?️
سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیر انصاف نے دعوی کیا کہ جو بائیڈن نے سعودی بادشاہ سے محمد بن سلمان کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ ہے۔
سابق اسرائیلی وزیر انصاف ویس بیلن نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اگر محمد بن سلمان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور محمد بن نائف سعودی عرب کے ولی عہد کی حیثیت سے اقتدار میں آئے تو تل ابیب اس اقدام کا خیرمقدم کریں گا، انہوں نے اسرائیل ہیوم اخبار میں لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز سے اپنے بیٹے کو تخت سے ہٹانے کےلیے کہا ہے، یوسی بلین نے لکھا کہ سلمان کے اقتدار میں آتے ہی بہت سے لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ولی عہد منتخب کریں گے اور تجربہ کار محمد بن نائف سے یہ عہدہ واپس لے لیں گے،چنانچہ ،دو سال بعد ایک نیم فوجی بغاوت کے تحت بن نائف کو معزول کیا گیا اور بن سلمان نے ان کی جگہ لے لی جبکہ وائٹ ہاؤس اور دیگر ممالک نے نوجوان ولی عہد شہزادہ کا استقبال کیا اس لیے کہ انھیں لگتا تھا کہ وہ عمل پسند ہے اور نئے سعودی کا ایک اچھا نمائندہ بن سکتا ہے۔
سابق صہیونی وزیر کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے اقتدار کے ابتدائی مہینوں میں خود کو ایک آزاد خیال اور خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والی شخصیت ہونے کی حیثیت سے ظاہر کیا اور خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی لیکن پھر انہوں نے انسانی حقوق کی کارکنوں کو حراست میں لینے اور شہزادوں اور امیروں کو قید کرنے کا بازار گرم کر لیا، اس کے بعد انھوں نے اکتوبر 2018 میں جمال خاشقجی کا قتل کرایا جس سےاگرچہ پوری دنیا ناراض تھی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کا مکمل طور پر ساتھ دیا۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے سے پہلے ولی عہد محمد بن نائف اور اس کے کزنوں کو اپنے چچا احمد ابن عبد العزیز سمیت قید کردیا کیونکہ وہ باپ بیٹا دونوں کے لیے خطرہ تھے کی بادشاہت کے لئے خطرہ لاحق تھا،تاہم ریاستہائے متحدہ میں جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کا محمد بن سلمان سے رابطہ نہ کرکے بادشاہ سے رابطہ کرنے میں بہت واضح پیغامات ہیں، انہوں نے حال ہی میں خاشقجی کے قتل سے متعلق ایک انٹلی جنس رپورٹ شائع کی جس میں بن سلمان کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، انہوں نے پیش گوئی کی کہ جو بائیڈن نے سعودی بادشاہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی جگہ محم بن نائف کو لے آئیں جو ایک دانشمندانہ اقدام ہے اور وہ اس پر اصرار کرتے رہیں گے۔
آخر میں سابق صہیونی وزیر نے لکھا کہ کیا محمد بن سلمان کی برطرفی اور محمد بن نائف کا ان کی جگہ پر آنا صیہونی حکومت کے مفاد میں ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ امریکہ تل ابیب کا واحد حقیقی حلیف ہے لہذا ریاستہائے متحدہ کے مفاد میں ہے وہ بلاشبہ اسرائیل کو فائدہ پہنچائے گا۔


مشہور خبریں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں کن ممالک کے رہنما شرکت کریں گے؟
?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ چینی صدر بعض
اگست
ہر روز جنگ میں مرنے والے بچوں کی تعداد 300 سے زائد
?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں: الصحفہ العالمیہ نیوز ایجنسی کے ذریعہ القاباتی کے حوالے سے بتایا
نومبر
کیا اب ٹوئٹر بھی ہو سکے گی ویڈیو کال؟
?️ 14 اگست 2023سچ خبریں: مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی
اگست
افغانستان اہم موڑ پر ہے، مزید تعامل کی ضرورت ہے: اقوام متحدہ
?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی
مارچ
سعودی وزیر خارجہ کے دورہ دمشق کے بارے میں متضاد خبریں
?️ 17 فروری 2023سچ خبریں:دمشق میں ایک باخبر ذریعے نے آج روس ڈیلی نیٹ ورک
فروری
غزہ کو غیر مسلح کرنا فلسطینیوں کی نسل کشی کو آسان بنانے کی سازش ہے:خالد مشعل
?️ 8 فروری 2026 غزہ کو غیر مسلح کرنا فلسطینیوں کی نسل کشی کو آسان بنانے
فروری
دو سال کی جنگ کے باوجود بھی اسرائیل فوج حماس کو شکست دینے ناکام رہی ہے
?️ 20 ستمبر 2025دو سال کی جنگ کے باوجود بھی اسرائیل فوج حماس کو شکست
ستمبر
امریکہ کی شام میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش
?️ 20 جنوری 2023سچ خبریں:شام نے تصدیق کی ہے کہ شامی حکومت کی شبیہ کو
جنوری