?️
غزہ کے مستقبل پر خفیہ بات چیت، نیتن یاہو اور ٹونی بلیئر کی بند کمروں میں ملاقات
غزہ کے مستقبل کی حکمرانی سے متعلق علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مشاورت کے درمیان ایک اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے برطانوی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے خفیہ ملاقات کی، جس میں غزہ کے انتظامی نظام کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل “کان 11” کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات خاموشی سے انجام دی گئی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس ملاقات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹونی بلیئر ایک ایسے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں غزہ کے کچھ حصوں کا انتظام عارضی اور تجرباتی بنیادوں پر فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کیا جائے۔ اگر یہ مرحلہ کامیاب ہوا تو بعد میں یہ اختیار مزید علاقوں تک پھیلایا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے اندرونی ڈھانچے میں اصلاحات کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل بظاہر غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار کا مخالف رہا ہے، لیکن حالیہ عرصے میں اس تصور کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا اور یہ موضوع اسرائیلی سکیورٹی اور فوجی حلقوں میں بھی زیر بحث آ چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلیئر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں اس منصوبے کی کھلی مخالفت سامنے نہیں آئی، اگرچہ اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسی دوران بتایا گیا ہے کہ ٹونی بلیئر نے کئی عرب ممالک سے بھی بات چیت کی ہے تاکہ نیتن یاہو اور عرب ممالک کے درمیان ایک فریم ورک تیار کیا جا سکے جس کے تحت غزہ کے بعض علاقوں کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کیا جا سکے۔
ادھر اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے مطابق امریکہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر غزہ کے انتظام کے لیے ایک عارضی کمیٹی بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایک بین الاقوامی “امن کونسل” کے تحت کام کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمیٹی ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق دوسرے مرحلے کے منصوبے کا حصہ ہو گی۔
ایک اور اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹونی بلیئر کو غزہ میں ممکنہ عبوری حکومت کی سربراہی کے لیے ایک اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی کے نام سے پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک بین الاقوامی کونسل تین سے پانچ سال تک غزہ کا انتظام سنبھالے گی، جس کے بعد اختیارات ایک نام نہاد اصلاح شدہ فلسطینی حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، جس کی نوعیت ابھی واضح نہیں۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ کونسل میں بین الاقوامی سفارت کار، معاشی ماہرین اور سرمایہ کار شامل ہوں گے، جن میں یورپی اور امریکی شخصیات کے نام بھی زیر غور ہیں۔ اسی دوران یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کا ایک 20 نکاتی منصوبہ جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور غزہ کے انتظام کو ایک غیر سیاسی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے پر مشتمل ہے، جبکہ اس منصوبے میں حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو مکمل طور پر سیاسی کردار سے باہر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیئر کو اسی ممکنہ عبوری نظم و نسق کی قیادت کے لیے ایک مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ وہ اسرائیل، مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ کے بعد غزہ کے انتظامی ڈھانچے کو منظم کر سکیں۔


مشہور خبریں۔
مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے دعا کرنے والے فلسطینی کی گرفتاری
?️ 19 اپریل 2022سچ خبریں: میڈیا نے آج منگل کو اطلاع دی ہے کہ سعودی
اپریل
الحشد الشعبی کے ٹھکانے پر راکٹ حملہ
?️ 18 اپریل 2021سچ خبریں:عراقی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ کرکوک میں عوامی
اپریل
امریکہ کی عالمی حکمرانی میں ناکامی
?️ 29 اکتوبر 2025سچ خبریں:چین، روس اور ایران کی مشترکہ اپیل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی
اکتوبر
عراق میں اپنے ہی فوجیوں کے خلاف امریکہ کی خفیہ کارروائی
?️ 28 ستمبر 2025سچ خبریں: عراقی پارلیمان کے رکن یوسف الکلابی نے کہا ہے کہ
ستمبر
صحافی کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال، قاسم سوری کے نیشنل پریس کلب میں داخلے پر پابندی
?️ 30 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سینئر صحافی سلیم صافی کے خلاف بیان دینے پر
دسمبر
جمیعت علمائے پاکستان (نورانی گروپ) کا انتخابات میں پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان
?️ 21 جنوری 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) جمیعت علمائے پاکستان (نورانی گروپ) نے عام
جنوری
گوگل فوٹوز کے نئے فیچرز، اب تصاویر کو ویڈیوز اور کارٹون میں تبدیل کیا جاسکے گا۔
?️ 26 جولائی 2025سچ خبریں: گوگل نے اپنی مشہور ایپ گوگل فوٹوز میں نئے دلچسپ
جولائی
تاریخ میں پہلی مرتبہ F-35 کے مار گرانے کا امریکہ نے اعتراف کیا
?️ 19 مارچ 2026سچ خبریں: سی این این اور سینٹکام کے ترجمان نے اعتراف کیا
مارچ