رفح پر صیہونیوں کے ممکنہ حملے کے بارے میں عالمی عدالت کا ردعمل

رفح

?️

سچ خبریں: بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے پیر کے روز غزہ کی پٹی کے جنوب میں سرحدی شہر رفح پر صیہونی حکومت کے ممکنہ حملے کے ردعمل میں تشویش کا اظہار کیا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل نے رفح پر صیہونی حکومت کے زمینی حملے کے امکان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: رفح کے خلاف صیہونی جارحیت کے مخالفین

اسپوٹنک خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل کریم خان نے پیر کو X سوشل نیٹ ورک پر شائع ہونے والے ایک بیان میں لکھا کہ میں رفح پر صیہونی بمباری کی اطلاعات اور اسرائیلی فوج کے زمینی حملے کے امکان پر گہری تشویش کا شکار ہوں۔

جنگی جرائم کی عدالت کے اس اہلکار نے خبردار کیا کہ میرا دفتر کسی بھی جرم کی تحقیقات کے لیے سرگرم عمل ہے، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ رفح میں زمینی کاروائی اگلے دو ہفتوں کے اندر شروع کر دی جائے گی۔

صیہونی وزیر اعظم نے مبالغہ آرائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ماہ رمضان سے قبل رفح میں تحریک حماس کی فوجی بٹالین کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

بین الاقوامی عدالت انصاف نے 11 اور 12 جنوری کو ہیگ میں اسرائیلی حکومت کے خلاف جنوبی افریقہ کی شکایت کے آغاز کے ایک حصے کے طور پر غزہ کی پٹی کے باشندوں کے خلاف نسل کشی کے جرم کا مبینہ ارتکاب کرنے کے لیے دو اعلانیہ سماعتیں کیں۔

عالمی عدالت انصاف نے غزہ کے عوام پر وحشیانہ حملے میں اسرائیلی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کو روکنے اور غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے، تاہم اس فیصلے میں صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ کے باشندوں کے خلاف جنگ بند کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی روک تھام کے اقدامات شامل نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: غزہ سے امریکہ کو نقصان

یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر صیہونی جارحیت کے آغاز سے اب تک فسلطینی شہداء کی تعداد 28 ہزار 340 اور زخمیوں کی تعداد 67 ہزار 984 تک پہنچ چکی ہے۔

مشہور خبریں۔

ایران، سعودی عرب اور ترکی کی بیک وقت سفارتی کوششیں؛ کیا کابل اسلام آباد بحران پر قابو پایا جا سکے گا؟

?️ 28 نومبر 2025سچ خبریں: اسلام آباد بحران اب صرف دو ممالک کے درمیان تنازعہ

صہیونی جیلیں فلسطینی بچوں کے لیے ذبح خانے

?️ 13 دسمبر 2022سچ خبریں:بچوں کی قاتل صیہونی حکومت فلسطینی بچوں کو بھی نہیں بخشتی

وزیراعظم شہبازشریف دورہ امریکا مکمل کر کے لندن پہنچ گئے

?️ 21 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف بورڈ آف پیس کے اجلاس کے سلسلہ

غزہ کے اسپتالوں پر صیہونی فوج کیی بربریت؛صیہونی اخبار کی زبانی

?️ 25 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی اخبار ہارٹیز نے اعتراف کیا ہے کہ صہیونی فوج

پاکستان کا اصولی موقف دنیا اور افغانستان نے تسلیم کیا۔ طلال چودھری

?️ 1 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے

پاکستان اور 8 اسلامی-عرب ممالک نے اسرائیلی رجیم کی فلسطینیوں پر سزائے موت نافذ کرنے والے قانون کی مذمت کر دی

?️ 2 اپریل 2026سچ خبریں: پاکستان اور سات اسلامی-عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک

یاسین ملک موت و زندگی کی کشمکش میں ہیں، خاموشی جرم ہوگی۔ مشعال ملک

?️ 11 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک

 اسرائیلی پالیسیوں سے امدادی اداروں کا کام خطرے میں

?️ 1 جنوری 2026  اسرائیلی پالیسیوں سے امدادی اداروں کا کام خطرے میں اقوام متحدہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے