روس کے سامنے امریکہ کے گھٹنے ٹیکنے سے عرب حکومتوں کو کیا سبق ملتا ہے؟؛ عبدالباری عطوان کا تجزیہ

عبدالباری عطوان

?️

سچ خبریں:عبدالباری عطوان کے مطابق، روس سے ڈیزل خریدنے کے لیے ٹرمپ کی کوشش آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات اٹھاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے یورپی اتحادیوں کو حیران کیا اور عرب حکومتوں کے لیے بھی اہم سبق سامنے لائے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے ڈیزل حاصل کرنے کی مبینہ طور پر تضحیک آمیز کوشش نے آبنائے ہرمز کے بارے میں ان کے بڑے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے اور ان یورپی و عرب اتحادیوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے جنہیں پہلے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے خریداری کرنے سے روکا جاتا رہا تھا۔

علاقائی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے روزنامہ رائے الیوم میں اپنے تجزیہ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے امریکہ کو ڈیزل فراہم کرنے کے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیوٹن کے سامنے گھٹنے ٹیکنا اور فوری طور پر رواں ماہ کے لیے 300,000 ٹن ڈیزل اور آئندہ نومبر کے لیے مزید 500,000 ٹن ڈیزل خریدنے کی درخواست کرنا، امریکی منڈیوں میں قیمتیں کم کرنے کی ایک مایوس کن کوشش ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کیا جا رہا ہے اور ایران کے ساتھ جنگ میں فوجی و سفارتی سطح پر شکست کا کھلا اعتراف بھی ہے۔

آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

عطوان نے مزید کہا کہ یہ اقدام اس بڑے دعوے کی نفی کی ایک اور مثال ہے جسے ٹرمپ بار بار دہراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز ان کے کنٹرول میں ہے اور وہاں سے تیل کی ترسیل اس سطح پر بحال ہو چکی ہے جو ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے بند کیے جانے سے پہلے تھی۔

تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ پیوٹن کے سامنے ٹرمپ کی یہ ’’تضحیک آمیز‘‘ پسپائی امریکی قانون سازوں کے لیے ایک بڑا دھچکا اور یورپی اتحادیوں کی پیٹھ میں زہریلا خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ اس اقدام نے دونوں فریقوں کو حیران کر دیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ گزشتہ ماہ ٹرمپ نے ایک ایسے بل پر دستخط کیے تھے جسے کانگریس نے بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا اور جس کے تحت روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر سخت پابندیاں عائد کی جانی تھیں۔

عطوان کے مطابق، ٹرمپ نے روس پر دباؤ بڑھانے اور اس کے خزانے میں آنے والی آمدنی کم کرنے کے لیے یہ پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ اس صورت حال میں کیا گیا کہ روس سعودی عرب کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک اور قطر کے بعد گیس برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔

ٹرمپ کے ہاتھوں دھوکا کھانے پر یورپ کا غصہ

عطوان نے کہا کہ یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، فرانس اور برطانیہ، نے اس اقدام پر اپنے غصے کو پوشیدہ نہیں رکھا۔ یہ ممالک یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اور ان کی فوج کو مالی و عسکری مدد فراہم کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہیں۔

 ان ممالک کے سرکاری بیانات اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مضامین میں اس ناراضی کی عکاسی ہوئی ہے۔

عطوان کے مطابق، یورپی حلقوں نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی اور ریپبلکن پارٹی کی تقریباً یقینی شکست سے بچنے کے لیے یوکرین کو انتہائی کم قیمت پر روس کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔

اگرچہ یہ معاہدہ امریکی منڈیوں میں چند دنوں کے لیے ڈیزل کی قیمتیں کم کر سکتا ہے، لیکن اس سے عوام اور ایوان نمائندگان و سینیٹ کے ارکان کا غصہ ختم نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، یہ اقدام محض ایک عارضی دردکش دوا کی مانند ہے، جو اصل بیماری کا علاج نہیں کرتی۔

ٹرمپ کے اقدام پر یورپ حیران

عطوان کے مطابق، یہ معاہدہ نیٹو اور یورپی دارالحکومتوں کے لیے حیران کن تھا اور اس نے ایک بار پھر ایران کی ثابت قدمی اور کامیابی کی تصدیق کی۔ ان کے بقول، یہ اقدام ایران کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہونے اور امریکی جارحیت کی حمایت کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی جہاز نہ بھیجنے سے متعلق یورپ کے سرکاری اور عوامی مؤقف کی درستی بھی ظاہر کرتا ہے۔

