?️
(سچ خبریں) پاکستان اور تاجکستان کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکا کے افغانستان سے جانے کے بعد وہی صورتحال پیدا نہ ہو جائے جو روس کے افغانستان سے جانے کے بعد ہوئی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے تاجک صدر رحمانوف سے ملاقات اور اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ خطے کی ترقی کا انحصار بھارتی رویے اور افغان امن پر ہے، ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم کے ممالک منظم ہوں تو علاقہ پاور ہائوس بن جائے گا، اس کے لیے انہوں نے یورپی یونین کی مثال دی ہے لیکن پھر یہی کہا ہے کہ بھارتی رویہ بدلنے تک سب رکا رہے گا۔ وزیراعظم کی بات میں وزن ضرور ہے لیکن سارا الزام دوسری قوتوں پر ڈالنے کا رویہ درست نہیں ہے۔
افغان امن میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، بلکہ پاکستان اس سارے عمل میں قیادت کی پوزیشن میں ہے۔ اس کی مرضی امریکا پر بھی چل سکتی ہے اور افغانستان پر بھی لیکن اس کے لیے قیادت کو جرأت اور حکمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
وزیراعظم کا یہ کہنا بجا ہے کہ خطے ترقی کرتے ہیں لیکن جب تک ملک ترقی نہیں کریں گے خطے کیسے ترقی کریں گے۔ جہاں تک روس کے انخلا کے وقت پیدا ہونے والے حالات کا تعلق ہے تو اس میں بھی پاکستان کا رول بہت اہم ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں متبادل قیادت کے لیے اپنی مرضی مسلط کرنے کی ضرورت نہیں جن لوگوں نے 20 برس میں امریکا کی ٹھکائی کی ہے وہ افغانستان میں اپنی جگہ خود بنا لیں گے بلکہ پاکستان کو ان کی مدد اور حمایت کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی یقینی ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد وہی حالات ضرور پیدا ہوں گے جو روس کے انخلا کے وقت ہوئے تھے۔
روس نے دس سال میں جتنی خرابیاں پیدا کی تھیں امریکا نے 20 برس میں اس سے کہیں زیادہ خرابیاں پیدا کی ہیں اس پر طرہ بھارت کی وہاں موجودگی سے حالات تو پیدا ہوں گے لیکن ان حالات کو بھی طالبان خود ٹھیک کر سکتے ہیں لہٰذا پاکستان افغان امن کے لیے اب امریکی انخلا اور طالبان کی حمایت پر زور دے۔
اس موقع پر اقتصادی تعاون تنظیم کا جو اعلامیہ جاری ہوا ہے وہ بھی قابل غور ہے۔ اعلامیے کی اہم ترین بات یہ ہے کہ اسلامو فوبیا کے ذریعے دنیا کو اسلام سے دور کیا جا رہا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے ایسا ہمیشہ ہوا ہے اب بھی ہو رہا ہے لیکن ایسے حالات کے لیے اسلام نے کچھ رہنمائی کی ہے۔
اسلام پر حملے تو ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں لیکن اس سے دور کرنے کی کوشش اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسلام کے نام لیوا صرف نام لیوا رہ جاتے ہیں۔ ورنہ مسلمان تاجروں کی ایمانداری دیکھ کر بستیوں کی بستیاں ایمان لے آئیں۔ ان کی شجاعت سے متاثر ہو کر گروہ در گروہ لوگ ایمان میں داخل ہوئے۔ جب تک مسلمان اپنی زندگی میں اپنے تمام معاملات میں اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کرتے رہے اس کے مطابق اپنے معاملات چلاتے رہے کوئی اسلامو فوبیا اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔
اب بھی اسلام سے دنیا کو دور کرنے میں اسلامو فوبیا سے زیادہ مسلمانوں کی دو رنگی کا دخل ہے، ہمارے حکمرانوں کی کمزوری کا دخل ہے، اگر یہ معاملات درست ہو جائیں تو اسلامو فوبیا کے حملے اپنی جگہ رہیں گے اسلام دنیا میں زیادہ زور دار طریقے سے پھیلتا چلا جائے گا۔


مشہور خبریں۔
روسی گیس کی سپلائی منقطع ہونے سے یورپ کے گھٹنے ٹیکنے کا امکان
?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:ہنگری کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے روس کی جانب
ستمبر
صحافیوں کے خون کے دھبے کس کے چہرے پر ہیں؟
?️ 9 جنوری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی صحافی حمزہ الدحدوح کی شہادت
جنوری
300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے فیول ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
?️ 4 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف کے کم بجلی استعمال کرنے والے
ستمبر
اسمبلی تحلیل کرنا جمہوریت پسند انسان کیلئے مشکل ہے، گورنر پنجاب
?️ 13 جنوری 2023لاہور:(سچ خبریں) گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کہا ہے کہ اسمبلی عوام
جنوری
حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے باوجود انتظامی اور پنشن اخراجات 161 ارب روپے تک پہنچ گئے
?️ 8 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کے سول ایڈمنسٹریشن اور پنشن کی ادائیگیوں
دسمبر
Democratic Party politician calls Prabowo ‘cardboard general’
?️ 25 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
اگست
پاکستان نے صیہونی حکومت کے فضائی حملے کو نسل کشی قرار دے دیا
?️ 13 ستمبر 2024سچ خبریں: پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے
ستمبر
عراق کا قرض کتنا ہے؟
?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:اس ملک کے وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کے مالیاتی مشیر
جنوری