کاروائی میں رکاوٹ ہے اس لیے کہ نیتن یاہو اور فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کے درمیان جائزوں، منصوبہ بندیوں اور فیصلوں کے بارے میں وسیع اختلافات ہیں۔


مشہور خبریں۔
چاڈ کے صدر کا قتل
?️ 20 اپریل 2021سچ خبریں:نیوز ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جنگ میں زخمی ہونے
اپریل
امریکہ میں انڈوں کی قیمت میں اضافہ؛ پنسیلوانیا میں 40 ہزار ڈالر کا انڈوں کا ذخیرہ چوری
?️ 5 فروری 2025سچ خبریں:امریکہ میں مہنگائی کی بڑھتی لہر کے دوران انڈوں کی قیمتوں
فروری
غزہ کی تباہی دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی تباہی سے زیادہ
?️ 12 دسمبر 2023سچ خبریں:یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بریل نے کہا
دسمبر
پیرس کی سڑکوں پر فرانسیسی طبی عملے کا مظاہرہ
?️ 7 جنوری 2023سچ خبریں: ہزاروں فرانسیسی طبی عملے نے 5 جنوری کو پیرس میں
جنوری
کابل اور ننگرہار میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات
?️ 17 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے
مارچ
’حکومت میں شمولیت کے بدلے صرف ایک وزارت‘، مصطفیٰ کمال کے بعد گورنر سندھ کی بھی مبینہ آڈیو لیک
?️ 28 فروری 2024کراچی: (سچ خبریں) ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال
فروری
فلسطینیوں کے قتل عام میں صہیونی فوجیوں کا مقابلہ، شام کے لیے تل ابیب کی خطرناک سازش؛رہبر انصار اللہ کا بیان
?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے رہنما عبدالملک الحوثی نے ایک
دسمبر
ملکی زراعت بہترہورہی ہے کسانوں کوادائیگیاں ہورہی ہیں:وزیر اعظم
?️ 28 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) شکئی اکنامک زون کے سنگ بنیاد کی تقریب
مئی