عطوان نے لکھا کہ یورپ جانتا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بنیادی طور پر اسرائیل کی جنگ ہے اور ایران ایک بڑی علاقائی طاقت ہے؛ وہ عراق یا افغانستان جیسا ملک نہیں ہے۔

ٹرمپ کی جنگوں کا بنیادی محرک تیل ہے

عطوان نے اپنے تجزیہ کے اختتام پر زور دیا کہ ٹرمپ کی جنگوں کا بنیادی محرک تیل ہے، تاکہ کھربوں ڈالر حاصل کیے جا سکیں اور امریکہ کو قرضوں کے بحران سے نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق، امریکہ کے قرضے اب تک 41 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور مہنگی و ناکام جنگوں کے باعث ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

عطوان کے مطابق، ٹرمپ کی بڑی غلطی، جس کی امریکہ کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور جس کے نتیجے میں وہ اپنے دوستوں سے بھی محروم ہو سکتا ہے، یہ سمجھنا تھا کہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا وینزویلا کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنے سے زیادہ آسان اور کم خرچ ہوگا۔

ٹرمپ عرب حکمرانوں کو بھی معمولی قیمت پر فروخت کر دیں گے

عطوان نے عرب حکومتوں کے سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں اور نیٹو کو تنہا چھوڑ دیا، یوکرین اور اس کے عوام کو فروخت کر دیا، اور آئندہ انتخابات میں کامیابی، اقتدار برقرار رکھنے اور تل ابیب میں اپنے صہیونی آقاؤں کی خدمت کے لیے زندگی بچانے کا سہارا حاصل کرنے کی خاطر عجلت اور تذلیل کے ساتھ پیوٹن سے رجوع کیا، وہ یقیناً عرب حکمرانوں کو بھی انتہائی کم قیمت پر فروخت کر دیں گے۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں شکست تسلیم کر لی ہے

تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی قیادت مشرق وسطیٰ میں اپنی شکست تسلیم کر چکی ہے اور اسے اس حقیقت کا یقین ہو گیا ہے۔ عطوان کے مطابق، امریکی سلطنت غیر معمولی تیزی سے برطانوی اور فرانسیسی سلطنتوں کے راستے پر چل رہی ہے اور خطے سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کے مطابق، عراق، کردستان اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو خالی کرنے کے اقدامات کی یہی توجیہ ہے۔ عطوان کا کہنا ہے کہ حالیہ ناکامیوں اور ایرانی میزائل و ڈرون حملوں سے اپنے اڈوں اور میزبان ممالک کا دفاع کرنے میں ناکامی کے بعد امریکہ یہ اقدامات کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

آئی ٹی پارکس سمیت دیگر کمپنیوں کو بلاتعطل انٹرنیٹ فراہمی کیلئے پالیسی فریم ورک پر کام شروع

?️ 18 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر کے آئی ٹی پارکس، سافٹ ویئر

کیا امریکہ غزہ میں جنگ روکنا چاہتا ہے؟

?️ 21 مارچ 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سینئر رکن نے

پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع، مسلم لیگ (ن) ارکان کی سیکیورٹی گارڈز سے جھگڑا

?️ 10 جنوری 2023لاہور: (سچ خبریں) پنجاب اسمبلی کا اجلاس 3 گھنٹے تاخیر کے بعد

پوٹن حملہ کرے یا نہ کرے اسے قیمت چکانی ہوگی: پیلوسی

?️ 20 فروری 2022سچ خبریں:  امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے جرمنی میں

 قطر کی شاہی سخاوت؛امریکہ کو 400 ملین ڈالر کا بوئنگ طیارہ بطور تحفہ!

?️ 13 مئی 2025 سچ خبریں:امریکی حکومت نے قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے

کیا محمد شیاع السوڈانی دوبارہ عراق کے وزیراعظم بنیں گے؟

?️ 13 نومبر 2025سچ خبریں: موجودہ تخمینوں کے مطابق، شیعہ برادری عراق کے پیر کے روز

اسرائیل نے فرانس کے لبنان سے انخلاء کے منصوبے کو مسترد کیا

?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں: لبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے