ایران کے خلاف جنگ؛ ٹرمپ کے لیے انتخابی ڈراؤنا خواب

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور اقتصادی دباؤ کے باعث ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے آئندہ وسط مدتی انتخابات میں سیاسی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ایران کے خلاف جنگ نے بعض ایسی ریاستوں میں بھی سیاسی رجحانات تبدیل کردیئے ہیں جو ماضی میں ریپبلکن پارٹی کے مضبوط اور محفوظ گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔

امریکی جریدے پولیٹیکو نے ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے سیاسی اثرات پر ریپبلکن پارٹی میں بڑھتی ہوئی تشویش کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی معیشت پر بڑھتے دباؤ نے اسے آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ایک بڑی کمزوری بنا دیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ ریاستیں بھی سیاسی تبدیلی کی زد میں آ گئی ہیں جو کبھی ریپبلکن پارٹی کا محفوظ گڑھ سمجھی جاتی تھیں۔

  1. ایران کے خلاف جنگ؛ ریپبلکن پارٹی کی شکست کے لیے ایندھن

ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی ووٹرز پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب پٹرول کی قیمت تقریباً 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، ریپبلکن رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ جنگ کا اثر براہِ راست ووٹوں پر پڑے گا۔

  1. امریکی کسان جنگ اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے دباؤ میں

امریکی کسانوں کو محصولات، ڈیزل اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں اور گوشت کی درآمدات سمیت متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ زرعی ریاستوں میں یہ دباؤ ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی بحران میں تبدیل ہورہا ہے اور حتیٰ کہ بعض ریپبلکن کسان بھی ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے لگے ہیں۔

  1. ایران نے سینیٹ کا انتخابی نقشہ تبدیل کردیا

پولیٹیکو کے مطابق اگر ڈیموکریٹس مشی گن میں اپنی نشست برقرار رکھنے اور اوہائیو اور آئیووا میں ریپبلکن پارٹی کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو سینیٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی ان کی راہ کافی آسان ہوجائے گی۔ بالخصوص آئیووا ٹرمپ کے حامی ووٹرز کے رویے میں تبدیلی کا ایک اہم اشارہ ثابت ہوسکتی ہے۔

  1. امریکہ کے قلب میں جنگ فارماگڈن

ڈیموکریٹس کسانوں کی ناراضی کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کو وسیع تر اقتصادی بحران کی علامت بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئیووا میں ریپبلکن پارٹی کے ڈیموکریٹ حریف نے موجودہ زرعی صورتحال کو دوسرا زرعی بحران اور فارماگڈن قرار دیا ہے۔

  1. عوامی ناراضی حساس ریاستوں سے آگے بڑھ گئی

ناراضی کی لہر صرف مغربی ریاستوں تک محدود نہیں رہی۔ جنوبی ریاستوں میں بھی ریپبلکن پارٹی کو ناموافق انتخابی جائزوں کا سامنا ہے، جبکہ مین اور الاسکا جیسی ریاستیں بھی، جن کی معیشت ایندھن اور تجارت پر انحصار کرتی ہے، ٹرمپ کی جماعت کے حریف کی جانب مائل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

  1. ٹرمپ جنگ اور انتخابات کے درمیان پھنس گئے

ایران کے خلاف جنگ کی امریکی عوام میں مقبولیت کم ہوکر تقریباً 30 فیصد رہ گئی ہے، تاہم جنگ کا خاتمہ بھی تہران کے فیصلے سے وابستہ ہے۔ ریپبلکن پارٹی کو اب ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے: جنگ جاری رہنے سے توانائی کی قیمتیں بلند رہیں گی، جبکہ کسی واضح کامیابی کے بغیر جنگ ختم کرنا ٹرمپ کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

  1. آبنائے ہرمز انتخابی مسئلہ بن گئی

جب تک آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر واضح رہے گی، تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی توقع مشکل ہے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ کا ایک جغرافیائی و تزویراتی مقام براہِ راست امریکہ کے داخلی سیاسی مسئلے میں تبدیل ہوگیا ہے اور یہ ریپبلکن امیدواروں کے انتخابی مستقبل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

  1. ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کی اکثریت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں

پولیٹیکو کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی گہری تشویش یہ ہے کہ ٹرمپ اپنی ذاتی سیاسی میراث، سیاسی کشمکش اور متنازع اقدامات میں مصروف رہتے ہوئے کانگریس میں پارٹی کی اکثریت سے محروم ہوسکتے ہیں۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں کا خیال ہے کہ ٹرمپ پارٹی کی اکثریت برقرار رکھنے کے بجائے اپنی ذاتی ترجیحات میں زیادہ مصروف ہیں۔

خلاصہ

پولیٹیکو کی رپورٹ نے ایران کے خلاف جنگ کو ایک خارجہ پالیسی بحران سے آگے بڑھاتے ہوئے ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابی خطرے سے جوڑا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، کسانوں پر بڑھتا اقتصادی دباؤ اور جنگ کی گرتی ہوئی مقبولیت ایسی ناراضی کو جنم دے رہی ہے جو وسط مغربی حساس ریاستوں سے آگے بھی پھیل سکتی ہے۔

اس صورتحال میں آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا مطلب ٹرمپ انتظامیہ کے لیے جنگ کی اہم ترین داخلی اقتصادی لاگت میں سے ایک کا بھی برقرار رہنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

بشار اسد نے جنگ جیت لی: سابق امریکی سفیر

?️ 13 نومبر 2021سچ خبریں: شام میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ فورڈ نے شام

ایڈمرل نوید اشرف نے پاک بحریہ کے سربراہ کا منصب سنبھال لیا

?️ 7 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل امجد خان

عراق کی جانب سے تہران واشنگٹن ممکنہ معاہدے اور علاقائی استحکام کی حمایت پر زور

?️ 13 جون 2026سچ خبریں: عراق کے وزیرِ خارجہ فؤاد حسین نے واشنگٹن اور تہران

مائیکروسافٹ کا اسکائپ میں اہم تبدیلی لانے کا فیصلہ

?️ 30 ستمبر 2021نیویارک (سچ خبریں) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ کی زیر ملکیت ایپ

سعودی اتحاد کو یمن میں ایک اور شکست

?️ 22 مارچ 2021سچ خبریں:یمن کے صوبہ تعز کے جنوب میں سعودی اتحاد کو اس

اسرائیل کی جارحیت کیخلاف پاکستان کی حمایت کبھی فراموش نہیں کریں گے، ایرانی سفیر

?️ 26 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم

میدان میں صرف جیالے ہیں، شیر تو گھر میں چھپا بیٹھا ہے، بلاول بھٹو

?️ 17 جنوری 2024سندھ: (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے

لبنان میں حزب اللہ کے مقابلے میں صیہونی فوج کو سنگین مشکلات کا سامنا؛ صیہونی میڈیا کا اعتراف

?️ 26 اپریل 2026سچ خبریں:صیہونی اخبارات نے رپورٹ دی ہے کہ لبنان میں حزب اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے