ایرانی حملے نے صیہونیوں کو کتنا نقصان پہنچایا؟

نقصان

?️

سچ خبریں: ایک عراقی شخصیت نے کہا کہ صرف ہوائی سفر کے بند ہونے سے اسرائیل کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا، اور اگر ہم ذہنی اور جذباتی نقصانات کے علاوہ مادی نقصانات کو بھی دیکھیں تو یہ نقصانات تصور سے باہر ہیں۔

دمشق میں ایرانی سفارت خانے کے قونصلر سیکشن پر حملے اور شام میں اس ملک کے فوجی کمانڈروں اور مشیروں کے ایک گروپ کی شہادت سمیت صیہونی حکومت کے متعدد جرائم کے جواب میں ہفتے کی شام آئی آر جی سی کی فضائیہ نے مقبوضہ علاقوں کے اندر مخصوص اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے فوجی جواب نے صیہونیوں کو کتنا نقصان پہنچایا؟صیہونی میڈیا کی زبانی

یہ کاروائی دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر صیہونی حکومت کے حملے اور اس ملک میں اعلیٰ ایرانی مشیروں کی شہادت کے جواب میں کی گئی۔

اس سلسلے میں عراقی شخصیت اور حشد الشعبی کے مجاہد ڈاکٹر شیخ ہاشم ابو خمسین نے کہا کہ سب سے پہلے میں اس عظیم فتح پر پورے محورِ مزاحمت، مجاہدین و مظلوموں اور عالم اسلام کے نگہبان امام خامنہ ای اور اہل ایران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میرا اندازہ یہ ہے کہ یہ حملہ اپنے اہداف کے حصول میں مکمل طور پر کامیاب رہا، درحقیقت ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے مقبوضہ علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ایران کے مقاصد حاصل ہو گئے، اس کاروائی کو انجام دینے سے پہلے ایران نے مقبوضہ علاقوں میں نفسیاتی جنگ اور بہت زیادہ خوف پیدا کیا اور صیہونی فوجی کمانڈروں اور صہیونی معاشرے کے دلوں میں خوف پیدا کرنے میں کامیاب رہا، وہ سپاہیوں کو سفر کرنے سے روک رہے تھے کیونکہ وہ ایرانی حملے کی توقع کر رہے تھے نیز کچھ کمانڈروں نے فوج اور فوجی یونٹوں کو چھوڑنا شروع کر دیا، درحقیقت ایران کے اس حملے نے اپنے طبیعی پہلو سے پہلے اپنے نتائج اور ثمرات دکھائے تھے۔

اس حملے نے اسرائیل کو کمزور اور ذلیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس معاملے کو اسرائیلی حکام کے الفاظ اور میڈیا کے مواد میں دیکھا جا سکتا ہے نیز اس حملے نے اسرائیل کی سلامتی کو درہم برہم کرنے اور اس کی ہیبت کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تعزیری اور مستند کارروائی نے اسرائیلیوں کو اسلامی جمہوریہ پر حملہ کرنے سے پہلے سینکڑوں بار سوچنے پر مجبور ۔

یہ آپریشن ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کا جواب تھا اور دوسری طرف اس نے مزاحمت کے محور کے درمیان تعلق کو ظاہر کیا، اگرچہ یہ حملہ ایران کی طرف سے تھا لیکن اس کے ساتھ حزب اللہ کی طرف سے بہت زوردار حملہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی عراق میں حزب اللہ کی بٹالین، یمن میں انصار اللہ اور غزہ میں مزاحمتی تنظیموں نے بھی صیہونیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔

اس آپریشن نے ظاہر کیا کہ خطے میں ایک مرکزی طاقت موجود ہے کہ اگر وہ ایران پر حملہ کرنا چاہیں تو ہم غزہ، لبنان، شام، عراق اور یمن میں ایک شاندار موجودگی اور دفاع کا مشاہدہ کریں گے۔ یہ محور 6 اسرائیل مخالف محاذوں پر مشتمل ہے، اس لیے صیہونیوں کی شورش، تشدد اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے بھرپور عزم موجود ہے، ظاہر ہے کہ صیہونی حکومت اور مغربی ممالک اس حملے کی اہمیت کو مسخ یا کم کرنے کے درپے ہیں اس لیے کہ پہلے یہ کہ انہیں معلوم ہے کہ یہ حملہ ایران کا اپنے دفاع کا حق ہے، دوسرے یہ کہ یہ جواب اس وقت دیا گیا جب سلامتی کونسل صیہونی حکومت کے ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرنے میں ناکام رہی اور ایسی صورت حال میں کسی بھی ملک کے لیے اپنا دفاع کرنا فطری امر ہے۔

درحقیقت اس میدان میں فرانس، امریکہ اور برطانیہ کی منافقت کھل کر سامنے آئی، وہ صرف قوانین کے نفاذ کا نعرہ لگاتے ہیں، اس لیے انھوں نے سلامتی کونسل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرنے سے روکنے کے لیے بہت سی حرکتیں کیں۔

اس ایرانی میزائل اور ڈرون حملے سے اسرائیل کو کافی نقصان اٹھانا پڑا اور بعض ذرائع کے مطابق نفتالین بیس میں 44 صہیونی اہلکار مارے گئے اور زخمی ہونے والے دیگر 18 فوجیوں کی حالت تشویشناک ہے اور یہ اعداد و شمار صرف ایک بیس کے ہیں۔ !

مادی نقصانات کی سطح پر ہوائی سفر کی معطلی صیہونیوں کے لیے ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہے، دوسری طرف انشورنس کمپنیوں کے نقصانات ، اسٹاک مارکیٹ، سیاحت، بندرگاہوں اور صنعتوں کو ہونے والے معاشی نقصانات کو ان نقصانات میں شامل کیا جانا چاہئے۔

مزید پڑھیں: صیہونیوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ جنگ

ریڈ الرٹ کے باعث جنگی طیاروں کو بھی پرواز کی اجازت نہیں دی گئی، یہ سب ایران کے حملے کے نتیجے میں صیہونی حکومت کے نقصانات کا حصہ ہیں، یقیناً، ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ مادی نقصانات کو اگر ذہنی اور جذباتی نقصانات کے برابر رکھا جائے تو قابضین کے لیے حالات کو تصور سے کہیں زیادہ مشکل ہیں۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعظم کا موسمیاتی تبدیلیوں کیخلاف ‘پائیدار نظام’ پر زور، سیلاب سے مزید 18 افراد جاں بحق

?️ 7 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں بدھ کے روز سیلاب سے مزید

پی آئی اے کی نجکاری میں حائل آخری رکاوٹیں بھی ختم

?️ 30 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت، مقامی بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں  نے

پاکستان نے بھارت کے جدید ترین لڑاکا طیاروں کو کیسے مار گرایا؟ برطانوی ایجنسی کی رپورٹ جاری

?️ 2 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) برطانوی خبر رساں ایجنسی نے پاکستان کی فضائی

غزہ میں جنگ بندی کو برقرار کرنا ہوگا:اقوام متحدہ

?️ 19 فروری 2026غزہ میں جنگ بندی کو برقرار کرنا ہوگا:اقوام متحدہ اقوام متحدہ کی

لبنان میں امریکی منصوبے کی نئی تفصیلات

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے لبنان میں امریکہ کی نقل و حرکت

پی ٹی آئی، مسلم لیگ(ن) نفرت اور تقسیم کی سیاست ترک کریں تو ساتھ چل سکتے ہیں، بلاول

?️ 8 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے

فلاح الفیاض کی برطرفی کی تردید

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں: عراقی بدر تنظیم کے سربراہ ہادی العامری نے حشد شعبی

القسام رہنماؤں کے قتل کی خبریں غلط

?️ 14 جولائی 2024سچ خبریں: خلیل الحیہ حماس تحریک کے رہنما خلیل الحیہ نے خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے