امریکی سیکیورٹی حکمتِ عملی پر کشیدگی، ٹرمپ کے نمائندے نے یورپ کو میوزیم قرار دے دیا

ٹرمپ

?️

امریکی سیکیورٹی حکمتِ عملی پر کشیدگی، ٹرمپ کے نمائندے نے یورپ کو میوزیم قرار دے دیا

 امریکی قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی کے اعلان کے بعد یورپ اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی تناظر میں نیٹو میں امریکہ کے سفیر متیو وٹیکر نے یورپ کو سیاسی اور معاشی جمود کا شکار قرار دیتے ہوئے اسے ایک میوزیم سے تشبیہ دے دی، جس پر یورپی رہنماؤں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی جریدے نیوزویک کے مطابق، نئی امریکی حکمتِ عملی میں یورپ کی کمزور معاشی ترقی اور مبینہ طور پر اس کے تمدنی زوال کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ کی سیاسی آزادی اور نیٹو میں اس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کیا امریکہ کے پرانے اتحادی اب بھی قابلِ اعتماد شراکت دار بنے رہ سکتے ہیں یا نہیں۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اجلاس کے دوران متیو وٹیکر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آیا یورپ واقعی ایک متحرک معیشت ہے جو آگے بڑھ سکتی ہے، یا محض ایک ایسا میوزیم ہے جہاں لوگ صرف ماضی کی یادیں، پنیر اور مٹھائیاں دیکھنے جاتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو واشنگٹن کے سخت رویے کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نیٹو کے مستقبل اور یورپی دفاعی نظام پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، یورپی ممالک اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ امریکہ ممکنہ طور پر روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ بعض معاملات میں سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے، خصوصاً یوکرین جنگ کے خاتمے کے تناظر میں، جب کہ یورپ کو ان مذاکرات سے عملاً باہر رکھا جا رہا ہے۔

یہ تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب یورپی یونین نے ایلون مسک سے وابستہ سوشل نیٹ ورک “ایکس” پر 140 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا۔ اس پر امریکہ کی جانب سے یورپی پالیسیوں پر مزید تنقید سامنے آئی۔

وٹیکر کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک امیر ہیں مگر انہوں نے اپنے دفاع پر مناسب اخراجات نہیں کیے اور اب انہیں اپنی اور اجتماعی سلامتی کے لیے زیادہ سرمایہ لگانا ہوگا۔ اس بیان کو یورپی دارالحکومتوں میں دباؤ کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یورپ امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے، اس کا مسئلہ نہیں، اور دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 80 سال سے یہی حکمتِ عملی کامیاب رہی ہے اور اسی راستے پر قائم رہنا مشترکہ سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

یورپی سیاست دانوں نے امریکی دستاویز میں یورپ میں آزادیِ اظہار کے حوالے سے تنقید اور یورپی "محبِ وطن جماعتوں” کے بڑھتے ہوئے کردار پر امریکی خوش امیدی پر بھی ناراضی ظاہر کی ہے، کیونکہ یورپ میں مرکزی سیاسی جماعتیں دائیں بازو کی انتہا پسند اور مہاجر مخالف سوچ سے خود کو خطرے میں محسوس کر رہی ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے نسبتاً معتدل مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس حکمتِ عملی میں تنقید کا پہلو موجود ہے، مگر بعض باتیں درست بھی ہیں، خاص طور پر روس کے مقابلے میں یورپ نے اپنی طاقت کو کم سمجھا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اب بھی یورپ کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک نے امریکی دباؤ کے تحت دفاعی اخراجات بڑھانے کا عمل تو شروع کر دیا ہے، لیکن انہیں فلاحی اخراجات، بلند قرضوں اور عوامی بے چینی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہاجرت سے متعلق ٹرمپ کے سخت بیانات اور یوکرین کے مسئلے پر اختلافات نے بھی دونوں جانب تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ دی ہل کے مطابق، یہ نئی 33 صفحات پر مشتمل حکمتِ عملی “امریکہ سب سے پہلے” کے نظریے پر مبنی ہے، جس میں امریکہ کے اقتصادی مفادات کے تحفظ، اتحادیوں کے ساتھ سلامتی کا بوجھ بانٹنے اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری پر زور دیا گیا ہے، اگرچہ اس میں امریکہ کے عالمی سطح سے مکمل پیچھے ہٹنے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔

مشہور خبریں۔

حدیقہ کیانی کی پہلی شادی میں ناکامی کی کہانی ان ہی کی زبانی

?️ 17 فروری 2022کراچی (سچ خبریں)باصلاحیت گلوکارہ و ابھرتی و اداکارہ حدیقہ کیانی کی ذاتی

جماعت اسلامی کی مہنگائی کے خلاف کاروائی

?️ 26 جون 2024سچ خبریں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ

ایران سے ڈیزل کی درآمد نے امریکہ کو پریشان کر دیا ہے: حزب اللہ

?️ 25 ستمبر 2021سچ خبریں:حزب اللہ کے ڈپٹی سکریٹری جنرل نے ایک انٹرویو میں کہا

گرفتاریوں کا فیصلہ وزیر اعلیٰ بن کر نہیں پاکستانی بن کر کیا

?️ 24 مئی 2022لاہور(سچ خبریں)وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ گزشتہ دن

چارجز اور مارجن میں ردوبدل، عوام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مکمل ریلیف سے محروم

?️ 16 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کی جانب سے مختلف چارجز اور مارجن

غزہ میں صیہونی جاسوس کو سزائے موت

?️ 6 جون 2022سچ خبریں:  غزہ کی فوجی عدالت کی سپریم کورٹ سے وابستہ ایک

قرآن کی توہین کی وجہ سے ڈنمارک کی حالت خراب

?️ 10 اگست 2023سچ خبریں:اس ملک میں مسلمانوں کی مقدس کتابوں کی بے حرمتی کا

اربیل میں امریکی فوجی اڈے پر ہائی الرٹ

?️ 6 جنوری 2022سچ خبریں:عراقی کردستان کے شہر اربیل میں امریکی فوجی اڈے پر ہنگامی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے