سعودی عرب کے ساتھ امریکی ہتھیاروں کے معاہدے پر بین الاقوامی تنقید میں اضافہ

سعودی عرب

?️

 (سچ خبریں)تازہ ترین رائے شماری کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے انسانی حقوق کی بھاری خلاف ورزیوں کے باوجود اس ملک کی حکومت کے ساتھ امریکہ کی جانب سے مسلسل ہتھیاروں کےمعاہدے کیے جانے کے خلاف عالمی سطح پر تنقید بڑھتی جارہی ہے۔

یو ایس سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکی مشرق وسطی میں سب سے شراکت دار ہیں جو انسانی حقوق کے لئے ایک شرمناک بات ہے۔
واضح رہے کہ اسٹریٹجک سینٹر نے زور دیا کہ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مصر کی طرح امریکہ فوجی امداد حاصل نہیں ہے لیکن دونوں ممالک انسانی حقوق کے سیاہ ریکارڈ کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ بڑے ہتھیاروں کے سودے کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کےسکیورٹی سٹڈی سینٹر کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے مصر جیسے انسانی حقوق کے مسائل سے جڑے ہوئے نہیں ہیں تاہم امریکی صدر جو بائیڈن انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سے کسی کے ساتھ خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں دیکھائی دیتے۔

امریکی سنٹر نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کا ہتھیاروں کا معاہدہ بائیڈن کے صدارتی انتخابات میں دو طرفہ تعلقات میں انسانی حقوق کو زیادہ ترجیح دینے کے وعدے کی توقعات کے باوجود ہوگا۔
اس حوالے سے امریکی اخبار انٹرسیپٹ نے بائیڈن حکومت کو اسرائیل اور سعودی عرب کے انسانی حقوق کے معاملے کو نظر انداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ بائیڈن انسانی حقوق کے مسائل نیز اسرائیل اور سعودی عرب کے کالے ریکارڈ کو نظر انداز کررہے ہیں۔
یادرہے کہ جمعرات کو پینٹاگون نے اعلان کیا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 500 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اب بھی سعودی عرب کو اسلحہ اور عسکری خدمات فروخت کرنے کے نئے معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے جبکہ ریاض کے ساتھ واشنگٹن کے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے سودے انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے بار بار تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق ، محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے ہیلی کاپٹر بیڑے اور دیگر متعلقہ خدمات کی دیکھ بھال اور مرمت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے 500 ملین ڈالر کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
کئی برسوں کے دوران ، انسانی حقوق کے کارکنوں نے ریاض کو امریکی ہتھیاروں کی مسلسل فروخت کے حوالے سے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن حکومتوں کے موقف کی مذمت کی ہے اور یمن جیسے خطے میں سعودی عرب کی جارحانہ خارجہ پالیسی پر ان اقدامات کے اثرات کی۔

مشہور خبریں۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد خواتین کے حقوق سلب ہوجائیں گے: امریکا

?️ 30 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں)  افغانستان میں ذلت بھری ہار کے بعد ابھی بھی

ڈاکٹر کے بیٹے کو ڈاکٹر بننے پراقربا پروری نہیں سمجھا جاتا تو اداکاروں کے ساتھ ایسا کیوں؟ علی سفینا

?️ 29 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) مقبول اداکار و میزبان علی سفینا نے کہا ہے

ملک سے ڈالر کا اخراج دوگنا ہوگیا

?️ 22 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے

شام میں صہیونی سرحدی دراندازی کا سلسلہ جاری

?️ 23 جون 2026سچ خبریں:شامی مقامی ذرائع نے جنوبی شام میں صہیونی فوج کی نئی

شام سے عراق میں داعش کی فرار؛ لبنان اور یمن میں کشیدگی میں اضافہ

?️ 31 مئی 2026سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک نے اعلان کیا ہے کہ

لبنان میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے بارے میں ترکی کا نقطہ نظر

?️ 21 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان میں غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کی ترکی کے

صیہونی عہدیدار ٹرمپ کے پیغام سے حیران

?️ 12 جون 2026سچ خبریں: اسرائیلی ٹیلی ویژن نے رپورٹ دی ہے کہ ٹرمپ کے

گوادر کا نیا ایئرپورٹ: نہ جہاز نہ مسافر، بس ایک پراسراریت

?️ 23 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) لاگت کے حوالے سے پاکستان کا یہ سب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے