اسرائیلی سائبر کارروائیوں کے باعث جنوبی لبنان میں مواصلاتی خلل

اسرائیلی سائبر

?️

اسرائیلی سائبر کارروائیوں کے باعث جنوبی لبنان میں مواصلاتی خلل
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان کے شہریوں نے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز میں رکاوٹوں اور بار بار سروس منقطع ہونے کی شکایات درج کرائی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے پیچھے صہیونی رژیم کی الیکٹرانک اور سائبر کارروائیاں کارفرما ہیں۔
لبنان کی بڑی ٹیلی کام کمپنی تاچ نے تصدیق کی ہے کہ اس کی سروسز حالیہ دنوں میں بیرونی مداخلت کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں، خاص طور پر جونیہ کے علاقے میں۔ کمپنی کے مطابق ان رکاوٹوں نے صارفین کے رابطے اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے معیار کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ وہ وزارتِ مواصلات اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر مسائل کے حل پر کام کر رہی ہے، خاص طور پر اسپتال الزہرا میں جہاں صورتحال زیادہ سنگین ہے۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2024 میں لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے ساتھ ہی، اسرائیل نے دو بڑے جنگی الیکٹرانک نظام استعمال میں لائے تھے پہلا نظام AN/SLQ-32 ہے، جو امریکی بحریہ کے جہازوں پر نصب کیا جاتا ہے اور غالب امکان ہے کہ اسرائیلی بحری بیڑے میں بھی یہ نظام موجود ہے۔
دوسرا نظام اسرائیلی کمپنی التا (Israel Aerospace Industries) کا تیار کردہ اسکورپیوس ہے، جو ڈرونز، میزائلوں اور بحری جہازوں کے ریڈار و مواصلاتی نظام میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لبنانی انجینئر اور ٹیلی کام ماہر ایمن یاسر خاتوم نے العربی ویب سائٹ المدن کو بتایا کہ یہ رکاوٹیں مختلف طریقوں سے پیدا کی جاتی ہیں، جن میں برقی شور (Noise) کے ذریعے تمام فریکوئنسیز پر اثر ڈالنا، کسی مخصوص سیل ٹاور یا چینل کو ہدف بنانا، اور جعلی ٹاورز (BTS) قائم کر کے فونز کو دھوکہ دینا شامل ہیں۔
ان کے مطابق اسرائیل کے پاس ایسے جدید نظام موجود ہیں جو ساحلی علاقوں میں براہِ راست سگنل کو نشانہ بنا کر دور سے بھی مواصلاتی نیٹ ورکس میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
خاتوم نے خبردار کیا کہ اسرائیل سائبر وار کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی وہ 2006 کی جنگ اور 2024 کی جارحیت میں الیکٹرانک جنگی حربے استعمال کر چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کے مواصلاتی نیٹ ورکس کو اب محض عوامی سہولت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ انہیں قومی سلامتی کے ایک اسٹریٹجک جزو کے طور پر تحفظ دینا لازمی ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً ایک سال قبل بھی لبنان کی وزارتِ مواصلات نے اسرائیل کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ اس نے نہ صرف فون نیٹ ورکس بلکہ عالمی نظامِ مقامات (GPS) میں بھی مداخلت کی ہے، اور یہ شکایت اقوامِ متحدہ اور عالمی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کو بھیجی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

21 جون سے پرائمری اسکول کھول دئے جائیں گے

?️ 19 جون 2021سندھ(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت

امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کا داخلی بحران

?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں:ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث امریکی ایوان نمائندگان میں

برطانوی بادشاہ کی تاجپوشی پر عوام کے162 ملین پاؤنڈ خرچ:لندن کی سرکاری رپورٹ

?️ 21 مئی 2023سچ خبریں:برطانوی بادشاہ کی تاج پوشی پر 162 ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے

یمن میں ایرانی سفیر کورنا کے باعث جاں بحق

?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یمنی نیشنل سالویشن گورنمنٹ میں

امریکہ شام میں رکنے کا خواہاں؛ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض ایک بہانہ 

?️ 6 جون 2025سچ خبریں: امریکی میگزین دی انٹرسیپٹ نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس

محبوبہ مفتی، یوسف تاریگامی کی کشمیری ملازمین کے لیے نئے سوشل میڈیاقوانین کی مذمت

?️ 26 مارچ 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

وزیر خارجہ متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

?️ 17 اپریل 2021دبئی (سچ خبریں) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی 3 روزہ دورے

لبنان کو امریکہ توانائی کی فراہمی؛ بحران کا حل یا اس ملک کو وابستہ کرنے کا منصوبہ

?️ 11 اکتوبر 2021سچ خبریں:امریکہ کی جانب سے لبنان میں توانائی کے مسائل کو حل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے