ایران کے مقابلے میں ٹرمپ ایک پیچیدہ بحران میں گرفتار؛ فنانشل ٹائمز کا تجزیہ

ٹرمپ

?️

سچ خبریں:فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ ایسے بحران میں پھنس گئے ہیں جس کی انہوں نے کبھی توقع نہیں کی تھی، جبکہ توانائی کی قیمتیں، خلیجی ممالک کا ردعمل اور امریکی عوامی رائے ان کے لیے بڑا چیلنج بن رہے ہیں۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے مقابلے میں ایسے بحران میں گرفتار ہو گئے ہیں جس کا انہوں نے پہلے کبھی اندازہ نہیں لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی حکومت نے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ بندی کے لیے امریکہ سے مدد طلب کی: انصاراللہ 

اس تجزیاتی مضمون کے آغاز میں لکھا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کا اعلان جلد سامنے آ سکتا ہے۔

تجزیے کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ یہ لمحہ اس بات سے کم متعلق ہے کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں یا نہیں، اور زیادہ اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ ذاتی دباؤ اور مشکلات کو کتنی دیر تک برداشت کر سکتے ہیں۔

اخبار کے مطابق ایران کی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت ٹرمپ سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ ممکنہ طور پر اپنی واپسی کو ایک فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ ایران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ دنیا اس دعوے پر یقین نہ کرے۔ یہی صورتحال دراصل ٹرمپ کے خود پیدا کردہ بحران کی بنیاد ہے۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ اگر ٹرمپ اس صورتحال کی پیشگی پیش بینی کر لیتے تو وہ کئی مؤثر اقدامات کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ایک مشکل بحران میں پھنس گئے ہیں۔

اخبار کے مطابق ان اقدامات میں سے ایک یہ ہو سکتا تھا کہ امریکہ اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر کو مضبوط بناتا، جو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد نمایاں حد تک کم ہو گئے تھے اور دوبارہ بحال نہیں کیے گئے۔ تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں شدید اضافے کے باوجود پیشگی تیاری نہ کرنا ایک بڑی غلطی ثابت ہوا۔

دوسرا اقدام یہ ہو سکتا تھا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے خلیج فارس کے ممالک کی حمایت حاصل کی جاتی، تاہم واضح اہداف کے فقدان کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اب ٹرمپ کو ایک ناراض اور حساس خلیجی خطے کا سامنا ہے۔

تیسرا اقدام امریکی عوام کو ایک طویل جنگ کے لیے تیار کرنا تھا، مگر فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ بھی نہیں کیا گیا۔

اخبار نے سوال اٹھایا کہ آیا ٹرمپ اب اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ مستقبل کے نتائج کا اندازہ نہ لگانے کے کیا نقصانات ہوتے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ حتیٰ کہ ایک کمزور ایران بھی خلیج فارس میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت کو متاثر کر سکتا ہے اور خطے کی توانائی پیداوار کو روک سکتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق جب تک ایران پر مکمل قبضہ نہ کیا جائے، ٹرمپ آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اسی طرح ڈرونز کی پیداوار غیرمرکزی نوعیت کی ہے اور فضائی حملوں کے ذریعے ان کے تمام مراکز کو ختم کرنا ممکن نہیں۔

اخبار نے ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے آئندہ رہبر کے انتخاب میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ امریکہ کو افغانستان میں طالبان کو ہٹانے اور دوبارہ طالبان کے اقتدار تک پہنچنے میں بیس سال لگے، جبکہ اب ٹرمپ کو ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ایک خامنہ ای کی جگہ دوسرے خامنہ ای کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

اس تجزیے کے مطابق اس صورتحال میں ٹرمپ کے لیے جنگ بندی حاصل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے، کجا کہ ایران کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی توقع پوری ہو۔

فنانشل ٹائمز نے ٹرمپ کے سامنے دو انتہائی خطرناک آپشنز کا بھی ذکر کیا۔

پہلا آپشن یہ ہے کہ امریکی یا اسرائیلی خصوصی فورسز کو اصفہان بھیجا جائے تاکہ ایران کے پاس موجود تقریباً چار سو کلوگرام افزودہ یورینیم کو قبضے میں لیا جا سکے۔ یہ اقدام بظاہر ایک بڑی کامیابی بن سکتا ہے، مگر اس میں جمی کارٹر کے دور میں ایران میں یرغمالیوں کو آزاد کرانے کی ناکام فوجی کارروائی جیسا خطرہ بھی موجود ہے۔

دوسرا آپشن جزیرہ خارک پر قبضہ کر کے ایران کی تیل برآمدات کو روکنا ہے۔ تاہم یہ اقدام زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر امریکی زمینی افواج کی ضرورت پڑے گی اور اس سے جنگ طویل ہو سکتی ہے اور عالمی تیل بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے امریکی عوام کی حمایت صرف ایک ہفتے کے اندر اس سطح تک گر گئی ہے جو ویتنام جنگ کے دوران 1967 کے آخر میں دیکھنے میں آئی تھی۔ موجودہ حالات میں امریکہ میں چند درجن ہلاکتوں کو بھی برداشت کرنے کی سیاسی گنجائش موجود نہیں۔

اس اخبار کے مطابق اگر ٹرمپ یکطرفہ طور پر فتح کا اعلان بھی کرتے ہیں تو انہیں اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں بھی یہ خطرہ باقی رہے گا کہ ایران عالمی توانائی کی منڈی میں خلل ڈالنے کے ذریعے دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں ٹرمپ کی کمزوری ہیں۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے لیے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کا سب سے قابل اعتماد راستہ جوہری صلاحیت تک پہنچنا ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا دیا جائے تب بھی اس پروگرام کو مکمل طور پر روکنے کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔

اخبار کے مطابق شمالی کوریا کی طرح ایک مضبوط دفاعی حیثیت حاصل کرنے کی منطق ایران کے لیے بھی پرکشش ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ روس اور شمالی کوریا بھی اس سلسلے میں تعاون کے لیے آمادہ ہوں۔

آخر میں فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ اس جنگ کا ایک ایسا نتیجہ بھی ہے جسے ٹرمپ شاید کبھی درست نہیں کر سکیں گے اور وہ ہے امریکہ پر عالمی اعتماد کا کمزور ہونا۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کے دعوے بے نقاب؛ امریکی حملوں سے ایرانی ایٹمی پروگرام تباہ نہ ہو سکا، سی این این اور دیگر ذرائع کی تردید

اخبار کے مطابق اگرچہ وقت کے ساتھ تیل کی قیمتیں دوبارہ مستحکم ہو سکتی ہیں، مگر دنیا ٹرمپ حکومت کی اس پالیسی کو یاد رکھے گی جس میں طاقت کے مظاہرے اور فوجی قوت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ جنگ ہمیشہ آخری اور انتہائی سنجیدہ آپشن ہوتا ہے جو اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب دیگر تمام راستے بند ہو جائیں، لیکن اس معاملے میں واضح تھا کہ دوسرے راستے موجود تھے، اس کے باوجود جنگ کا انتخاب کیا گیا۔

مشہور خبریں۔

افریقی شیروں کی مشق میں اسرائیلی فوج کی شرکت نے مراکشی باشندوں کو غصے میں ڈال دیا ہے

?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: مراکش میں "افریقی شیر” مشق میں اسرائیلی فوج کی شرکت

افغانستان کے قیام امن میں پاکستان کا اہم کردار

?️ 4 جون 2021(سچ خبریں)  پاکستان اور تاجکستان کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا

پی ایم ڈی سی نے میڈیکل طلبہ کیلئے اہلیت کے معیار کو 50 فیصد تک کم کردیا

?️ 21 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی

دنیا بھر میں فیس بک، تھریڈز اور انسٹاگرام کی سروس ڈاؤن،ایک گھنٹے بعد سروس بحال

?️ 6 مارچ 2024سچ خبریں: پاکستان سمیت دنیا بھر میں 5 مارچ کی شب 8

شمالی وزیرستان؛ سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ ناکام، چار خوارج ہلاک، 4 جوان شہید

?️ 19 دسمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے بویا

غزہ کے لیے ٹرمپ کا امن منصوبہ اور اس کی ناکامی کی وجوہات

?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں:غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ، دو دہائیوں

سالوں کے بعد شام کے وزیر خارجہ نے قاہرہ میں اپنے مصری ہم منصب سے ملاقات کی

?️ 2 اپریل 2023سچ خبریں:شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد آج صبح قاہرہ پہنچے اور

عمان نے صیہونی حکومت کے لیے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے سے انکار کیا

?️ 19 اگست 2022سچ خبریں:    عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ عمان نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے