?️
دہلی نو میں عالمی طاقتوں کا اجتماع، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایران کی شرکت
تہران: بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونے والا عالمی اجلاس برائے اثراتِ مصنوعی ذہانت سنہ 2026 کے اہم ترین بین الاقوامی ٹیکنالوجی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے مستقبل کی تشکیل، اس ٹیکنالوجی کی ذمہ دارانہ ترقی اور ڈیجیٹل دنیا میں طاقت کے توازن کی نئی تعریف بیان کیا جا رہا ہے۔
پانچ روزہ یہ اجلاس 16 فروری سے شروع ہو کر یکم مارچ تک جاری رہا، جس میں بیس ممالک کے سربراہان، وزرائے ٹیکنالوجی، بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور مختلف ممالک کے سائنسی و فکری نمائندگان نے شرکت کی۔ سرکاری اعلان کے مطابق نریندر مودی نے افتتاحی خطاب کیا، جبکہ ایمانوئل میکرون، برازیل کے صدر اور ابوظہبی کے ولی عہد بھی نمایاں شرکاء میں شامل تھے۔
اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کا وفد بھی شریک ہوا جس کی قیادت وزیرِ مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے کی۔ ایرانی وفد نے مصنوعی ذہانت کی ضابطہ سازی، حسابی ڈھانچے، ڈیٹا سکیورٹی اور تکنیکی تعاون سے متعلق خصوصی نشستوں میں حصہ لیا۔ ماہرین کے مطابق یہ شرکت ایران کی ٹیکنالوجی سفارت کاری کو وسعت دینے اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
اجلاس کے دوران بھارت میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے دو سو ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے عزم کا اعلان کیا گیا۔ ریلائنس انڈسٹریز نے 110 ارب ڈالر اور آدانی گروپ نے 2035 تک 100 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا۔ اسی طرح ٹاٹا گروپ نے اوپن اے آئی کے ساتھ جدید مصنوعی ذہانت مراکز کے قیام کے لیے تعاون کا معاہدہ کیا۔
تاہم اجلاس کچھ حاشیوں کا بھی شکار رہا۔ بل گیٹس کی متوقع تقریر منسوخ ہو گئی جبکہ جینسن ہوانگ کی عدم شرکت نے بھی عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی۔ ابتدائی دنوں میں انتظامی کمزوریوں اور بے نظمی کی شکایات سامنے آئیں جن پر بھارتی حکام نے معذرت بھی کی۔
ان تمام امور کے باوجود اجلاس میں شریک رہنماؤں اور ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی چند طاقتوں تک محدود نہ رہے، بلکہ ذمہ دارانہ حکمرانی، ڈیٹا کے تحفظ، بچوں کے حقوق کی پاسداری اور عالمی ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
اپنے خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت حسابی بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور ماہر افرادی قوت کی تربیت کے ذریعے دنیا کے نمایاں مراکز میں شامل ہونا چاہتا ہے اور عالمی جنوب کے ممالک کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا ملک بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔ فرانسیسی صدر نے بھی ٹیکنالوجی میں خودمختاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ چند بڑی طاقتوں پر انحصار عالمی ڈیجیٹل مستقبل کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ نئی دہلی میں اس سطح کے اجلاس کا انعقاد بھارت کی عالمی حیثیت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے میدان میں نئے اتحادوں کی تشکیل اور طاقت کے توازن کی ازسرِ نو تشکیل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
دیرالزور میں امریکی جرم اور سخت ردعمل کی ضرورت
?️ 27 مارچ 2023سچ خبریں:جمعہ کی صبح امریکی بمبار طیاروں نے دہشت گردانہ اور غیر
مارچ
اسلام آباد: دہشت گردی کے 3 مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت میں 26 جولائی تک توسیع
?️ 19 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے
جولائی
صہیونی حکومت کو ایک اور خوفناک اقتصادی دھچکا
?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: موجودہ جنگ کے دوران مقبوضہ علاقوں کے لیے غیر ملکی
اکتوبر
جنگ بندی کو تسلیم کرنے کے پیچھے چھپی وجوہات
?️ 26 نومبر 2024سچ خبریں: آج اسرائیل ہیوم اخبار نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو
نومبر
ڈیجیٹل پاکستان کی جانب پیش قدمی، جدید کمیونی کیشن سیٹلائٹ خلا میں روانگی کیلئے تیار
?️ 28 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ’آئی کیوب قمر‘ کی کامیاب لانچنگ کے بعد ڈیجیٹل
مئی
فلپائن کا امریکی فوج کو 4 نئے اڈے فراہم کرنے کا اعلان
?️ 4 اپریل 2023سچ خبریں:فلپائن کی حکومت نے امریکی فوج کو 4 نئے اڈے فراہم
اپریل
دفتر خارجہ کو مقبوضہ کشمیر میں جی 20 اجلاس کے پیچھے سازش کو بے نقاب کرنے کی ہدایت
?️ 3 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان نے ’متنازع خطے کے بارے میں ابہام پیدا
مئی
نیتن یاہو کو ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں کام کرنے کی اجازت
?️ 2 فروری 2026 سچ خبریں: اسرائیلی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مطابق، بنجمن نیتن
فروری