صیہونیوں پر حزب اللہ کے پوائنٹ ٹو پوائنٹ مار کرنے والے میزائلوں کا خوف

حزب اللہ

?️

سچ خبریں:حزب اللہ کے پوائنٹ پر مار کرنے والے میزائلوں نے صہیونی حکام سے امن و سکون چھین لیا ہے ، ایسا کوئی دن نہیں جب صیہونی تجزیہ کار حزب اللہ کی بڑھتی میزائل طاقت پر تبصرے کرتے نظر نہ آئیں۔
ان دنوں فوج اور کابینہ سمیت متعدد صہیونی حلقوں میں خوف وہراس کے بڑھنے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ میڈیا رپورٹس آرہی ہیں ، یہ سبھی اطلاعات مزاحمتی تحریک کی طاقت میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں، اسرائیلی فوجی امور کے تجزیہ کار اور مبصر ایلن بن ڈیوڈ نے اسرائیلی اخبار معاریو میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ حزب اللہ اب تک مختصر فاصلے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ذخیرہ کرنے میں کامیاب رہی ہے، حزب اللہ لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہے،صہیونی تجزیہ کار نے حزب اللہ نقطہ پر مار کرنے والے میزائل کو صہیونی حکومت کے لئے اسٹریٹجک خطرہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کو ان میزائلوں تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے کے لئے صیہونی حکومت کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اسرائیلی فوج اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے نقطہ پر مار کرنے والے میزائلوں کےاپنے لیے اسٹریٹجک خطرہ سمجھتی ہے ، ان میزائلوں کی طاقت اسرائیل کے اسٹریٹجک نظام کو مفلوج کر سکتی ہے ، اور حزب اللہ ان میزائلوں کو تل ابیب میں واقع ہیکریا اڈے کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کرسکتی ہے جہاں اسرائیلی وزارت انٹیلی جنس کا صدر دفتر اور جوائنٹ آرمی کا ہیڈ کوارٹر ہے ،صیہونی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ لبنان سے انخلا کے بعد کے سالوں میں ، اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے تیزی سے مسلح ہونے کا مذاق اڑایا اور کہا کہ یہ میزائل گوداموں میں سڑیں گے لیکن 2006 میں عملی طور پر ہزاروں کی تعداد میں یہ میزائل اچانک ہم پر آگرے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ گذشتہ سال کے دوران نقطہ پر مار کرنے والے میزائلوں کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے اور ہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کسی بھی ہدف کو درست طریقے سے نشانہ بناسکتے ہیں، کچھ دن پہلے بھی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے کہا تھا کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کردی جاتی ہے اور لبنانی شہروں ، علاقوں اور دیہاتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہم صیہونی بستیوں کو نشانہ بنائیں گے۔

مشہور خبریں۔

شام کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں

?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران، روسی فیڈریشن اور جمہوریہ ترکی کے نمائندوں نے

وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہٹانے کی تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش کردی گئی ہے

?️ 20 اکتوبر 2021کوئٹہ (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہٹانے کی تحریک

ہم اسرائیل کو کبھی بھی سرکاری طور پر تسلیم نہیں کریں گے: یحیی السنوار

?️ 8 اگست 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے نئے رہنما نے

یوکرین میں جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے: امریکی اہلکار

?️ 21 نومبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے نے کہا ہے

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

?️ 6 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے معیشت، تجارت، توانائی

نئی صیہونی حکومت کی آنکھ کا کانٹا

?️ 15 جون 2021سچ خبریں:مسجد اقصی اور یروشلم کے علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کے

سی ٹی ڈی کی اہم  کارروائیاں، 9 دہشت گرد گرفتار

?️ 1 جنوری 2022لاہور(سچ خبریں) ملک دشمن عناصر کے خلاف سی ٹی ڈی کہ اہم

موبائل فون لگژری آئٹمز نہیں، ٹیکسوں پر نظرثانی کیلئے جامع رپورٹ دی جائے، قائمہ کمیٹی

?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے